بند کریں
خواتین مضامینملبوساتکڑھائی والے کپڑوں کی دھلائی

مزید ملبوسات

پچھلے مضامین -
کڑھائی والے کپڑوں کی دھلائی
کڑھائی والے کپڑے جن کے دھاگوں کے رنگ اُڑجانے کا خطرہ ہو انہیں دھونے سے پہلے نمک ملیں پانی میں بھگودیں اور پھر فوراً ہی کسی واشنگ پوڈر سے دھو ڈالیں

اس کے بعد دو تولیے لے کر ایک کو کپڑے کے اندر درمیان میں پھیلائیں اور دوسرا کپڑے کے باہر رکھیں پھر تولیے سمیت کپڑے کو گولائی میں لپیٹ کر پانی نچوڑ لیں اس طرح کاڑھے ہوئے پھولوں کے کچے رنگ کپڑے کے دوسرے حصوں پر نہیں آئیں گے میز پوش بھی اسی طریقے سے دھوئیں اور سائے میں خشک کریں۔

گرم اور اونی کپڑے کی دھلائی:اونی کپڑا مثلاً سویٹر وغیرہ دھونے سے پہلے میز پر پھیلا کر کاغذ پر اس کا خاکہ کھینچ لیں کیونکہ اونی کپڑا پانی میں اپنی وضع قطع بدل دیتے ہیں ان کو نیم گرم پانی میں جس میں صابن میں جھاگ اُٹھائے گئے ہوں دھوئیںان کو زیادہ رگڑنا یا مروڑنا نہیں چاہییں کیونکہ اس سے اونی جڑ جاتی ہے صابن میں ڈال کر ہلکے ہاتھوں سے دبا دبا کر ملیں پھر صابن پانی میں ڈال کر اچھی طرح صابن نکال دینا چاہیے اس کے بعد کپڑے کو خاکے پر پھیلا کر اس کی شیپ درست کریں اور دھوپ سے دور سکھائیں دھوپ میں سکھانے سے گرم کپڑے یا سویٹر وغیرہ خراب ہوجاتے ہیں اونی کپڑے دھونے کے لیے کم الکلی والا صابن مثلاً سرف وغیرہ استعمال کریں کیونکہ الکلی اونی ریشمے کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔
مصنوعی ریشے سے بنے کپڑئے کی دھلائی:نائلون،نائلکس،ٹیٹرون وغیرہ کے کپڑوں کو خاصے گرم پانی سے دھونا چاہیے ان کپڑوں میں کوئی پلیٹ یا سموکنگ وغیرہ ہو تو ان کو بہت گرم پانی سے دھو کر نچوڑنے میں احتیاط کریں ان کپڑوں کو زور سے مروڑ کر نہیں نچوڑنا چاہیے بلکہ دبا دبا کر پانی نکال دیں یا کپڑے کو نچوڑئے بغیر چٹکی کی مدد سے رسی سے لٹکادیں پانی خود بخود نچڑ جائے گا۔
محمل،شنیل اور پلش:ان کو نیم گرم پانی کی جھاگوں سے دھوئیں ان کو زیادہ ملیں نہیں کیونکہ پھر خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اور ان کو زور سے نچوڑیں بھی نہیں میلا پانی نکال کر تازہ اور صاف پانی میں ڈبو ڈبو کر تمام میل نکال لیں اور پھر سکھائیں سکھانے کے دوران کپڑے کو ہلکا ہلکا چھٹکا دیتی رہیں تاکہ بروں کے درمیان اٹکا ہوا پانی نکل جائے استری کرتے وقت روئیں کے رخ پر استری کریں

(0) ووٹ وصول ہوئے