بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینسروجنی نائیڈو

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سروجنی نائیڈو
سروجنی نائیڈوان چند خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے برصغیر کے انگریز حکمرانوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔
سروجنی نائیڈوان چند خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے برصغیر کے انگریز حکمرانوں کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا۔ آپ میں تعصب نام کو بھی نہ تھا۔ اگرچہ آپ ہندو تھیں لیکن آپ نے اپنا آئیڈئل محمد علی جناح کو بنا رکھا تھا۔آپ صاحب طرز ادیبہ، بے مثال شاعرہ اور ایک شعلہ بیان مقررہ تھیں آپ نے برصغیر میں ہندومسلم اتحاد کو اپنی سیاست کا جزو بنا رکھا تھا۔
قائداعظم کے قریب آنے کی وجہ قائداعظم کی وہ مساعی جمیلہ تھیں جو کہ انہوں نے 1912 سے 1917 کے دوران ہندوستان میں ہندومسلم اتحاد کے لیے کیں۔انہوں نے قائداعظم کے کردار کا بڑی باریک بینی سے مطالعہ کیا تو ان پر قائد کی شخصیت میں پائے جانے والے سچائی، ذہانت، دور اندیشی اور قوم کے درد کے عناصر منکشف ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاندار کتاب ” Muhammad Ali jinaah the Ambassador of peace“ لکھی تو قائداعظم کا لقب ہندومسلم اتحاد کے سفیر کی حیثیت سے مشہور ہو گیا۔ اس کتاب میں سروجنی نائیڈ و نے اپنی خوبصورت انگریزی تحریر کے خوب رنگ بکھیرے ہیں اور قائداعظم کی شخصیت کے روشن پہلو بھر پوا انداز میں اجاگر کئے ہیں۔
سروجنی نائیڈو بھی برصغیر میں انگریزی راج کے خلاف تھیں اور اس کے لئے وہ ہندو مسلم اتحاد کو ضروری خیال کرتی تھیں۔1913 میں ان کی قائداعظم سے لندن میں ملاقاتیں ہوئیں جن کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب میں بڑے خوبصورت الفاظ میں کیا ہے۔ان کے خیال میں:
”پورے ہندوستان میں محمد علی جناح واحد حکمران تھے جو ہر دو جماعتوں کے ممتاز لیڈروں کے لیے قابل قبول تھے۔ وہ سب ان کا احترام کرتے تھے۔ اور ان کی ذہانت اور قابلیت کے دل سے قائل تھے۔“
برصغیر کی سیاست میں ہندواور مسلمان انگریز راج کے شروع میں ہی علیحدہ ہو گئے تھے۔ اس وقت برصغیر میں عوام کمزور اور حکومت مضبوط تھی اس لئے برصغیر کے ہندومسلم رہنماوٴں نے خیال کیا کہ مضبوط انگریز حکومت کے سامنے برصغیر کی دوبڑی قوموں یعنی ہندو اور مسلم کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔چنانچہ جب قائداعظم کی کوششوں سے مسلم لیگ اور کانگریس کا متحدہ اجلاس 1916 میں لکھنوٴ میں ہوا تو اس میں برصغیر کے تقریباََ تمام بڑے رہنما شامل تھے۔مسز سروجنی نائیڈو بھی اس اجلاس میں شریک تھیں اور انہوں نے اس ہندومسلم اتحاد کی ضرورت پر زوردیا اور انگریر حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی جدوجہد کے اصول کی حمایت کی۔ 1916 کے اس اجلاس میں مسلمانوں نے اپنی آبادی کے تناسب سے زائد نشستیں طلب کیں تو اس کے پیچھے نفساتی اور سیاسی وجوہات تھیں۔ ہندورہنما اس مسئلہ پر ہچکچاہٹ کے شکار تھے لیکن مسز سروجنی نائیڈو نے قائد کے موٴقف کو اپنی کتاب میں اس طرح واضح کیا:
”مسلمانوں کے حقوق کی نگہداشت یا ان کی زیادہ نمائندگی ملنا اصل مسئلہ نہیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح بیورو کریسی سے ڈیمو کریسی کی طرف سفر کا آغاز ممکن ہو سکے گا اور یہی اصل نکتہ ہے۔ ہندووٴں اور مسلمانوں کو اپنے آئینی اور قانونی حقوق حاصل کرنے کے لئے متحد ہو جانا چاہیے تاکہ انتقالِ اقتدار کا مسئلہ جلد از جلد طے ہو سکے۔“
جب مسلمانوں کو جداگانہ انتخاب کا حق مل گیا تو مسز سروجنی نائیڈو اس بات پر ازحد خوش ہوئیں۔
اس وقعہ کے بعد مسلمانوں اور ہندووٴں کا اتحاد 1924تک چلا لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کے راستے الگ الگ ہو گئے تو اس کادکھ مسز سروجنی نائیڈو نے بھر پور طریقے سے محسوس کیا۔ مسز سروجنی نائیڈو کی تاریخ پر گہری نظر تھی اور وہ آنے والے وقت کے متعلق اندازہ بھی لگا سکتی تھیں۔ اگر چہ وہ مسلم لیگ یا تحریک پاکستان کی حمایت میں نہ تھیں لیکن وہ غیر متعصب تھیں اور ہندومسلم اتحاد کے لئے قائداعظم کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ انہوں نے اپنی کتاب میں قائداعظم کے ایک عظیم لیڈر بننے کی پیش گوئی کی جوکہ بعد میں حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی۔
ہندومسلم اتحاد کے خواب کی تعبیر جب مختلف نکلی تو مسز سروجنی نائیڈو نے ادبی سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کر دی۔ اب ان کی قائداعظم سے زیادہ ملاقاتیں نہ ہوتی تھیں۔وہ بمبئی میں رہتی تھیں اور ان کی بمبئی سے پیار تھا۔ ان کا بمبئی میں قیام زیادہ تر تاج محل ہوٹل میں ہوتا تھا اور تاج محل ہوٹل کا ایک حصہ ہمیشہ ان کے لیے مخصوص رہتا تھا۔ جن دونوں وہ تاج محل ہوٹل میں قیام کرتیں تو ان کے پاس ملک کے بے شمار نامور شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں کا اجتماع ہوتا۔ ایسے ہی ایک کانگریس نواز اجتماع میں کسی نے قائداعظم کو انگریزوں کا زر خرید کہا تو مسز سروجنی نائیڈو نے اس شخص وک بری طرح جھڑک دیا اور انہوں نے کہا کہ میں بک سکتی ہوں، نہرو اور گاندھی بک سکتے ہیں لیکن جناح انمول ہیں۔ ان کو کوئی نہیں خرید سکتا۔
اگرچہ سروجنی نائیڈ اور قائداعظم کے راستے جدا جدا تھے لیکن انہوں نے اپنی سمجھ کے مطابق ہر موقع پر حق بات کی۔ ان کی قائداعظم سے حد سے بڑھی عقیدت تھی کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ مسز سروجنی نائیڈو قائداعظم سے عشق کرتی ہیں جبکہ قائداعظم ان کے لئے ایسے کوئی جذبات نہیں رکھتے ۔
سروجنی نائیڈو کی بے مثال ادبی او ر سیاسی خدمات کی بناء پر ان کو بلبل ہند کے لقب سے پکارا گیا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے