Shaadi Ki Taqrebaat K Malboos

شادی کی تقریبات کے ملبوس

جمعہ جنوری

Shaadi Ki Taqrebaat K Malboos
راحیلہ مغل
اس بار موسم سرما کی سردی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔دن میں دُھند چھائی رہتی ہے یا حدت سے محروم دھوپ چمکتی ہے اور شام کو سائے جب گہرے ہونا شروع ہو تے ہیں تو فضا میں شدید خنکی کا احساس بڑھ جاتاہے۔موسم کی یہ کیفیت صحت بارے قدرے احتیاط کی متقاضی ہے۔ایسے موسم میں ذرا سی بے احتیاطی سنگین جسمانی عوارض کا باعث بن سکتی ہے۔

اس حوالے سے خواتین اور بچوں کے بارے میں خاصی توجہ کی ضرورت ہے،لیکن افسوس کہ خواتین اور بچے دونوں سردی کے حوالے سے لا پرواہی برتتے ہیں۔اس امرکا مظاہرہ شادی بیاہ کی تقریبات میں عموماً دیکھا جاتاہے خواتین نے اس موسم میں بھی جالی اور شفون کے کپڑے زیب تن کئے ہوتے ہیں۔
اکثر خواتین سلیولیس کپڑوں میں بھی نظر آتی ہیں بلکہ شادی حال میں جاکر احساس ہی نہیں ہوتا کہ سردی کا موسم اپنے عروج پر ہے۔

(جاری ہے)

یہی سب دیکھ کر کسی نے کہا ہے کہ”شادی پر جانے والی عورت اور برفانی ریچھ کو ٹھنڈ نہیں لگتی “۔ان شاہانہ ملبوسات میں ریشمی ،بروکیڈ،جامہ دار،تانچوئی اور کمخواب کے قیمتی کام دار جوڑے بھی شامل ہوتے ہیں۔یہ جوڑے نہ صرف اس سرد موسم میں بیاہنے والی دلہنیں پہنتی ہیں بلکہ ان کا سارا خاندان اور قریبی لوگ بھی کسی سے کم نہیں لگتے۔
بہر حال موسم سرما شادیوں کے انعقاد کے لئے موزوں ترین سمجھا جاتاہے۔

رنگ برنگے ملبوسات زیب تن کرنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ پر لذت طعام کی طلب بھی اس موسم میں اپنے جوبن پر ہوتی ہے۔ ہماری یہاں دلہنیں شروع سے ہی اپنے عروسی ملبوسات کے لئے ساڑھی یا غرارے اور اس کی مختلف اشکال میں سے انتخاب کرتی رہی ہیں جن میں بارات والے دن کے لئے غرارہ اور ولیمے والے دن کے لئے ساڑھی پسند کی جاتی تھی یاہے۔دراصل ساڑھی1971تک ہماری دلہنوں کا مقبول انتخاب تھا کیونکہ اس وقت تک ہمارے فیشن پر ہندوستان اور بنگال کا اثر نمایاں تھا۔

لیکن 1971میں سقوط ڈھاکہ کے بعد ساڑھی کا رواج دم توڑتا گیا اور اس کی جگہ کا مدار غراروں نے لے لی۔مایوں اور مہندی کے لئے دلہن کو سادہ پیلا جوڑا پہنایا جاتا،حالانکہ وقت کے ساتھ اب دلہنیں مہندی کے لئے بھی مہنگے ڈیزائنر جوڑوں کا انتخاب کرتی ہیں۔
پاکستان میں 1980اور 1990کی دہائی میں عروسی ملبوسات کا انداز کم وبیش ایک جیسا ہی رہا جس میں غراروں ،شراروں اور لہنگوں کو مختلف انداز کے ساتھ تیار کیا جاتا رہا۔

وقت کے ساتھ دو پٹے لمبے اور بھاری ہوتے گئے اور آج دلہنیں ایک لباس کے ساتھ دو یا تین دوپٹے بھی اوڑھتی ہیں۔قمیض کی لمبائی کے ساتھ بھی تجربات ہوتے رہے اور دو دہائیوں تک لمبی قمیضوں کے فیشن کے بعد اب دوبارہ سے روایتی انداز کی چھوٹی قمیضیں آگئی ہیں۔بلکہ اب تو ساڑھی بھی دوبارہ مقبول ہو گئی ہے۔کئی دہائیوں تک منظر سے غائب رہنے کے بعد ساڑھی آج کل دلہنوں میں بھی مقبول ہوتی جارہی ہے۔

اکثر شادی کے فنکشن میں دلہن اور دلہا کی رشتے دار ساڑھی پہنے نظر آتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ موسم سرما شادی بیاہ کی تقریبات میں حسن،لطافت،جولانی،تازگی اور جوش وجذبہ بھر دیتاہے۔یہ ایسا موقع ہوتاہے کہ دونوں فریق کے خاندان بھر پور خوش دلی کے ساتھ تقریبات میں شرکت کرتے اور ماحول کو رونق بخشتے ہیں۔شادی بیاہ کی تقریبات میں گو پہلے جیسی گہما گہمی نہیں رہی۔

ڈیجیٹل ایج Digital ageنے اس خوبصورت سماجی تقریبات کو بھی گہنا دیا ہے۔گھوڑے کی سواری، باجے گاجے،ناچ گانے،جوتا چھپائی اور دودھ پلائی وغیرہ عنقا ہوئے ہیں اور اب ساری تقریب بہت حد تک ڈرون اور ڈی جیز کی مرہون منت ہو گئی ہے۔بہر حال خوشی کا یہ ایک ایسا موقعہ ہے کہ بچے ہوں یا بوڑھے سبھی اس کی روایات سے محظوظ ہوتے ہیں۔خواتین تقریب پر پہننے کے لئے اپنے ملبوسات اور گہنوں پر خاص توجہ دیتی ہیں ۔


شادی کی تاریخ سے بہت پہلے ہی درزیوں کے پھیرے شروع ہو جاتے ہیں۔نت نئے ڈیزائن زیر غور آتے اور حتمی پسند پر پورا اترتے ہیں۔وقت کی مناسبت سے رنگوں کا خاص دھیان رکھا جاتاہے،جبکہ لباس کی تراش وخراش میں موسم کا لحاظ برتا نہیں جاتا،سردی لگتی ہے تو لگے ،فیشن متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ البتہ دلہن کے جوڑے پر اب بھی اسراف سے کام لیا جاتاہے۔

دلہن کا پہناوا خواہ ایک دن کے لئے ہو،اس پر ہونے والا خرچہ بساط سے بڑھ کر ہی ہوتاہے ایک وقت تھا جب لہنگوں اور غراروں کا رواج نہیں تھا۔گوٹے والے سوٹ زیادہ پسند کئے جاتے تھے،عروسی پہناوے پر چاندی کا سچا گوٹہ استعمال ہوتا تھا۔
فیروزی رنگ پر سفید طلے کا گو ٹہ جبکہ سرخ اور کیسری رنگ کے کپڑوں پر گولڈن گوٹہ لگایا جاتا تھا۔اب زردوزی کے کام کو پسند کیا جاتاہے۔

لہنگوں پر سلمیٰ ستارہ کا کام کیا جاتاہے جیسے زری کا کام کہتے ہیں۔ زیورات کے انتخاب میں البتہ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔اب نقلی زیورات کا استعمال بڑھ رہا ہے۔اگر چہ نقلی زیورات بھی اتنے سستے نہیں ہیں۔تاہم ان میں ورائٹی بہت ہے اور دیکھنے میں اصل سے بھی زیادہ جاذب نظر اور دلکش ہیں۔پھرروز مرہ کے حالات ایسے ہیں کہ اصل زیورات کا استعمال کم ہوتا جارہا ہے ایسے کئی ناخوشگوار واقعات علم میں آئے ہیں کہ خواتین کو زیورات سے محروم ہونا پڑاہے۔

لوگوں کی استطاعت بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔متوسط طبقے کے لوگ اب تین سے پانچ تولے میں دلہن کا مکمل زیور بنواتے ہیں اور نقلی زیورات بھی پہناتے ہیں جو آج کل کے زمانہ میں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔
یہ بات صحیح ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات کی روایات میں کمی وبیشی ہوتی رہتی ہے تاہم ان کا جوش وجذبہ ویسے ہی تروتازہ رہتاہے۔ان تقریبات کے توسط سے جو خاندانی بندھن استوار ہوتے ہیں وہ انسانی سماج ومعاشرے پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔بچے،جوان اور بوڑھے چونکہ سبھی اس میں شریک اور مشغول ہوتے ہیں اس لئے یہ مواقع ان کی یاد داشتوں کا قیمتی اور لا زوال سرمایہ بن جاتے ہیں۔موسم سرما میں منعقد ہونے والی شادی بیاہ کی یہ تقریبات البتہ اپنا جدا گانہ تاثر پیدا کرتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-17

Your Thoughts and Comments

Special Clothing Tips For Women article for women, read "Shaadi Ki Taqrebaat K Malboos" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.