Readymade Suits - Clothing Tips For Women

ریڈی میڈ سوٹ - خواتین کے ملبوسات

جمعرات نومبر

Readymade Suits
غلام زہرا
گزشتہ 73 برسوں میں پاکستان،خواتین کے ملبوسات کے حوالے سے کئی تبدیلیوں سے گزرتا رہا ہے۔قیام پاکستان سے نظر ڈالنا شروع کریں تو 1940ء اور 50 کی دہائیوں میں محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنایت لیاقت علی خان،پاکستانی خواتین کی رول ماڈل تھیں جو اپنی اکثر تصاویر میں سفید غراروں میں ملبوس نظر آتی تھیں۔اُس دور کے فیشن میں مسلمانان برصغیر کے انداز لباس کو سراہا جاتا تھا جن میں ململ کے کرتے اور چکن کاری کا کپڑا بہت مقبول تھے۔

ململ کیان کُرتوں کا رواج 1950ء کی دہائی کے اواخر اور 60کی دہائی کے اوائل میں تیزی سے پھیلتے ہوئے کلب کلچر کی وجہ سے ماند پڑنے لگا۔یہ وہ زمانہ تھا جب فیشن کی دلدادہ خواتین کی الماریوں میں ساڑھی ایک لازمی جزو تھا۔

(جاری ہے)

ان دلفریب ریشمی اور شیفون ساڑھیوں کے ساتھ ساتھ اونچی ایڑی والے جوتے بھی مقبول ہوئے۔ساڑھیوں کے بلاؤزتنگ و چست چولیوں کی شکل اختیار کر گئے اور ناخنوں پر سرخ نیل پالش لگانا ہر شام کی ایک اہم ضرورت بن گیا۔

یہ وہ دور تھا جب شمیم آراء ،زیبا، دیبا اور نورجہاں جیسی اداکاراؤں کے انداز سے فیشن جنم لیتا تھا۔اس وقت ان تمام اداکاراؤں کی تصاویر ساڑھی ہی میں شائع ہوا کرتی تھیں ۔ساڑھی کا رواج پاکستان میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)اور وہاں سے تعلق رکھنے والی اداکارہ شبنم اور گلوکارہ رونا لیلیٰ کی وجہ سے بھی فروغ پاتا رہا۔
پاکستان کی ایک مشہور فیشن ڈیزائنر کا کہنا ہے کہ 1950ء کی دہائی میں ساڑھی ایک فیشن ایبل لباس تھا،میری والدہ نے جہیز میں مجھے تقریباً ایک سو ساڑھیاں دی تھیں اور 1960ء کی دہائی میں میری الماری میں ایک بھی شلوار قمیض نہیں تھی۔

اس دوران ساڑھی نے سیاسی حلقوں میں بھی اپنا رنگ جما لیا تھا۔اس وقت کے صدر ایوب خان کی صاحبزادی نسیم اورنگزیب اپنے والد کے ساتھ دنیا کے سرکاری دوروں پر انتہائی خوبصورت ساڑھیاں پہنا کرتی تھیں۔اس دور میں بیگم نصرت بھٹو کی ساڑھیاں بھی ایک سرکاری لباس کا درجہ اختیار کر گئی تھیں۔
پاکستانی فیشن جس میں ہمیشہ سے ایک وقار کو مدنظر رکھا جاتا رہا تھا،اپنے اندر کچھ شوخ وچنچل انداز بھی لایا جس کا آغاز بھی 50 دہائی کے اواخر سے ہوا اور جو 60 اور 70کی دہائی تک جاری رہا۔

اس فیشن میں پھولوں سے مزین چست لباس(ٹیڈیز)شامل ہیں۔کئی مرد
حضرات اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہماری ٹیڈی قمیضیں اتنی تنگ ہوتی تھیں جیسے ہمارے بدن پر دوسری جلد ہو۔یہ تنگ قمیضیں شلواروں کے ساتھ پہنی جاتی تھیں جن کی موریاں(ٹخنوں پر سے)بھی اتنی ہی تنگ ہوتی تھی جن کو بند کرنے کے لئے ٹچ بٹن کا استعمال کیا جاتا تھا۔اس زمانے میں قمیضیں تو چست ہی ہوتی تھیں لیکن شلواریں قدرے ڈھیلی ہوتی تھیں جن کا آرام اور آسانی ساڑھی یا غرارے کا متبادل نہیں ہوسکتا تھا۔

اس وقت کی جدت پسند خواتین کا یہ ٹیڈی ہتھیار اس وقت ہالی وڈ کی حسین اور پرکشش اطالوی اداکارہ جینا لولو بریگیڈا کے انداز سے متاثر ہو کر اختیار کیا گیا تھا۔اس زمانے کی ایک معروف ماڈل اپنی یادیں دہراتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ دور کلب،ڈسکو اور ڈانس کا دور تھا۔اس وقت کے لوگ جانتے تھے کہ تفریح کس طرح کی جاتی ہے۔
پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے کہ انھوں نے پاکستان سے مغربی غلبے کو ختم کرکے قومیت کو فروغ دیا اور عوامی لباس کو عام کیا جسے خواتین نے بھی اختیار کیا۔

1970ء کی دہائی میں پاکستان میں پہلے باقاعدہ تیار شدہ(ریڈی میڈ)ملبوسات ڈیزائینر ٹی جیز منظر عام پر آئے اور شہرت حاصل کی۔ٹی جیز کے بانی تنویر جمشید کا نعرہ تھا کہ ٹی جیز شلوار قمیض کے لئے ایسا ہی ہے جس طرح ڈینم(جینز کا کپڑا)کے لئے لیوائز(ایک مشہور برانڈ)۔انھوں نے اس عوامی انداز کو بھٹو کے سیاسی ڈائس سے اٹھا کر عام پاکستانی کا فیشن بنا دیا۔

یہ عوامی انداز ٹیلی وژن کے ڈراموں میں بھی نظر آنا شروع ہو گیا جس میں 1973ء کا مشہور ڈرامہ’کرن کہانی ‘بھی شامل ہے جس کی ہیروئن ماضی کی معروف اداکارہ روحی بانو تھیں۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان میں فلم کا زوال شروع ہو گیا اور اس کی جگہ ٹی وی مقبول ہوتا گیا جس کے ساتھ ساتھ انداز اور فیشن بھی بدل گیا۔یہ عوامی انداز مرد اور خواتین کے لئے یکساں تھا۔

خواتین میں بھی مردانہ کالر،پیتل کے بٹن،اور کاندھوں پر موٹے موٹے آرائشی جھالر اور پٹیاں ایک مقبول فیشن تھا۔دوپٹہ جو ساٹھ کی دہائی کے ٹیڈی انداز کی طرح سکڑ کر ایک رسی کی شکل اختیار کر گیا تھا۔1970ء کی دہائی میں تقریباً غائب ہی ہو چکا تھا۔1980ء کی دہائی میں پاکستانی فیشن کے ارتقاء میں میڈم نور جہاں کی فرانسیسی بہو فلورنس ویلیرز نے اہم کردار ادا کیا۔

فلورنس نے کراچی میں ایک بوتیک(سلے سلائے کپڑوں کی دکان)کھولی اور فرانسیسی اور دیگر مغربی انداز کو خواتین کے لباس میں واپس لے کر آئیں اور اپنے کپڑوں میں ایک بین الاقوامی انداز کو نمایاں کیا۔
80کی دہائی میں پنجاب کی روایتی شلوار نے ڈیزائینروں کے ڈرائنگ بورڈ پر جاکر نئے انداز اختیار کیے اور یہ دھوتی،کاؤل،ترک اور پٹیالہ شلوار کی شکل میں سامنے آئی۔

اس دہائی میں انداز کو فیشن کہا جانے لگا اور اس فیشن کے لئے معاشرے کی اعلیٰ طبقے کی خواتین کے بجائے سپر ماڈلز کی طرف دیکھا جانے لگاجن میں عطیہ خان،نیشمیا،فریحہ الطاف،بی بی،عالیہ زیدی،لولو،اور زوئیلا دہ نام ہیں جنھوں نے پاکستان میں فیشن ماڈلنگ کا آغاز کیا۔پاکستان کا پہلا فیشن شو 1989ء میں جنرل ضیاء الحق کے مرنے کے ایک سال بعد منعقد کیا گیا۔

1990ء کی دہائی پاکستان کی اس نوزائیدہ فیشن انڈسٹری اور ان فیشن ڈیزائنر کے نام ہے جنھوں نے ضیا کے 11سالہ دور کی ثقافتی تباہی کو دور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ان ڈیزائنرز میں ماہین خان،رضوان بیگ،نیلوفر شاہد،شمائل،ثنا سفیناز،امیر عدنان اور دیگر شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کے فن،ثقافت،اور ہنر کو پھر سے زندہ کرنے کی بنیاد رکھی اور پاکستانی فیشن میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

ملبوسات میں مغربی طرز واپس آنا شروع ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی ڈیزائنروں کی ایک نئی کھیپ سامنے آئی جن میں ایمان احمد(باڈی فوکس میوزیم)، دیپک پروانی اور سونیا باٹلہ شامل ہیں۔
نئی صدی کی کروٹ پاکستان میں فیشن کے لئے بھی ایک نیا دور لے کر آئی۔ملک بھر میں فیشن سکول قائم ہونے لگے اور ان سے فارغ التحصیل طلبہ انڈسٹری میں ایک تبدیلی لے کر آئے۔

یعنی اگر اس کام کا بیڑہ اٹھانے والے سرخیل ایک شاندار ماضی تھے تو یہ انقلابی نوجوان جن میں حسن شہریار یاسین،ماہین کاردار،کامیار روکنی،نومی انصاری اور ثانیہ مسکتیہ شامل ہیں،فیشن کا مستبقل تھے۔ہاتھ سے بنی کاٹن یا لٹھا عام ہوا تو دوسری جانب اس ہی کپڑے کو کھاڈی برانڈ کا نام دے کر اسے عوامی ترین بنا دیا گیا۔کھاڈی‘نے پاکستان میں سلے سلائے کپڑوں کے رجحان میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔

پچھلی دہائی تک بھی پاکستان میں فیشن ملبوسات کے لئے درزیوں پر انحصار کیا جاتا رہا لیکن گزشتہ دس سالوں میں یہ رجحان تبدیل ہوا اور جدید انداز کے سلے سلائے ملبوسات کی برانڈ کھاڈی اور جنریشن مقبول ہوتی گئیں ۔اس کے علاوہ سوٹ،کپڑا اور اعلیٰ سوتی کپڑے بنانے کے حوالے سے مشہور ٹیکسائل ملوں نے بھی بڑے پیمانے پرسلے سلائے کپڑوں کی دکانیں کھول لیں۔پاکستان میں بڑے بڑے شاپنگ مال کے رواج کے ساتھ ان برانڈز کی شاخوں کی بھی بہتات ہو گئی جہاں خواتین سکون کے ساتھ اپنے کئی گھنٹے گزار سکتی ہیں ۔پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں خواتین کے فیشن کے حوالے بہت کچھ وقوع پذیر ہو چکا ہے اور آئندہ آنے والے سال اس میں مزید ترقی اور جدت لائیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-12

Your Thoughts and Comments

Special Clothing Tips For Women article for women, read "Readymade Suits" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.