Chunri Ke Dilkash Malbosat - Clothing Tips For Women

چُنری کے دلکش ملبوسات - خواتین کے ملبوسات

منگل 7 ستمبر 2021

Chunri Ke Dilkash Malbosat
غلام زہرا
لباس کسی بھی ملک کی تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔جو کسی علاقے یا معاشرے کے رہن سہن اور وہاں کے معاشرتی ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ہر علاقے کے اپنے اپنے مخصوص لباس ہیں جو کہ اس ملک یا علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنائے جاتے ہیں۔یہ ضرورت دو طرح کی ہوتی ہیں۔مذہبی اور جغرافیائی ماحول کی ضرورت۔


معاشرے کے رسموں اور ضوابط اور قانون کی بنیاد ہمیشہ اس جگہ کے لوگوں کے مذہب و اعتقاد پر استوار ہوتی ہے۔جن ممالک میں سال کا بیشتر حصہ سردی پڑتی ہے۔وہاں کے لوگوں کی لباس کی ضرورت ان ملکوں کے باشندوں سے بالکل مختلف بلکہ برعکس ہوتی ہیں۔جہاں سال میں زیادہ موسم گرم اور خشک رہتا ہے۔مرطوب اور بارانی علاقے کے لوگوں کا لباس خشک علاقوں کے رہنے والوں سے نہایت مختلف ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

رنگین دیدہ زیب اور خوبصورت چیزیں کس شخص کو مرعوب نہیں ہوتیں۔ہر شخص کی نگاہ غیر دلکش اشیاء کو رد کرکے خوشنما اور دلکش چیزوں کی طرف راغب ہوتی ہے چیزوں کو اس طرح توجہ کا مرکز بنانے کا انحصار ان کے رنگوں ڈیزائن اور فنکاری کی نفاست پر مشتمل ہو۔
رنگوں ڈیزائن اور فنکاری کی ایک عمدہ مثال چنری ملبوسات بھی ہیں۔چنری ڈریس کو ہمارے پیارے وطن پاکستان میں بہت پذیرائی ملتی ہے۔

اور کیوں نہ ملے۔چنری ڈریس ہے ہی بہت دیدہ زیب۔
گلے میں کنٹلا،پورے بازوں اور پیروں میں مخصوص قسم کی سفید کڑیاں پہنے،گہرے رنگ کا گھاگھرا اور چولی زیب تن کیے ہوئے،اپنے بائیں پلو کو دانتوں میں دبائے ادھ کھلا چہرہ اور سر پر کئی مٹکے اٹھائے صحرائے تھر کی تپتی ریت پر ننگے پاؤں بس چلتی جا رہی تھی۔چہرے پر مسرت،خوشحالی اور رونق کے آثار نہایت مدھم تھے۔

شاید یہی بڑی وجہ تھی کہ یہاں کی خواتین کے پہناوے میں شوخ رنگ لباس شامل ہیں ۔تھر کی دیہی خواتین کے پہناوے تھر کی شہری علاقوں کی خواتین سے الگ اور منفرد ہیں۔خوبصورت روایتی لباس اور جیولری پسماندہ علاقے کی ان خواتین کی خاص پہچان ہے۔تن پر گھاگھرا چولی،گلے میں سونے اور موتیوں بھرے ہار اور کلائیوں میں چاندی کی چوڑیاں۔ یہ ہیں تھر کی خواتین کا بناؤ سنگھار۔


یہ خواتین جہاں محنت کش ہونے میں اپنی مثال آپ ہیں،وہیں سج دھج میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں۔گھاگھرا چولی،ان کا روایتی لباس ہے تو فل بازووٴں تک سفید چاندی کی چوڑیاں خواتین کی خاص پہچان ہیں،جنہیں مقامی زبان میں کڑیاں بھی کہا جاتا ہے۔تھر کی کچھ خواتین ناک میں بولی اور پیروں میں پازیب بھی پہنتی ہیں۔تھر کے دیہی علاقے کی خواتین کے مطابق یہ زیور ہمارا خاندانی زیور ہوتا ہے اس زیور میں بولی چاندی کے گڑی اور گلے میں ہار جس کو کنٹلا کہا جاتا ہے پہنتے ہیں۔


یہ زیور ہم کو ہمارے ماں باپ کے گھر سے ملتے ہیں اور یہ ہمارا سنگھار ہے جسے ہم بہت شوق سے پہنتی ہیں۔یہ زیورات تھر کی خواتین کو والدین کے گھر سے جہیز میں ملتے ہیں اس لئے یہ انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔
تھرپارکر پاکستان کے صوبے سندھ کا علاقہ ہے جو تقریباً 20 ہزار سکوئر کلو میٹرز پر محیط ہے۔تھر پاکستان کا وہ علاقہ ہے جس کی ثقافت پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے خواتین اپنے حسن اور شخصیت میں نکھار کے لئے اس علاقے کے منفرد لباس اور روایتی زیورات کا استعمال کرتی ہیں۔

یہاں کی ہاتھ کی بنی اشیاء لوگ اپنے دوست،احباب اور رشتے داروں کو تحفے تحائف کی صورت میں دیتے ہیں۔تھر پاکستان کی قدیم ترین تہذیب کا علاقہ ہے،تھر کی خواتین کے خوبصورت تھری کشیدہ کاری،ہاتھ کی کڑھائی،تھری کھتہ،پھڑہ،چنی،تھر کی مشہور تھری رلی کا کام،تھری ہینڈی کرافٹ،تھری قالین،تھری ڈبل بیڈ اور سنگل بیڈ کی انتہائی خوبصورت ہاتھ کے کام کی چادریں پاکستان سمیت امریکہ اور یورپ میں بے حد مقبول ہیں۔


آج جب دنیا چاند اور مریخ پر پہنچ چکی ہے ایسے میں تھر کی ثقافت اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے۔عمر کوٹ میں تھری کشیدہ کاری اور تھر کی ہینڈی کرافٹ،تھری بھرت اور کشیدہ کاری کا کام انتہائی نفیس اور خوبصورت ہوتا ہے جس میں گج،خوبصورت رلی کا کام،گج کا کرتہ،کام کے دوپٹے،پھڑہ،چنی،اور چادروں پر ہاتھ کا انتہائی باریک اور رنگین کام کیا جاتا ہے۔

تھر کی رلی،گرم شالیں،چادریں،دوپٹے ،قالین اور تھر کی ہینڈی کرافٹ کا کام پاکستان سمیت دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔تھر کی رلی کی قیمت پانچ ہزار سے دو لاکھ روپے تک ہوتی ہے جسے لوگ بیٹیوں کو جہیز میں دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ تھر میں مور کے پروں کے انتہائی خوبصورت ہاتھ کے پنکھے بھی تیار کیے جاتے ہیں ۔کاٹن کپڑے کا لال اور بلیک کلر میں مختلف ڈیزائن کا تھری پیس سوٹ،پھڑہ،گھاگھرا،کرتہ پوشاک اور تھری گج،چنی،مخملی گج پر ہاتھ کا کام، تھری کشیدہ کاری تھری دستکاری کے خواتین کے خوبصورت لباس خواتین کے لئے چمڑے کے رنگین دھاگوں کے کام کی جوتیاں اور تھری کھسے پاکستان بھر میں مقبول ہیں۔

تھر میں تیار ہونے والی ہاتھ کے کام کی چادریں انتہائی دلکش اور خوبصورت رنگوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔
سندھ میں خواتین کے پہناوے چنری کے بغیر مکمل نہیں سمجھے جاتے۔اگرچہ ملک میں چنری سندھ کے چند ایک اضلاع میں تیار کی جاتی ہے مگر بدین کو چنری کا مرکز مانا جاتا ہے۔جنو اسی طرح سندھ میں بھی چنری کی تاریخ کا آغاز کچھ بجھ،کاٹھیاواڑ راجستھان اور سندھ کے موجودہ تھر کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہے۔

اور قیام پاکستان کے بعد سندھ کے تھر کے ان علاقوں سے کاریگروں نے سندھ کے مختلف علاقوں میں بھی چنری کی تیاری کا کاروبار جاری رکھا جس نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔بدین میں چنری کی تیاری میں کاریگروں نے بدلتے وقت کے تمام تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف چنری کے ڈیزائنوں اور رنگوں میں انفرادیت نے اسے شہری و دیہی علاقوں کے جدید فیشن میں یکساں مقبول کیا ہے۔

بلکہ بدین کی چنری دنیا بھر میں اس علاقے کی خصوصی پہچان بن گئی ہے۔چنری دراصل خواتین کا لباس ہے سندھ میں اکثر خواتین اسے شلوار قمیض کے طور پر استعمال کرتی ہیں مگر قمیض کے ساتھ اسے گھاگھرے یا شرارے کے طور پر بھی عام استعمال کیا جاتا ہے یوں تو یہ لباس تمام قومیتوں کی خواتین میں مقبول ہے مگر اندرونی سندھ اور بالخصوص تھرپارکر کی اقلیاتی خواتین چنری سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتی ہیں اور اسے زیب تن کرتے دکھائی دیتی ہیں۔


یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ چنری دراصل سرائیکی خواتین کا پہناوا ہے۔سابقہ ریاست بہاولپور اپنے خوبصورت محلات کے علاوہ کئی دیگر وجوہات کی بنا پر بھی مشہور ہے۔انہی میں سے ایک چنری بھی ہے جو سرائیکی خواتین سے ہٹ کر اب پورے پاکستان اور بیرون ممالک بھی خواتین کی پسند بنتی جا رہی ہے۔بہاولپور کے نزدیک عباس نگر گاؤں چنری گاؤں کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں کی بنی ہوئی رنگ برنگی چنریاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں۔

چولستان میں چنری کا خاص مقام ہے اور شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔یہاں بچپن سے ہی خوبصورت چنریاں بناتی آئی ہیں جو اس کے علاقے کی خواتین خاص مواقعوں پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔لڑکیاں چھوٹی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھتی اور پھر اپنی اولاد کو سکھاتی ہیں۔ پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں لیکن اب بہاولپور کی چنریوں کی پوری دنیا میں مانگ ہے۔


60 سالہ بخت مائی کے مطابق ان کا خاندان صدیوں سے اس فن سے منسلک ہے اور انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سیکھایا ہے اور اب تقریباً پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہے۔بخت مائی کا کہنا تھا:یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔سب سے پہلے ہم کپڑا لیتے ہیں،اگر پورا سوٹ بنانا ہو تو چھ سے آٹھ میٹر تک کپڑا لگتا ہے۔اس پر سب سے پہلے ڈیزائن بنایا جاتا ہے اور یہ ہم اپنے ذہن سے بناتے ہے،ایک دوسرے سے مشورہ کرکے اس سوٹ یا چنری پر کون سا ڈیزائن یا رنگ اچھا لگے گا۔

ہمارے رنگ پائیدار ہوتے ہیں۔ بہاولپوری چنری اپنے رنگوں ہی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔اتنی محنت کے باوجود اس کا معاوضہ اس طرح نہیں ملتا جتنا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک چنری بنانے میں ایک سے دو دن لگ جاتے ہیں اور اس پر خرچہ چھ سو سے ایک ہزار روپے تک آتا ہے۔لیکن ہمیں صرف اپنی محنت کی ہی بچت ہوتی ہے۔ہم سے زیادہ اس سے فائدہ کاروباری لوگ اُٹھاتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-07

Your Thoughts and Comments

Special Clothing Tips For Women article for women, read "Chunri Ke Dilkash Malbosat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.