بند کریں
خواتین مضامینملبوساتاستری کرنا

مزید ملبوسات

پچھلے مضامین - مزید مضامین
استری کرنا
استری کرنے کے لیے ایک میز بنوائیں جس کی اونچائی 92 انچ ہو چوڑائی24 انچ اور لمبائی بھی 32 انچ ہو اس کے ساتھ بائیں ہاتھ پر ایک چھوٹی لمبائی ہو جس پر آپ استری کرکرکے کپڑے رکھ سکیں

اگر کپڑے بہت زیادہ خشک ہوگئے ہوں تو ان پر آپ تھوڑا سا پانی چھڑک کر نمدار کرلیں یا پھر پولیتھین لفافوں میں چند قطرے پانی ڈال کر کپڑوں کو اس میں لپیٹ لیں ایک آدھ گھنٹے کے بعد ان کی سختی جاتی رہے گی اور وہ نرم ہوکر استری کے قابل ہوجائیں گے۔کپڑے استری کرنے کے لیے ایک میز بنوائیں جس کی اونچائی 92 انچ ہو چوڑائی24 انچ اور لمبائی بھی 32 انچ ہو اس کے ساتھ بائیں ہاتھ پر ایک چھوٹی لمبائی ہو جس پر آپ استری کرکرکے کپڑے رکھ سکیں،
مختلف درجہ حرارت والی استریاں:
یہ استری بجلی سے کی جاتی ہے اورہر قسم کے کپڑوں کے لیے مناسب ہے اس کے ایک ڈائل پر نمبر لگے ہوتے ہیں آپ اپنے کپڑوں کے مطابق اسے سیٹ کرلیں لینن اور کاٹن کے لیے زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے خالص ریشم کے لیے بھی زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے نقلی ریشم اور نائلون رے ان وغیر ہ کے لیے برائے نام استری کی ضرورت ہوتی ہے اونی کپڑوں اور سویٹروں کے لیے درمیانی حرارت کی استری درکار ہے گرم کپڑوں پر باریک نمدار کپڑا رکھ کر استری کریں اونی کپڑوں پر بالواسطہ استری کرنے سے احتراز کریں ڈائل پر کپڑوں کے نام بھی لکھے ہوتے ہیں کہ کس نمبر پر کس کپڑے کو استری کرنا چاہیے۔
بھاپ کی استری:یہ استری بہتر رہتی ہے کیونکہ بھاپ سے کپڑے میں نمی آجاتی ہے اور ساتھ ہی چمک بھی پیدا ہوجاتی ہے۔
کوئلہ والی استری:اس استری میں درجہ حرارت کنٹرول نہیں کیا جاسکتا اس لیے سوتی اور لینن کے کپڑوں کے علاوہ باقی کپڑوں کو استری کرنے کے لیے مناسب نہیں۔
کپڑوں کی رنگائی:کپڑوں کی رنگائی کوئی ایسا مشکل کام نہیں جتنا کہ بظاہر لگتا ہے کپڑوں کو گھر پر رنگ کر آپ نہ صرف اپنی رقم بچاسکتی ہے بلکہ آپ حسب خواہش تسلی بخش رنگائی کرسکتی ہے کپڑے رنگنے سے پہلے چند اہم باتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے:
۱۔کپڑوں کی رنگائی کے لیے ایک خاص دن مقرر کرلیں کیونکہ اگر اطمنیان سے کام نہ کیا جائے تو خاطر خواہ نتائج برامد نہیں ہوتے۔
۲۔رنگائی بہت احتیاط سے کرنی چاہیے ورنہ نہ صرف کپڑے خراب اوربرباد ہوجائیں گے بلکہ رنگ بھی ضائع ہوں گے۔
۳۔بہت بڑے بڑے کپڑے گھر پر رنگنے کی کوشش نہ کریں ایسے کپڑوں کے خراب ہوجانے کا اندیشہ ہے اور ان پر خرچ بھی اتنا ہی آجائے گا جتنا کہ اگر بازار سے رنگوایاجائے تو ہوگا۔
۴۔بہت سے پرانے اور استعمال کے ناقابل کپڑوں کو نئے سرے سے رنگ کر استعمال کے قابل اور خوبصورت بنایا جاسکتا ہے۔
کپڑا اور رنگ:کپڑے کے لیے رنگ کا انتخاب کرنے سے پہلے اچھی طرح جائزہ لیں کہ کپڑا کس ریشے سے بنایاگیا ہے کیونکہ مختلف ریشوں کے لیے مختلف اقسام کے رنگ موزوں ہوتے ہیں اور رنگوں کا مختلف ریشوں پر ردعمل بھی مختلف ہوتا ہے اس لیے اس بات کا بھی یقین کرلیں کہ ایک خاص ریشے کے کپڑے میں کسی اور ریشے کی آمیزش یا ملاوٹ تو نہیں نباتاتی ریشے جلد جذب نہیں کرتے اس لیے رنگ کو کپڑے کے ساتھ پکایا جاتا ہے تو رنگ جلد چڑھ جاتا ہے۔
حیواناتی ریشے رنگ بہت جلد جذب کرتے ہیں اس لیے کپڑے کو رنگ میں ڈال کرنہیں پکایا جاتا اگر ایسا کیا بھی جائے تو کپڑے سکڑجاتے ہیں،سوتی کپڑا خاص طور پر رنگوں کے ساتھ خاص مماثلت رکھتا ہے اس لیے سوتی کپڑے کامیابی کے ساتھ گھر پر رنگے جاسکتے ہیں۔
رے آن:جو رنگ سوتی ریشمی اور اونی ریشوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں وہ رے ان پر استعمال نہیں ہوسکتے ہیں اس ریشے کے لیے خاص رنگ ملتے ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے