Syeda Maria Qutbia Razi Allah Taala Anha

سیدہ ماریہ قطبیہ رضی اللہ تعالی عنہا

Syeda Maria Qutbia Razi Allah Taala Anha
سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے والد کا نام شمعون تھا۔ انہیں مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ چنانچہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار کے حملوں سے اطمینان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نواح عرب کے حکمرانوں اور روٴ سا کو اسلام کی دعوت کے خطوط بھیجے۔

عزیر مصر مقوقس کو جو خط لکھاگیا، وہ مشہور صحابی سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ بھیجا گیا۔ شاہ مقوقس سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ سے بہت عزت سے پیش آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے والا نامہ کے جواب میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا:
”محمد بن عبداللہ کے نام مقوقس رئیس قبط کی طرف سے
”السلام علیک کے بعد واضح ہو کہ میں نے آپ کا والا نامہ پڑھا اور جو کچھ اس کا مضمون اور مفہوم ہے ،وہ میں نے سمجھ لیا۔

(جاری ہے)

مجھ کو یہ تو معلوم تھا کہ ایک نبی آنے والا ہے لیکن مجھے گمان تھا کہ وہ ملک شام میں ظاہر ہوں گے۔ میں نے آپ کے سفیر کی بہت عزت و تکریم کی ہے اور وہ لڑکیاں بھیجتا ہوں جن کو قبطیوں میں بہت تکریم کی جاتی ہے اور میں آپ کے لئے کپڑا اور سواری کے لئے خچر بھیجتا ہوں۔
والسلام علیک“
یہ دونوں لڑکیاں کون تھیں؟ ان میں ایک ماریہ اوردوسری ان کی بہن شیریں تھیں۔

شاہ مقوقس نے ان دونوں لڑکیوں کے ساتھ ہزار مثقال سونا، بیس سفید کپڑے کے تھان، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک خچر دُلدل نامی ارسال کیا۔
سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا نہایت حسین و جمیل او ر سفید رنگ کی تھیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بالا خانے میں ٹھہرایا جس کانام بعد میں ”مسئر بہ ام ابراہیم“ پڑگیا کیونکہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا نے اسی بالا خانے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تھا۔


سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے آخری اولاد سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش ماہ ذی الحجہ 8 ہجری میں ہوئی۔ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا عقیقہ کیا۔ عقیقہ میں دو مینڈھے ذبح کئے، سر منڈایا گیا اور بالوں کے برابر چاندی تول کر خیرات کی گئی اور بال زمین میں دفن کئے گئے۔

اس بیٹے کانام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جدامجد سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے نام پر ابراہیم رضی اللہ عنہ رکھا۔ لڑکا بہت خوبصورت اور تندرست تھا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابراہیم رضی اللہ عنہ کی پیدائش کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنا خوش ہوئے کہ ابورافع رضی اللہ عنہ کو ایک غلام انعام کے طور پر دے دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لے کر کھلاتے اور پیار کرتے۔
عرب کے قاعدے کے مطابق حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دایہ ام بردہ رضی اللہ عنہا بنت المنذ انصاری کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ انہیں دودھ پلائے۔یہ دایہ ایک لوہار کی بیوی تھیں۔ ان کے چھوٹے سے گھر میں اکثر بھٹی کا دھواں رہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچے کو دیکھنے کے لئے لوہار کے گھر جاتے اور وہاں دھواں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ اور ناک میں گھستا رہتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتہائی نازک طبع ہونے کے باوجود اس کو بچے کی خوطر برداشت کرتے رہتے۔

ابراہیم رضی اللہ عنہ ابھی 17 یا 18 ماہ کے ہوئے تھے کہ ہجرت کے دسویں سال ان کا انتقال ہو گیا۔ بچے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں میں جان دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے لیکن زبانِ مبارک سے یہی فرمایا:
” بخدا ابراہیم! ہم تمہاری موت سے نہایت غمگین ہیں، آنکھ رو رہی ہے اور دل غمزدہ ہے مگر ہم ایسی کوئی بات زبان سے نہ کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی نہ ہو۔


جس روزسیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، اتفاق سے اسی روز سورج گرہن ہو گیا۔قدیم زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت پر ہوتا ہے ۔ اس اعتقاد کے تحت مدینہ کے مسلمان بھی یہ کہنے لگے کہ یہ سورج گرہن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے کے انتقال کی وجہ سے ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی کیونکہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کے خلاف تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو اکٹھا کر کے تقریر فرمائی:
”سورج اور چاند کو کسی انسان کی موت سے گرہن نہیں لگتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ جل شانہ کے حضور جھک جاوٴ۔“
بعض روایات میں آتاہے کہ سیدناابراہیم رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے بعد ایک دفعہ جبرائیل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا۔ ”السلام علیکم یا ابا ابراہیم۔“
سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں 16 ہجری میں انتقال فرمایا اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-17

Your Thoughts and Comments

Special 100 Famous Women article for women, read "Syeda Maria Qutbia Razi Allah Taala Anha" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.