Rang E Malbos Tera Had E Nazar Tak Mehke - Clothing Tips For Women

رنگِ ملبوس تیرا حدِ نظر تک مہکے - خواتین کے ملبوسات

پیر 6 ستمبر 2021

Rang E Malbos Tera Had E Nazar Tak Mehke
راحیلہ مغل
موسم تیزی سے بدل رہا ہے اور گرمی کا زور ٹوٹ رہا ہے۔سرمئی شامیں اور راتیں ٹھنڈی ہونا شروع ہو گئی ہیں۔موسم کی یہ تبدیلی ملبوسات میں بھی جھلک رہی ہے اور مختلف برینڈز کی کولیکشن مارکیٹ میں متعارف ہو رہی ہے۔اس موسم کی کولیکشن میں گہرے شوخ رنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔اگرچہ موسم اور ملبوسات کا ساتھ ہمیشہ برقرار رہتا ہے تاہم پریٹ اور پارٹی ویئر ملبوسات کی مانگ کسی بھی موسم میں کم نہیں ہوتی کیونکہ تقریبات میں جو شان ان ملبوسات کی ہوتی ہے وہ موسمی ملبوسات کی نہیں ہوتی۔

پارٹی ملبوسات عموماً پیور سلک،شیفون،جارجیٹ، جاماوار،نیٹ اور دیگر مٹیریل میں دستیاب ہوتے ہیں۔جس میں شیفون ایمبرائیڈری کے لئے سب سے بہتر سمجھی جاتی ہے،ایمبرائیڈری کا رواج اگرچہ ہمیشہ سے چلا آرہا ہے تاہم ڈیزائنرز اس کے انداز میں تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایمبرائیڈری کسی بھی کولیکشن کو جاذب نظر بناتی ہے۔ہاتھ کے بجائے مشینی کڑھائی کا فیشن عام ہے۔

سیلف پرنٹس کا فیشن بھی ان ہے جس کے ساتھ ساتھ فلورل پرنٹس بھی پسند کیے جاتے ہیں۔پاکستان کی فیشن انڈسٹری کی ترقی میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے۔مختلف برینڈز نے مغربی طرز کے پہناؤوں کے مقابلے میں مشرقی پہناوے متعارف کروا کر ماضی اور روایت سے تعلق برقرار رکھا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ فیشن نگری میں ایک طویل عرصے سے حدت و ندرت کا سفر جاری ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا کے پہلے فیشن ڈیزائنر، چارلس فریڈرک ورتھ (Charles Worth Frederick) تھے،جنہوں نے پیرس میں پہلا فیشن ہاؤس قائم کیا اور 1826ء سے 1895ء تک پہناؤوں کے مختلف انداز متعارف کروائے،جو کئی برسوں تک خاص و عام میں مقبول رہے۔بعد ازاں،20 ویں صدی میں رنگ و انداز کی دنیا میں مزید پیش رفت ہوئی اور اب یہ سفر 21 ویں صدی کی مسافت طے کر رہا ہے،جس میں کبھی چھوٹی،تو کبھی لمبی قمیضوں کا اسٹائل ان ہو جاتا ہے،جن کے ساتھ ٹراؤزر،پلازو،پاجاما،گھیر دار شلوار اور غرارہ پینٹ کے مختلف اسٹائل اپنائے جاتے ہیں،تو کبھی ایمبریلا فراکس،میکسیز کا رواج زور پکڑتا ہے،تو کبھی پیپلم خاصے پسند کیے جاتے ہیں۔


ساٹن سلک میں رائل بلیو رنگ کام دار میکسی بہت پیاری لگتی ہے۔اسی طرح سُرخ رنگ بنارسی غرارے کے ساتھ بھاری کام دار ایئر لائن قمیض ایک عمدہ انتخاب ہے،تو سُرمئی رنگ ٹراؤزر کے ساتھ کنٹراسٹ میں فیروزی رنگ قمیض کے فرنٹ پر تھریڈ اور زری ورک کے دل نشین انداز کے بھی کیا کہنے۔پھر بیج رنگ پیراہن کی دلکشی و رعنائی بھی پورے جوبن پر ہوتی ہے۔

اس کے ساتھ بنارسی بیل باٹم کے ساتھ شمر فیبرک میں قمیض پر سلمے دبکے کا کام ہو تو بہت خوب لگتا ہے ،باٹل گرین رنگ نیٹ شرارہ اور قدرے چھوٹی چولی بھی ایک دل آویز پہناوا ہے،جس کے ساتھ نیٹ کا اسٹائلش دوپٹا بہت ہی بھلا لگتا ہے۔
دراصل بدلتے موسم کے ساتھ ہی لباس کے رنگ اور انداز بھی بدل جاتے ہیں،گرمیوں کے رنگ اور ہوتے ہیں تو سردیوں میں مختلف اور شوخ رنگوں کو پسند کیا جاتا ہے۔

کچھ خواتین کے بارے میں کہا جاتا ہے،کہ وہ جوانی میں بھی اپنے اوپر بڑھاپا طاری کئے رکھتی ہیں، پھیکے اور سادہ لباس کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوتا ہے۔لیکن کچھ خواتین اپنی عمر کو بھلا کر ایسے فیشن کو اپنانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتیں جو ان کی عمر اور مرتبے کو سوٹ نہیں کرتا۔جبکہ ذہانت کا امتحان اسی بات میں ہے کہ اپنی عمر،رنگت اور مرتبے کے مطابق لباس،جیولری اور جوتوں کا انتخاب کیا جائے۔

اپنے آپ کو بدلتے تقاضوں کے ساتھ ڈھالتی رہیں لیکن اتنا بھی مت بدلیں کہ آپ کے اپنے بھی آپ کو پہچان نہ پائیں۔اب موسم میں ہلکی سی خنکی آرہی ہے،لیلن پہنی جائے گی یا پھر کاٹن مگر سب سے اچھی بات یہ ہے اس موسم میں شوخ و شنگ کپڑے پہنے جا سکتے ہیں اس لئے جارجٹ اور شیفون کی بہار بھی دکھائی جا سکتی ہے۔حسین رنگوں کا انتخاب کریں،انہیں اچھا سا ڈیزائن کروائیں، اور پہنیں۔


موسم کے ساتھ ساتھ ہمارے پہناوے بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔لباس اپنی تراش خراش کے اعتبار سے نئے انداز میں ڈھلتے ہیں۔یہ انداز ہمیں موسمی کیفیات کا تجربہ بھی بہم پہنچاتے ہیں،خواہ رنگوں کی صورت میں ہو یا کپڑے کی ساخت میں،پھر فیشن کا مطلب تراش خراش میں ہی جدت نہیں،بلکہ کپڑے کے ڈیزائنوں اور ساخت میں جدت بھی ہوتی رہتی ہے۔جوں جوں موسم تبدیل ہوتا رہتا ہے،توں توں ہمارے لباس میں بھی نمایاں تبدیلی آتی رہتی ہے،چونکہ ہمارے ملک کا موسم معتدل ہے۔

اکثر علاقوں میں سردیوں کا موسم گرمیوں سے کافی مختصر ہوتا ہے۔بعض علاقوں میں سردی صرف مہمان کی حیثیت سے ہی آتی ہے،جس کا قیام لگ بھگ دو ماہ تک رہتا ہے۔باذوق لوگ اس موسم سے بھی خوب لطف لیتے ہیں،کہیں پکوانوں کی شکل میں تو کہیں نت نئے پہناؤوں کی صورت میں۔
مشرق کے لباس،خاص طور پر ہمارے دیس کے نسوانی پہناوے شخصیت کو معصومیت کا روپ دیتے ہیں اور مغرب کی پوشاکیں آپ کو اعتماد کے رنگ کے ساتھ اسمارٹ لُک عطا کرتی ہیں اور رنگ دیکھنے والے کو ہی متاثر نہیں کرتے،بلکہ پہننے والے کی طبیعت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دھیمے اور ہلکے رنگ احساسات پر گراں نہیں گزرتے اور روح کو فرحت اور شادمانی عطا کرتے ہیں۔
ہماری خواتین میں لباس کے معاملے میں خاصی جمالیاتی حِس موجود ہے۔لباس سے متعلق ان کی پسند ان سارے تقاضوں پر پورا اترتی ہے۔
ہماری خواتین موسم کے بدلتے ہی اپنے ملبوسات میں تبدیلی لے آتی ہیں۔شلوار قمیض کے ساتھ ساتھ اب ایسے ملبوسات بھی پہنے جا رہے ہیں جو اگرچہ اجنبی دکھائی دیتے ہیں لیکن آرام دہ،سُبک اور کام کاج میں آسانیاں پیدا کرنے والے ہیں۔


بہرحال لباس کچھ بھی ہو،عورت کی زیب و زینت ہے۔لہٰذا اسے ان اصول و ضوابط ہی کے تابع رہنا چاہیے جو ہمارا نظریہ حیات ہمیں سکھلاتا ہے۔
لباس ایسا ہونا چاہیے کہ جس سے شخصیت کو چار چاند لگیں۔ایسا نہیں کہ شخصیت پر حرف آئے اور لباس اور اس کا پہننے والا دونوں مذاق بن جائیں۔اسی طرح آرام دہ،ہوا دار اور ہلکے رنگوں والے ملبوسات کا استعمال بھی ضروری ہے۔

جن خواتین اور لڑکیوں نے کام کاج کی غرض سے بازار کے لئے نکلنا ہے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایسے کپڑوں کو ترجیح دیں جو موسم کی سختی کا سامنا کر سکیں اور کسی قسم کے تردّد اور کوفت کا باعث نہ بنیں۔ہر موسم کا اگرچہ اپنا رنگ اور مزاج ہے مگر گرمیوں کا موسم ایسا ہے کہ کپڑوں کے انتخاب میں تنوع مل جاتا ہے اور تنوع ہی سے نہ صرف ذات بہتری محسوس کرتی ہے،بلکہ پورا ماحول دھنک رنگ ہو جاتا ہے۔دھیمے رنگوں کے دلکش پہناوے ہر سو اپنی آن دکھاتے اور نگاہوں کو بھاتے ہیں۔موسم کی حدت اور تپش کا احساس قدرے کم ہو جاتا ہے۔موسم کی تبدیلی گو فطرت کی ایک ناگزیر تبدیلی ہے،تاہم اس کے تقاضوں کی تابع رہیں گے تو بہت سی پریشانیوں سے محفوظ رہیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-06

Your Thoughts and Comments

Special Clothing Tips For Women article for women, read "Rang E Malbos Tera Had E Nazar Tak Mehke" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.