Garam Shalain Jaare Ki Dhaal - Clothing Tips For Women

گرم شالیں جاڑے کی ڈھال - خواتین کے ملبوسات

جمعہ جنوری

Garam Shalain Jaare Ki Dhaal
غلام زہرا
موسم سرما کے کچھ مخصوص ملبوسات خصوصی طور پر پاکستانی ثقافت کی پہچان ہیں جس میں گرم شال ایک اہم مقام رکھتی ہے۔صوبہ سرحد میں خاص طور پر تیار ہوتی ہے۔اس میں عمدہ اون اور کھدر استعمال ہوتا ہے جو نہ صرف سردی کو روکتی ہے بلکہ شخصیت کو بھی باوقار بناتی ہے۔خواتین کے لئے کئی قسم کی شال مارکیٹ میں نظر آتی ہیں جن کی تیاری میں اون ،سلک بروکیڈ،جیکارڈ اور کاٹن کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے مختلف صوبوں میں تیار کی جانے والی گرم شالیں منفرد علاقائی ناموں سے اپنی علیحدہ پہچان رکھتی ہیں۔خواتین عموماً اپنے لئے پشمینہ،جاما دار،شاہ توش اور اونی شال کا انتخاب کرتی ہیں۔
سردی میں خواتین اپنی پسند کے اعتبار سے مختلف گرم ملبوسات کا انتخاب کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

آج کل چونکہ بھڑ کیلے اور جدید تراش خراش والے لباس عام ہیں،اس لئے عموماً خواتین شال جسے پشمینہ اور پٹی بھی کہا جاتاہے ،اوڑھنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ شال اوڑھنے سے ان کے لباس کی خوب صورتی نمایاں ہوتی ہے اور شال ان کی شخصیت کو منفرد اور پر وقار بنا دیتی ہے۔شال کو مختلف طریقوں سے سیٹ کرکے لباس کی تراش خراش کو بھی نمایاں کیا جا سکتاہے۔
ادھیڑ عمر خواتین سویٹر کی نسبت شال اوڑھنا زیادہ پسند کرتی ہیں۔ماضی میں سویٹر سادہ ہوا کرتے تھے۔ اب ان میں بھی موتیوں زمرد اور پرل کا دستی کام کرکے منفرد انداز دیے جارہے ہیں۔

اسی طرح خواتین اور خصوصاً نو عمر لڑکیوں میں چند سال سے لونگ کوٹ اور لونگ سویٹر کا رجحان مقبول ہورہا ہے جس سے ان کی شخصیت نکھر آتی ہے۔کشمیری شال خواتین میں بے حد مقبول ہیں مگر وہ مہنگے داموں ملتی ہے ،کیونکہ اس کی تیاری میں محنت بہت کرنی پڑتی ہے۔اس کی بنائی اور کڑھائی ایک الگ ہی مقام رکھتی ہیں۔لیکن اب کشمیری شال مشینوں پر بھی تیار کی جانے لگی ہے جو متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بھی پہنچ میں ہے۔


لباس کے اوپر اگر خوش نما شال اوڑھ لی جائے تو شخصیت میں دلکشی پیدا ہوتی ہے ۔دوسری جانب گرم ملبوسات کے کاروبار سے وابستہ دکانداروں نے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے اپنی دکانوں میں دیدہ زیب رنگوں کی گرم شالیں‘چادریں سجا رکھی ہیں۔دکانداروں کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی کے باعث لوگوں کا گرم ملبوسات کی خریداری میں رجحان بڑھ گیا ہے۔

بازار میں کشمیری اور پشمینہ شال کی ڈیمانڈ زیادہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں جدید اور خوشنما ڈیزائنز کی شالوں کی ورائٹی دستیاب ہے جو خواتین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے ۔خریداروں کا کہنا ہے کہ ٹھنڈی ہوا سے بچنے کے لئے گرم ملبوسات خریدنا ضروری ہے۔گرم شالیں نہ صرف آپ کوسردی سے بچاتی ہیں بلکہ آپ کی شخصیت میں بھی چار چاند لگا دیتی ہیں۔


اکثر علاقوں میں سردیوں کا موسم گرمیوں سے کافی مختصر ہوتاہے۔بعض علاقوں میں سردی صرف مہمان کی حیثیت سے ہی آتی ہے،جس کا قیام لگ بھگ دو ماہ تک رہتاہے۔باذوق لوگ اس موسم سے بھی خوب لطف لیتے ہیں،کہیں پکوانوں کی شکل میں تو کہیں نت نئے پہناووں کی صورت میں ۔جاڑوں کی آمد ایک طرف ہمارے لباس پر اثر انداز ہوتی ہے ،تو دوسری طرف بہت سے ملبوسات ایسے ہوتے ہیں،جو خاص اسی موسم کی سوغات ہوتے ہیں،جیسے سوئیٹر ،مفلر اور شالیں وغیرہ۔

خوش ذوق خواتین اس میں بھی تنوع (ورائٹی)کی تلاش میں ہوتی ہیں۔جوں ہی گرم موسم کی تمازت دم اخیر پہ آتی ہے،بازار میں نت نئے انداز کے رنگ برنگے سوئیٹر اور شالوں وغیرہ کی بہار آجاتی ہے اور لوگ پیشگی آنے والے دنوں کے لئے خریداری کرنے لگتے ہیں۔
روز مرہ کے پہناووں کی طرح ان ملبوسات کا انتخاب بھی اپنی شخصیت ،عمر اور لباس کی مناسبت سے کرنا چاہیے،کیونکہ ہم انہیں اپنے کپڑوں کے اوپر پہنتے ہیں۔

اس لئے ہمیں چاہیے کہ سوئیٹر،مفلر اور شالوں کا چناؤ کرتے ہوئے اسے بھی ملحوظ رکھیں۔اس کے رنگوں کا امتزاج نظروں کو بھلا معلوم ہونا چاہیے،بہ صورت دیگر آپ کا لباس باعث تمسخر بن سکتاہے۔بعض خواتین ایک ہی طرح کے سوئیٹر استعمال کرتی ہیں۔البتہ ان کے رنگوں میں تبدیلی کرتی رہتی ہیں۔کچھ خواتین شالوں اور مفلر کو ترجیح دیتی ہیں،خصوصاً تقاریب میں شرکت کے لئے گرم شالیں خاصی دیدہ زیب معلوم ہوتی ہیں۔

اس سے شخصیت میں خاصی سنجیدگی اور بردباری نمایاں ہوتی ہے۔
لباس کے لحاظ سے شال کا چناؤ آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتاہے اور شال کے ذریعے اپنی روایات سے جڑے رہنے کا بھی احساس ہوتاہے۔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ شالیں صرف بڑی عمر کی خواتین اور بوڑھیا ہی استعمال کر سکتی ہیں،لڑکیوں بالیوں پر یہ مناسب نہیں،جب کہ یہ نہایت غیر مناسب خیال ہے،بچیاں بھی جب اس پہناوے کا اہتمام کرتی ہیں ،تو ان کا اپنی اقدار سے جڑے رہنے کا پتا چلتاہے اور ان پر بھی یہ چادریں خوب جچتی ہیں۔

بعض اوقات گرم اور موٹے کپڑے پہننے کے بعد اکثر خواتین موٹی لگنے لگتی ہیں اور اسی وجہ سے خاص طور سے بچیاں اس قسم کے لباس سے کتراتی ہیں،لیکن دوسری جانب سردی سے بچانے والے ان کپڑوں کو نہ پہننے کی وجہ سے وہ ٹھنڈ کا شکار ہو جاتی ہیں اور بیماری میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔لیکن ایسا ضروری نہیں کہ اگر آپ سوئیٹر یا گرم کپڑے نہیں پہننا چاہتیں تو آپ اپنی صحت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں کیونکہ صحت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔

آپ ایسی صورت میں نت نئے ڈیزائن کی میچنگ شال لباس کے اوپر اوڑھ لیں تو نہ صرف آپ کی شخصیت میں چار چاند لگتے ہیں بلکہ یہ آپ کو شدید ٹھنڈ سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔اس صورت حال میں آئیں ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ خود کے لئے کیسی شال کا انتخاب کر سکتی ہیں؟روز مرہ کے لئے کیسی شال کا انتخاب کیا جائے؟آپ روز مرہ کے لئے عام اونی شال پسند کر سکتی ہیں کیونکہ یہ گرم ہوتی ہے۔

اس کا استعمال باہر آنے جانے کے لئے بھی کیا جا سکتاہے۔کوشش کریں کہ جب بازار جائے تو شال کے کلر کا خاص خیال رکھیں اور سادہ شال کا انتخاب کریں۔شادی بیاہ میں کیسی شال پہنی جائے؟
آج کل مخمل کی شال کا فیشن عروج پر ہے اور خواتین میں بھی اس کا رجحان زیادہ پایا جارہا ہے۔مخمل کی شال کا شمار فینسی شال میں ہوتاہے کیونکہ اس میں مختلف قسم کے دھاگوں اور نگوں سے کام کیا ہوا ہوتاہے ۔

جو ان شال کی خوبصورتی اور زینت کو بڑھا دیتاہے۔آفس اور تعلیمی اداروں میں جانے والی خواتین کیسی شال کا استعمال کریں؟اکثر خواتین دفتر یا یونیورسٹی کے لئے بھاری شال کا انتخاب کر لیتی ہیں جو ان کے لئے زحمت کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ بھاری شال کو باہر سنبھالنا مشکل ہو جاتاہے۔چونکہ زیادہ تر خواتین پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کو احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس لئے آفس اور تعلیمی اداروں میں جانے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ ہلکی پھلکی اور چھوٹی اور تیز رنگ کی شال کا انتخاب کریں کیونکہ تیز رنگ کی وجہ سے ٹھنڈ آپ کے جسم پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی ہے اور یہ دھول مٹی کی وجہ سے روز گندی بھی نہیں ہوتی ہے۔
چھوٹی شال کو سنبھالنا بھی آسان ہوتاہے۔شال کا انتخاب کرنا ہو اور ذہن میں کشمیری شال کا خیال نہ آئے ایسا تو ممکن ہی نہیں کشمیری شال ،خاص طور پر پشمینہ شال اپنی خوبصورتی اور عمدگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے اور جو سیاح کشمیر آتے ہیں وہ یہ شال لئے بغیر نہیں جاتے۔

شالوں پر خوب صورت کڑھائی بھی کی جاتی ہے۔لباس کوئی بھی پہنا جائے اس کے اوپر خوش نما شال اوڑھ لی جائے تو شخصیت میں دلکشی پیدا ہو جاتی ہے اور یہ شالیں سردی کی شدت سے خود کو بچانے کے کام بھی آتی ہیں۔کڑھے ہوئے لباس کے اوپر کڑھائی والی شال اوڑھ لی جائے یا پرنٹڈ سوٹ کے اوپر خوش رنگ سادہ سی شال اوڑھی جائے تو ایک اچھا تاثر پیدا ہوتاہے اور شخصیت میں دلکشی نظر آتی ہے۔


کشمیری شالوں کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ سوات میں بنائی جانے والی شالوں کو بھی بے حد پسند کیا جاتاہے۔پہاڑوں کے دامن میں واقع گاؤں اسلام پور میں بھیڑ بکریوں کے اون سے رنگ برنگی گرم اعلیٰ کوالٹی کی چادریں اور شالیں تیار کی جاتی ہیں۔یہاں سیزن میں ماہانہ تقریباً تین ارب روپے کا کاروبار ہوتاہے۔اسلام پور ضلع سوات کا ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں سولہ سترہ ہزار کی آبادی میں ایک بھی شخص بے روزگار نہیں ہے۔

اس کے علاوہ گاؤں اسلام پور اپنے ہنر مند باسیوں کی وجہ سے نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرونی ممالک کے سرد ترین خطوں میں ایک ایسے گاؤں کے طور پر پہچانا جاتاہے۔گرم ملبوسات بہت کم عرصے کے لئے استعمال میں آتے ہیں،لیکن جتنے عرصے کے لئے بھی استعمال میں آتے ہیں،ان سے خوب لطف اندوز ہونا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-24

Your Thoughts and Comments

Special Clothing Tips For Women article for women, read "Garam Shalain Jaare Ki Dhaal" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.