بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینسلمہ لیگر لوف

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سلمہ لیگر لوف
سلمہ لیگر لوف دنیائے ادب کی وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے نوبل پرائز حاصل کرنے کا گرانقدار اعزاز حاصل کیا۔
سلمہ لیگر لوف دنیائے ادب کی وہ پہلی خاتون تھی جنہوں نے نوبل پرائز حاصل کرنے کا گرانقدار اعزاز حاصل کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ اپنے ملک کی طرف سے بھی نوبل پرائز حاصل کرنے والے پہلے فرد ہونے کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔
سلمہ لیگر لوف1858 میں سویڈن کے شہر مریکا میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے تدریس کا اپنا پیشہ بنایا اور 1885 سے سے 1895تک اس شعبے سے منسلک رہیں۔ 1891 میں آپ کا پہلا ناول سٹوری آف گوسٹابرلنگ شائع ہوتے ہی آپ کو ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل ہوگیا۔ 1894 میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعے انویزیبل لنکس نے ان کی شہرت پر مہر تصدیق ثبت کر دی اور انہیں ملک کے طویل وعرض میں ایک منفرد اور صاحب طرز ادیبہ کے طور پر جانا جانے لگا۔
تدریس کا شعبہ چھوڑنے نے بعد آپ نے لکھنے کو اپنا مستقل ذریعہ معاش بنایا اور کئی ناول اور افسانوی مجموعے لکھے۔ آپ کا دائرہ تحریر صرف بڑوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ بچوں کے لئے بھی آپ نے بہت سی کہانیاں لکھیں۔متذکرہ صدر کتابوں کے علاوہ آپکی مشہور کتابوں میں مریکل آف دی انٹی کرائسٹ ،ونڈرفل ایڈونچر آف نلز، گرل فرام دی مارشل کرافٹ، یروشلم اور ہوم سٹیڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے اپنی سوانح عمر پر مبنی تین کتابیں ،مربکا ، میموریز آف مائی چائلڈ ہوڈ اور ڈائری آف سلمہ لیگر لوف لکھیں۔
آپ کی علمی خدمات کا ہر سطح پر اعتراف کیا گیا۔ 1909 میں آپ کو ادب کا نوبل پرائز ملا اور 1914 میں سویڈش اکیڈمی نے آپ کو اپنا رکن منتخب کیا۔ آپ بیک وقت ماہر تعلیم ،ناول نگار، کہانی کار، شاعر، سوانح نگار، خود نوشت نگار اور ڈرامہ نگار تھیں۔ آپ سے پہلے سویڈش ادب میں رومانیت کا دور دورہ تھا۔ آپ نے اپنے ملکی ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔ آپ کے ناولوں اور کہانیوں کے تراجم دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ اردو کے مشہور افسانہ نگار خواجہ احمد عباس کا مشہور افسانہ ”ابابیل“ سلمہ لیگر لوف کی ہی ایک کہانی سے ماخوز ہے۔
سلمہ لیگر لوف نے اپنے ملک کی لوک کہانیوں کو ایک نئے انداز اور نئے تناظر میں پیش کرنے کی طرح ڈالی۔ آپ کا طرزِ تحریر بے حد مرصع اور دلنشیں تھا۔ آپ کے اندازِ تحریر پر سکاٹ لینڈ کے مشہور مصنف اور تاریخ نگار تھا مس کارلائل کااثر نظر آتا ہے ۔ آپ کی تحریر ایک فطری تازگی لئے ہوئے ہے۔ جو پڑھنے والے پر نہایت خوشگوار تاثر چھوڑتی ہے۔
آپ کا انتقال 16 مارچ 1940 کو ہوا لیکن اپنے کام کی بدولت آپ کا نام آج تک زندہ ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے