بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینٹانی ماریسن

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹانی ماریسن
براعظم امریکہ میں سیاہ فاموں نے جو کڑا وقت گزارا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
براعظم امریکہ میں سیاہ فاموں نے جو کڑا وقت گزارا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ایک طویل عرصے تک وہ ایک آزاد انسان کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے حق سے محروم رہے اور آج بھی ان سے کسی نہ کسی حدتک نسلی امتیاز پرمبنی برتاوٴ کیا جاتا ہے۔نسلی تعصب اور پسماندگی کے شکار ہونے کے باوجود سیاہ فام امریکی کسی بھی میدان میں سفید فام امریکیوں سے پیچھے نہیں رہے۔ ہر شعبے میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اپنے آپ کو منوایا۔ اس ضمن میں کئی نام لئے جا سکتے ہیں اور ایساہی ایک نام مشہور ادیبہ ٹانی ماریسن کا بھی ہے جس نے 1993 میں دنیائے ادب کا سب سے اعلیٰ اعزاز نوبل پرائز حاصل کرکے یہ ثابت کر دیا کہ جلد کی رنگت انسان کی تخلیق صلاحیتوں پر کوئی اثر نہیں ڈالتی، اور اگر دل میں خود کو منوانے کی تڑپ ہو تو چہرے پر سفید ،سیاہ ، زرد یا سانولا ،کوئی بھی رنگ لے کر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ٹانی مایسن نوبل پرائز حاصل کر نے والی دوسری امریکی خاتون ہے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز 1938 میں برل بک نے حاصل کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ پہلی سیاہ فام امرکی خاتون ہے جو ادبی شہرت وکامرانی کے اس بلند مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
ٹانی ماریسن 1931 میں امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر لورین میں پیدا ہوئی۔اس کا پورا نام کلوانتھونی وفورڈ ہے۔ اس کی پیدائش کے وقت وپورا امریکہ تاریخ کے سخت ترین معاشی بحران کی زد میں تھا۔ اس نے عسرت وتنگدستی کے عالم میں بچپن کے تلخ تجربات کو اپنی بنیادی شخصیت پر اثر انداز ہونے کی اجاز ت نہ دی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کہ خواہش اس کے دل میں شروع سے موجود تھی۔اور 1949 میں اسی خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے اس نے 1955 میں کارنل یونیورسٹی سے انگلش میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دو سال تک ٹیکساس ساوٴدرن یونیورسٹی میں اور بعد ازاں 1957 سے 1964تک ہاورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتی رہی۔ اسی دوران اس کی شادی جمیکا سے تعلیق رکھنے والے آرکیٹکٹ ہیرالڈ ماریسن سے ہو گئی۔ ازدواجی تلخیوں کے سبب 1964 میں دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔ ہیرالڈ ماریسن نے ٹانی ماریسن کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے ۔ تدریس کا شعبہ چھوڑنے کے بعد وہ اس نے ایک مشہور پبلشنگ ادارے میں ایڈیٹر کے طور پر شمولیت اختیار کر لی۔
ہاورڈ میں تعلیم دینے کے دوران ٹانی نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس کا پہلا ناول بلیوسٹ آئی 1970 میں شائع ہوا اور اس کی اشاعت کے ساتھ ہی اسے امریکہ بھر کے ادبی نقادوں کی توجہ حاصل ہو گئی۔ 1973 میں اس کا دوسرا ناول سیولا اور 1977 میں تیسرا ناول سانگ آف سو لومن شائع ہوا ۔ ان ناولوں کی کامیابی نے ایک غیر معمولی ادیبہ کی حیثیت سے ٹانی ماریسن کا مقام مستحکم کر دیا۔
1987 میں ماریسن کا مقبول ترین ناول بی لووڈ(Beloved) شائع ہوا۔ اس ناول پر انہیں امریکہ کے مقتدر ادبی انعام پلٹرر پرائز سے بھی نوازا گیا۔ بی لووڈ ایک ایسی سیاہ فام ماں کی کہانی ہے جو غلامی کی زندگی گزار رہی ہے اور اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں قتل کر دیتی ہے تاکہ بڑے ہونے کے بعد اسے بھی غلامی کرنے کی ا ذیت سے نہ گزرنا پڑے۔
1993 میں نوبل پرائز حال کرنے کے بعد تقریب کے حاضرین کے خطاب کرتے ہوئے ٹانی ماریسن نے کہا۔
”ہم مرجاتے ہیں ۔ممکن ہے زندگی کا واحد مفہوم یہی ہو۔ زندہ رہنے کے دوران ہم الفاظ کی تخلیق کرتے ہیں۔ ممکن ہے ہماری زندگیوں کا واحد مقصد یہی ہو۔“

(0) ووٹ وصول ہوئے