بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینمحترمہ فاطمہ جناح

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
محترمہ فاطمہ جناح
اصول پسندی ، حب الوطنی، غیرت مندی، دیانتداری، وقار ، متانت، حق گوئی، بے باکی، عزم وہمت ، یہ ساری خوبیاں اس ہستی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے ہم سب فاطمہ جناح کے نام سے جانتے ہیں
اصول پسندی ، حب الوطنی، غیرت مندی، دیانتداری، وقار ، متانت، حق گوئی، بے باکی، عزم وہمت ، یہ ساری خوبیاں اس ہستی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جسے ہم سب فاطمہ جناح کے نام سے جانتے ہیں۔ان کی ملی خدمات کی بنا پر قوم نے انہیں خاتونِ پاکستان اور مادرِ ملت کے لقب سے نوازا۔ جو ہر دلعز یزی ان کے حصے میں آئی، ان سے پہلے اور ان کے بعد کسی پاکستانی خاتون کے حصے میں نہیں آئی۔
محترمہ فاطمہ جناح قائداعظم کی سب سے چھوٹی بہن تھیں۔ آپ کا اصل نام فاطمہ بائی تھا لیکن شہرت فاطمہ جناح کے نام سے پائی۔ آپ کے والد کا نام جناح پونجا اور والدہ کا نام شکینہ مٹھی بائی تھا۔ قائدعظم کے علاوہ فاطمہ جناح کے دوسرے بھائیوں اور بہنوں ے نام یہ تھے بندے علی، احمد علی، رحمت بائی، مریم بائی، شیریں بائی،۔ ان کا ایک بھائی بھی تھا جو سب سے چھوٹا تھا۔ اسے پیار سے چھوٹو یا بچو بھائی کہاجاتا تھا وہ بہت کم سنی میں فوت ہو گیا تھا۔
محترمہ فاطمہ جناح ابھی بہت کمسن تھی کہ 1893 میں ان کی والدہ وفات پاگئیں اور 1901 میں والد کا سایہ بھی سر سے اُٹھ گیا۔ اس وقت ان کی عمر نو یا دس سال تھی۔ بڑے بھائی قائداعظم نے چھوٹی بہن کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور ان کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ پہلے انہوں نے فاطمہ جناح کو باندرہ کا نوینٹ میں داخل کرایا۔ چند سال بعد وہ میٹرک کی تعلیم کے لئے کھنڈالہ ہائی سکول میں داخل ہوئی۔ وہاں سے فارغ ہو کر پرائیوٹ طالبہ کی حیثیت سے سینئیر کیمبرج کا امتحان دیا پھر کلکتہ جا کر انہوں نے ڈاکٹر احمد ڈینٹل کالج میں داخلہ لیا اور بیچلر آف ڈینٹل سرجری(بی ڈی ایس) کی ڈگری حاصل کی۔ بمبئی آکر انہوں نے ایک ڈینٹل کلینک کھولا لیکن چند سال بعد جب قائداعظم کی بیوی رتن بائی انتقال کر گئی تو فاطمہ جناح نے اپنا تمام وقت قائداعظم کی دیکھ بھال کرنے کی خاطر اپنا کلینک بند کر دیا۔
قائداعظم کو اپنی یہ بہن بہت عزیز تھیں اور وہ ہمیشہ ان کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ 1937 میں لکھنوٴ میں مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس قائداعظم کی زیر صدارت منعقد ہوا تو محترمہ فاطمہ جناح پہلی مرتبہ اس میں شریک ہوئیں۔اس کے بعد وہ جدوجہد آزادی کے نہایت کٹھن اور نازک دور میں اپنے مشفق بھائی کی ہر طرح دیکھ بھال کرتی رہیں۔انہوں نے مسلم خواتین کی تعلیم، سیاسی اور معاشرتی ترقی کے لئے بے انتہا کام کیا۔ وہ آل ایڈیا مسلم لیگ کے شعبہ خواتین کی سر پرست تھیں۔ قائداعظم نے اگست 1947 میں کراچی میں تقریر کرتے ہوئے فاطمہ جناح کی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا:
”فاطمہ میرے لیے حوصلہ افزائی اور تقویت کا مستقل ذریعہ ہے جن دنوں اس بات کا خطرہ تھا کہ انگریز حکومت مجھے گرفتار کر لے گئی یہ میری بہن ہی تھی جس نے میرا حوصلہ بلند رکھا اور اس وقت جب انقلاب رونما ہونے کو تھا اس نے امید افزاء باتیں کیں اورمیری صحت کا ہمیشہ خیال رکھا۔“
محترمہ فاطمہ جناح نے بے پناہ خلوص، لگن اور اعتماد کے ساتھ تحریک پاکستان میں حصہ لیا اور اپنے آپ کو قائداعظم کا دست وبازو ثابت کیا۔ جس صوبے میں مسلم لیگ کا اجلاس ہوتا،اس کے ساتھ خواتین، کا اجتماع بھی منعقد ہوتا تھا۔فاطمہ جناح ان جلسوں سے خطاب فرماتیں اور خواتین کو تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لینے کی تلقین کرتیں۔ ان کے اپنے نصب العین کی طاقت پر پورا یقین تھا۔ان کے عزم اور حوصلے نے مسلمان خواتین کی ہمت بندھائی اور انہوں نے بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا اور پاکستان کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ چنانچہ ایک موقع پر قائداعظم نے فرمایا۔ کہ پاکستان بنانے میں جن عناصر نے میرا ساتھ دیا ان میں فاطمہ جناح سر فہرست ہیں۔ شب و روز کی لگاتار محنت سے قائداعظم میں علالت کے آثار نمودار ہوئے تو فاطمہ جناح نے ہر گھڑی ان کے آرام اور علاج کا خیال رکھا اور آخری لمحات تک ان کی نگہداشت کرتی رہیں۔
11ستمبر 1948 کو قائداعظم نے پیک اجل کو لبیک کہا تو فاطمہ جناح کی زندگی کا نہایت پر آشوب دور شروع ہوا۔ وہ فطرتاََ بری نڈر، دلیر، حق گو اور جمہوریت پسند واقع ہوئی تھیں۔ اگر انہیں جاہ ومنصب کی حرص ہوتی تو اربابِ اقتدار کی ہاں میں ہاں ملاکر سب کچھ حاصل کر سکتی تھیں لیکن جب انہوں نے لوگوں کو قائداعظم کے اصولوں نے انحراف کرتے ہوئے دیکھا تو پوری قوت سے ان کے خلاف آواز بلند کی۔
ان کی آواز کو دبانے کی پوری کوشش کی گئی اورایسے حالات پیدا کر دئیے گئے کہ وہ کچھ عرصے کے لئے سیاست سے کنارہ کش ہونے پر مجبور ہو گئیں لیکن جب قوم کو ایک آمرہ کی قاہری کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کی ضرورت پڑی تو پیرانہ سالی کی باوجود وہ جرأت اور ہمت کی علامت بن کر 1964 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے میدان میں آگئیں۔ انہوں نے پورے ملک کا طوفانی درہ کیا۔ بیسیوں جگہ بڑے بڑے اجتماعات سے خطاب کیا اور سارے ملک میں جمہوریت کی روح پھونک دی۔ صدارتی انتخاب میں فریق مخالف کو کس طرح کامیابی حاصل ہوئی یہ ایک الگ داستان ہے ۔ اس انتخاب کے بعد وہ ای بار پھر گوشہ نشین ہو گئیں البتہ سماجی اور فلاحی کاموں کی سرپرستی جاری رکھی یہاں تک کہ خالق حقیقی کا بلاوا آپہنچا اور 9جولائی 1967 کی صبح لوگوں نے آپ کو اپنے بستر پر ابدی نیند سوئے ہوئے دیکھا۔
فاطمہ جناح نے ساری زندگی عالم تجرد میں گزاری۔ آپ نے کسی بھی موڑ پر اصولوں پر سمجھوتہ نہ کیا اور انتہائی نامساعد حالات میں بھی اپنے مبنی برحق موٴقف سے دستبردار ہونا گوارا نہ کیا۔ آپ ساری عمر کی قوم صحیح سمت میں رہنمائی کرتی رہیں۔ ایسی بلند ہمت خواتین کسی قوم میں صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔

(2) ووٹ وصول ہوئے