بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینپروین شاکر

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پروین شاکر
اردو شاعری میں مرد کو محبوب بنانے والی پہلی خاتون شاعرہ جس نے ادب برائے ادب کے تحت فطری جذبات کی عکاسی کی
اردو شاعری میں مرد کو محبوب بنانے والی پہلی خاتون شاعرہ جس نے ادب برائے ادب کے تحت فطری جذبات کی عکاسی کی ۔وہ شاعرہٴ حسن تھی۔ نہ صرف خود بہت خوبصورت تھی بلکہ اس کی شاعری بھی نہایت حسین تھی۔ اپن نوجوانی میں اس نے شہرت حاصل کی اور شہرت کے عروج پر انتقال کر کے ادبی دنیا میں ہمیشہ کے لئے امر ہو گی۔
پروین شاکر 1953 میں کراچی میں پیدا ہوئی اور کراچی میں ہی ابتدائی وثانوی تعلیم حاصل کی۔ کالج میں اس کی ملاقات ادبی لوگوں سے رہی اور پھر وہ مشہور شاعر صہبا اختر سے رہنمائی لینے لگی۔اس کے بعد احمد ندیم قاسمی بھی اس کے ادبی سر پرستوں میں رہے۔
1976 میں اس کا پہلا مجموعہ کلام”خوشبو“ مارکیٹ میں آیا تو اس نے ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کی۔
پروین شاکر کی شاعری کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے کلام پر کسی بھی شاعر یا شاعری کی چھاپ نہیں تھی۔ اس نے اپنے جذبات کو لفظوں کاپیرا ہن دیا اور لوگوں نے اس جامہ زیبی کی خوب تحسین کی۔ 1977 میں وہ سی ایس ایس کے امتحان میں کامیاب ہوکر کسٹم افسر بن گئی۔پروین شاکر نے کئی شادیاں کیں لیکن سب ناکام رہیں۔ اس کے شائقین کو اس کے محبوب کی تلاش رہی کہ آخر وہ کون ہے؟ اس سلسلے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں لیکن وہ نام ہنوز اندھیرے میں ہے۔اس کی غزل:
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
مہدی حسن نے گائی تو برصغیر میں بے اندازہ سنی گئی۔اس کی شہرت خوشبو کی طرح دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اس کو ہاورڈ یونیورسٹی نے اردو پڑھانے کیلئے دو سال کے کانٹریکٹ پہ سائن کیا اور دو سال تک اس نے امریکہ میں اردو پڑھائی۔
خوشبو کے بعد اس کی کئی کتابیں مارکیٹ میں آئی لیکن کوئی بھی کتاب خوشبو کے جیسی کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ اس کے دیگر مجموعوں میں صدبرگ اور خود کلامی اہم ہیں۔ان کتابوں میں اس کی شاعری میں وہی الہڑپن تھا جو کہ اس نے خوشبو میں ظاہر کیا۔ خوشبو میں اس کی شاعری ایک نوخیز دوشیزہ کی شاعری ہے جس میں کچے رنگوں سے بنی ایک لڑکی اپنے محبوب کو پکارتی سراپا سپردگی کا سوال بنی دکھائی دیتی ہے۔
طوفاں ہے تو کیاغم، آواز تو دیجئے!
کیا بھول گئے میرے کچے گھرے وہ !
اس کے علاوہ اس کی دیگر غزلوں نے ملک بھر میں مقبولیت حاصل کی۔ وہ مشاعروں کی جان تھی۔ اپنی وفات تک اس نے بے شمار مشاعروں میں شرکت کی۔
29 دسمبر1994ء کی اسلام آباد میں وہ اپنی کار میں گھر سے دفتر کی جانب جا رہی تھی کہ کار کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ شدید زخموں کی تاب نہ لا کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئی۔
اس کی وفات سے پہلے اس کی شاعری کی کلیات”ماہِ تمام“ کے نام سے مارکیٹ میں آئیں اور جس طرح چاند اپنے عروج پر پہنچ کر مدہم ہو جاتا ہے۔جس طرح پھول مختصر مدت میں اپنی خوشبو پھیلا کر مرجھا جاتا ہے اسی طرح پروین شاکر بھی مختصر مدت میں اپنی شاعری کی کوشبو چہار سو پھیلا کر رخصت ہو گئی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے