بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینمدر ٹریسا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مدر ٹریسا
بیسویں صدی میں انسانیت کی خدمت کے لئے زندگی وقف کر دینے والے افراد اور اداروں میں ایک نمایاں ترین نام مدر ٹریسا اور ان کے قائم کردہ ادارے کاہے
بیسویں صدی میں انسانیت کی خدمت کے لئے زندگی وقف کر دینے والے افراد اور اداروں میں ایک نمایاں ترین نام مدر ٹریسا اور ان کے قائم کردہ ادارے کاہے۔ انہوں نے 50برس تک بلا تخصیص رنگ و نسل اور مذہب وقوم ،بیمار اور بے سہارا افراد کی خدمت کی ۔ ان کی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا اور 1979 میں انہیں امن کے نوبل پرائز سے نوازا گیا۔
مدر ٹریسا کا حقیقی نام ایگنس گونژیا بوجاژیو تھا۔ وہ 1910 میں مقدونیہ کے قصبے سکوبچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین البانیہ سے تعلیق رکھتے تھے۔ سکوبچی اس وقت عثمانی سلطنت کاایک حصہ تھا۔ آج کل اسے مقدونیہ کے دارالحکومت کی حیثیت حاصل ہے۔ مدر ٹریسا مذہباََ رومن کیتھولک عیسائی تھیں۔ اٹھارہ سال کی عمر میں انہوں نے مذہبی جذبے کے زیر اثر آئر لینڈ کے مذہبی ادارے آرڈر آف دی سسٹرز آف اور لیڈی آف لوریٹو میں داخلہ لے لیا انہوں نے مذہبی تربیت آئرلینڈ کے شہر ڈبلن اور انڈیا کے شہر دار جلنگ میں حاصل کی ۔ 1937 میں مذہبی حلف برداری کے بعد انہوں نے لی سیوکس کی سینٹ ٹریسا ، جسے غیر ملکی مبلغوں کا سرپرست سینٹ قرار دیا جاتاہے ،کا نام اختیار کرلیا۔
کلکتہ میں رومن کیتھولک ہائی سکول کے تحت کام کرتے ہوئے مدر ٹریسا کو وہاں رہنے والوں کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ کلکتہ کے غریب عوام کی حالت زار نے ان کے دل پر گہرا اثر مرتب کیا اور انہوں نے محض مذہبی خدمات انجام دینے کے بجائے انسانی خدمت کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ 1948 میں انہوں نے کانونٹ چھوڑ کر کلکتہ کے مفلوک الحال افراد کے درمیان ایک منسٹری کا آغازکرنے کی اجازت مانگی اور جازت ملنے پر کام کا آغاز کر دیا۔
1950 میں مدر ٹریسا اور ان کے رفقاء کو رومن کیتھولک چرچ کے تحت چیریٹی مشنریز قرار دے دیا گیا۔ مدرٹریسا کے ادارے کا حصہ بننے کی خواہش رکھنے والے کو چار عہد کرنا پڑتے تھے۔ غریبانہ طرز زندگی، فرمانبرداری اور تجرد کے بنیادی عہدوں کے علاوہ انہیں چوتھا عہد یہ کرنا پڑتا تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی غریبوں کی خدمت کے لئے وقف کر دیں گئے۔
1952 ء میں مدرٹریسا نے نرمل ہردے(شفاف دل) نامی ادارہ قائم کیا جس کے بنیادی مقاصد میں غریب مریضوں کا علاج کرنا شامل تھا۔ زندگی سے مایوس مریضوں کو وہ اپنے ادارے میں لاتیں ،ان کی خدمت کرتیں اور ایسے کئی افراد کو نئی زندگی سے ہمکنار کرتیں جنہیں ان کے ڈاکٹر مرضِ موت میں مبتلا قرار دے چکے تھے۔
مدرٹریسا کا کام صرف کلکتہ یا بھارت تک محدود نہ رہا بلکہ دنیا کے کئی حصوں تک پھیل گیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1979 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ مدرٹریسا نے مسلسل کام جاری رکھا لیکن 1990 میں گرتی صحت نے ان کی کارکردگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا۔ اس کے باوجود اپنی خدمات انجام دیتی رہیں لیکن 1997 میں حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ادارے کی ذمہ داریوں کی کماحقہ تکمیل ممکن نہ رہی جس پر مدرٹریسا کی جگہ سسٹر نرملا نے ادارے کی سربراہی کے فرائض سنبھال لئے۔ اسی سال مدرٹرسیا کا انتقال ہو گیا۔
پوری دنیا میں ان کی موت کا سوگ منایا گیا اور دو ردراز سے لوگ ان کے جنازے میں شرکت کرنے کے لئے پہنچے۔ اگرچہ انہی دنوں لیڈی ڈیانا کی جوانمرگی کادلخراش سانحہ پیش آیا تھا لیکن اس کے باوجود مدرٹریسا کی موت لوگوں پر اپنا اثر چھوڑے بغیر نہ رہی۔
مدرٹریسا اگرچہ اس دنیا سے جا چکی ہیں لیکن ان کے ہاتھوں شفاء پانے والے مریض اور ان کے ادارے سے نئی زندگی کی نوید پاکر نکلنے والے افراد انہیں اپنی یادوں میں ہمیشہ زندہ رکھیں گئے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے