بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینرانی جھانسی

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
رانی جھانسی
برصغیر کی خواتین میں رانی جھانسی کا نام جذبہ حریت و آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے
برصغیر کی خواتین میں رانی جھانسی کا نام جذبہ حریت و آزادی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر میں فیصلہ کن طاقت حاصل کرتے ہوئے برصغیر کے مختلف علاقوں کے حکمرانوں پر اپنے فیصلے تھوپنا شروع کئے تو ریاست جھانسی کی رانی لکشمی نے اس کی بھر پور مخالفت کی۔ اس نے اپنے علاقے جھانسی میں ایسٹ اندیا کمپنی کے فیصلوں کی مخالفت کا کھلم کھلا اعلان کر دیا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف مہم چلانا شروع کی دی۔
رانی جھانی نہایت دلیر اور غیر متعصب خاتون تھی۔ اس کے جھنڈے تلے مسلمانوں اور ہندووٴں نے متحد ہو کر آزادی کا نعرہ بلند کیا۔ اس کی فوج میں ہندو اور مسلمان یکساں حیثیت کے حامل تھے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کے توپ خانے میں افسر ایک مسلمان پٹھان تھا۔
واقعات کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی نے یہ قانون بنا دیا تھا کہ اگر کسی ریاست کا حکمران لاولد مر جائے گا تو اس کی ریاست پر قبضہ کر لیا جائے گا اور اسے یہ اجازت نہ ہوگی کہ کو کسی اپنا متبنیٰ بنا کر جانشین بنا سکے۔یہ ان کئی ہتھکنڈوں میں سے ایک تھا جو وہ مختلف ریاستوں پر قبضہ کرنے کے لئے ایجاد کرتے رہتے تھے۔ رانی جھانی کا شوہر لاولد مرا تو رانی کے انگریزوں کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی ریاست کا انتظام خو د سنبھال لیا۔ انگریز فوج نے اس پر حملہ کیا۔ رانی جھانی کے پاس انگریز فوج کی طرح جدید ہتھیار اور روپے پیسے کی بہتات نہ تھی لیکن اس نے بھر پور مقابلہ کیا اور میدان جنگ میں اپنی سپاہ کے دوش بدوش بہادری سے لڑتی ہوئی ماری گئی۔ برصغیر میں اس کانام آج بھی جدوجہد آزادی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے اور مجاہدین آزادی میں اسے ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے