بند کریں
خواتین مضامین100 نامور خواتینام المومنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا

مزید 100 نامور خواتین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ام المومنین حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا
آپ کا نام زینب رضی اللہ عنہا تھا اور آپ کا تعلق قبیلہ قریش کے مشہور خاندان اسد بن خزیمہ سے ہے۔
آپ کا نام زینب رضی اللہ عنہا تھا اور آپ کا تعلق قبیلہ قریش کے مشہور خاندان اسد بن خزیمہ سے ہے۔ آپ کی والدہ امیمہ حضرت عبدالمطلب کی صاحبزادی تھیں۔ اسی طرح آپ رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی سگی پھوپھی زاد تھیں۔
رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم سے نکاح سے پہلے آپ ان کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں۔ ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کے سبب انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی۔ معاملہ کچھ یوں تھا کہ آزاد کردہ غلاموں کو عرب اپنے غرور کی بناء پر ادنیٰ خیال کیا کرتے تھے۔ اس لئے جب رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارث رضی اللہ عنہا کے لئے حضرت زینب رضی اللہ عنہاکا رشتہ طلب کیا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور ان کے بھائی نے صاف انکار کر دیا۔ اس پر قرآن پاک کی آیات بھی نازل ہوئیں جن میں مومنوں کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں پر راضی ہونے کے لئے کہا گیا۔ اللہ کے حکم پر حضرت زینب رضی اللہ عنہا راضی ہو گئیں لیکن شادی کے بعد بھی ایک کشمکش میں رہیں اور آخر کار طلاق ہو گئی۔ طلاق کے بعد رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کی خاطر ان سے نکاح کر لیا۔ اس رشتے میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ عرب اپنی جہالت کی بناء پر اپنے منہ بولے بیٹے کی منکوحہ سے طلاق کے بعد شادی نہ کرتے تھے۔ رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کر کے اس بدعت کا بھی خاتمہ کر دیا۔زمین پر نکاح سے پہلے آسمان پر یہ نکاح ہو چکا تھا۔اس نکاح پر منافقین نے خوب اعتراضات کئے۔بہر حال آپ 4 ہجری میں رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں داخل ہوئیں اور چار سو درہم آپ کا مہر مقرر ہوا۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کہنا تھا کہ تین باتوں میں آپ کو ناز ہے یہ ناز کوئی اور ام المومنین نہیں کر سکتیں:
۱ - میرا جد امجد اور رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کا جد امجد ایک ہے۔
۲ - میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمان پر پڑھایا۔
۳ - میرے معاملے کا سفیر جبرائیل امین تھا۔
اس کے علاوہ اس نکاح سے جاہلیت کی اس رسم کا خاتمہ ہوا کہ لے پالک بیٹا اصلی بیٹا سمجھا جاتا تھا اور اس کی بیوی سے بعد میں نکاح بھی نہ کیا جا سکتا تھا۔ مساوات اسلام کا ظہور ہوا یعنی رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد کی شادی ایک غلام سے کی اور پھر اس کی طلاق یافتہ زوجہ کو عقدس میں لیا ۔ اسی نکاح میں پردہ کا حکم نازل ہوا اور اس نکاح کے لئے وحی الٰہی نازل ہوئی۔
رسول پاک نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ تم (ازواج میں سے) سب سے جلد مجھے وہ ملے گی جس کا ہاتھ تم میں سے سب سے زیادہ لمبا ہوگا ۔ ازواج نے اس کے ظاہری معنی لئے۔ آپ صلی علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد وہ اپنے ہاتھ ناپا کرتی تھیں کہ کس کا ہاتھ لمبا ہے اور کون جلد رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے جاملے گی۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا قدچھوٹا تھا ،اسی تناسب سے ان کے ہاتھ بھی چھوٹے تھے لیکن ان کا انتقال سے سے پہلے ہوا۔ تب لوگوں نے جانا کہ لمبے ہاتھوں سے رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کا اشارہ سخاوت وفیاضی کی طرف تھا کیونکہ سخاوت وفیاضی میں حضرت زینب تما امہات المومنین سے بڑھی ہوئی تھیں۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا انتہائی اعلیٰ اور بلند کردار کی خاتون تھیں۔ وہ دل سے کسی کا برانہ چاہتی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا جانتی تھیں کہ حضرت عائشہ راضی اللہ عنہا کو رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ چاہتے ہیں اور آپ کو بھی اس مقام محبوبیت پر آنے کی تمنا تھی۔ اس کے لئے آپ نے ایک بار حضور صلی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تقریر بھی کی تھی لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب جھوٹی تہمت لگی تو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے کردار کے بارے میں استفسار کیا ۔ آپ رضی اللہ عنہا چاہتیں تو جھوٹ کو سچ بنا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کی نگاہوں سے گرانے کا سامان کر سکتی تھیں لیکن آپ رضی اللہ عنہا نے ایسانہ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بعد میں اس بات کا اعتراف رہا۔
آپ رضی اللہ عنہا کو عبادت کا خاص شوق تھا۔ نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت فرمایا کرتی تھیں۔ جس وقت رسول پاک صلی علیہ وآلہ وسلم کے نکاح کا پیغام آپ تک آیا تو آپ رضی اللہ عنہا جواب دینے کے لئے استخارہ کرنا مناسب خیال کیا۔
آپ رضی اللہ عنہا کی سخاوت ایسی تھی کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہا نے ان کو وظیفہ بھیجا ۔ وہ آپ رضی اللہ عنہا نے اسی وقت تقسیم کرا دیا اور دعا کی کہ اگلے سال عمر رضی اللہ عنہا کا وظیفہ مجھ تک نہ آئے۔ چنانچہ اسی سال آپ کا انتقال ہو گیا اور آپ اپنے مالک حقیقی سے جا ملیں۔
آپ رضی اللہ عنہا دولت کو ایک فتنہ خیال کرتی تھیں اور اس کو پاس نہ رکھتیں بلکہ غرباء و مساکین میں تقسیم کرادیتی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا بجا طور پر ”لمبے ہاتھوں والی “ خاتون تھیں۔
حضرت زینب کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر 53 سال تھی۔ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ تھااور انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ان کے جنازہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چار تکبیریں پڑھیں۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا نے ان کو دوسرے دو ساتھیوں کی مدد سے قبر میں اتارا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا تھا جس کو بعد میں یزید بن عبدالملک نے خرید کر مسجد نبوی میں زمین شامل کر دی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے