خواتین کی غذا

خواتین کی غذا

خواتین کی غذا

پروفیسر ڈاکٹر سید اسلم
ماروی کی عمر 27برس ہے ۔اس کے دو بچے ہیں ۔لڑکا 6برس کا اور لڑکی 3برس کی ہے ۔جلد ہی اس کے ہاں تیسرا بچہ پیدا ہونے والا ہے ۔ماروی صبح کے وقت کھیت میں کام کرتی ہے اور شام کو گھر کے کام کاج میں مصروف رہتی ہے ۔وہ قبل ولادت مطب میں اپنا معائنہ بھی کراتی ہے ۔اب اس کا وزن 70کلو گرام ہے ،جو حمل شروع ہونے کے وقت 60کلو گرام تھا۔

وہ دن میں تین دفعہ کھانا کھاتی ہے ۔صبح میں دودھ ،دلیا،دو پہر کو تر کاری روٹی اور رات میں دال چاول کھاتی ہے ۔وہ کبھی کبھی گوشت بھی کھا لیتی ہے ۔اس کو روزانہ ملنے والے حراروں (کیلوریز)کی تعداد 2400ہے ۔اس نے اپنے دونوں بچوں کو اس سے پہلے دو برس تک دودھ پلایا ہے ۔
لیلیٰ بھی 27برس کی ہے ۔اس نے بھی اپنے سب بچوں کو اپنا دودھ پلایا ہے ۔

(جاری ہے)

اب اس کا پانچواں حمل ہے ۔

اس کا پہلو ٹی کا لڑکا اب 7برس کا ہے ۔دوسرا بچہ جو 20ماہ بعد ہوا،نہایت کم وزن تھا اور ولادت کے فوراً بعد ہی مر گیا ۔اس کے بعد لڑکی ہوئی ،جو اب 4برس کی ہے ۔اس لڑکی کا وزن ولادت کے وقت نہایت کم تھا۔بہر حال وہ زندہ رہی ہے ۔اس کے بعد ایک لڑکا ہوا ،جواب 21ماہ کا ہے ۔اس کا وزن کم ہے اور اکثر بیمار بھی رہتا ہے ۔لیلیٰ کا کام بھی محنت مزدوری کرنا ہے ۔

وہ3میل دور کھیت میں جا کر معمولی اجرت پر کام کرتی ہے، جس کی وجہ سے (خصوصاً حمل کے زمانے میں )وہ بہت تھک جاتی ہے ۔
جب وہ گھر واپس آتی ہے تو اس قدرنڈھال ہوتی ہے کہ گھر کا ہر کام کرنا اس کو دو بھر لگتا ہے ۔
لیلیٰ کا وزن بھی کم ہے ،شادی کے وقت کے وزن سے بھی کم ۔شادی کے وقت وہ 60کلو کی تھی اور چوتھے بچے کی ولادت کے وقت 45کلو گرام کی ۔اب حمل کے آخر ی دنوں میں اس کا وزن صرف 49کلو گرام ہے ۔

وہ ناشتے میں صرف چائے پیتی ہے ۔دو پہر کو اکثر کچھ نہیں کھاتی ۔بعض دفعہ اسے کچھ بچا کچھا مل جاتا ہے ۔رات کو مکئی کی روٹی تر کاری کے ساتھ کھاتی ہے ۔دال گوشت کھانے کے وسائل نہیں ہیں ۔اسے اس غذا سے روزانہ 1800حرارے مل جاتے ہیں ۔مشکل ولادت کے خوف سے اس نے پچھلے دو ماہ سے اپنی غذا بھی کم کردی ہے ۔سوائے پہلے بچے کے ،اس کے سب بچے کم وزن کے ہوئے،جن میں سے ایک مر بھی گیا۔


مندرجہ بالا دونوں کہانیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ماروی غذائی اعتبار سے درست ہے ،جس سے لیلیٰ محروم ہے ۔لیلیٰ جیسی صورتِ حال مشرق میں نادانی اور ناداری کے سبب عام ہے ،جس کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے ۔خواتین میں غذائی قلت کے اسباب متعدد ہیں ،ا ن میں سے چند ذیل میں درج ہیں :
بچپن ہی سے مناسب غذا نہ ملے تو پھر تمام عمر یہ خواتین غذائی قلّت میں مبتلا رہتی ہیں ۔

اگر وہ زندگی کے شروع کے 3برس میں غذائی کمی کا شکار رہیں تو ان کی نشوونما صحیح طرح نہیں ہوتی اور وہ چھوٹے قد کی بونی عورتیں ہوجاتی ہیں ۔
افلاس کی وجہ سے اگر سب گھر والے اچھی اور مناسب مقدار میں غذا کھانے سے محروم رہیں تو خواتین بھی مناسب مقدار میں غذا حاصل نہیں کرسکیں گی ،بلکہ ان پر غذائی قلت کی ضرب زیادہ پڑتی ہے ۔
اکثر مائیں گھر وں کے کاموں میں اس قدر مصروف رہتی ہیں کہ دن میں صحیح طرح نہیں کھا پاتیں ۔


اکثر متوسط وادنا طبقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین زیادہ وقت زیادہ سخت مشقت کے کام کرنے میں گزارتی ہیں ۔اصل میں کھیتوں اور دوسروں کے گھروں پر جا کر صفائی وغیرہ کرنے کے کام نہایت سخت ہوتے ہیں اور اس کام کے لحاظ سے انھیں غذا نہیں ملتی ۔جن خواتین کے شوہر بیرونِ ملک مقیم ہوتے ہیں ،وہ کام کی زیادتی اور غذائی قلت میں بھی مبتلا ہو سکتی ہیں ۔


اگر ان کی غذا متنوع نہ ہو،یعنی غذا سے انھیں حیاتین (فولیٹ وغیرہ)اور معدنیات (فولاد/کیلسےئم)نہ ملیں تو وہ کم خونی اور کیلسےئم کی کمی میں مبتلا ہوجاتی ہیں ۔
زمانہ حمل ورضاعت میں اگر مناسب غذا نہ ملے اور کام اسی قدر کرنا پڑے ،جس قدر وہ پہلے کرتی تھیں ،جو اکثر متوسط الحال اور غریب عورتوں کا مقدر ہے تو یہ عورتیں تھکی تھکی رہتی ہیں ۔

اکثر اوقات نہ وہ مناسب نا شتا کرتی ہیں اور نہ اطمینان سے دو پہر کا کھانا کھاتی ہیں ۔یہ بات یاد رہے کہ دو پہر کا کھانا توانائی کی بازیافت کے لیے ضروری ہے ۔
کم عمر ی میں حاملہ ہونے والی خواتین کو خود اپنی نشوونما کے لیے بھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے ۔
استقرارِ حمل کے بعد غذا بجائے ان کی نشوونما کے ،پیٹ کے بچے کی نشوونما میں زیادہ صَرف ہوجاتی ہے ۔


زمانہ حمل میں صحت مند اور صحیح غذا کھانے والی خواتین کو بھی 10کلو گرام وزن بڑھانا چاہیے ،کم وزن حاملہ خاتون کو اور زیادہ ۔حمل کے شروع کے 6ماہ میں اضافی غذا ماں کی بافتوں (ٹشوز )اور ذخیروں کی ساخت کے لیے ضروری ہے اور آخری 3ماہ میں نشوونما پاتے ہوئے حمیل(پیٹ کے بچے )کے لیے اہم ہے ،تاکہ حمل کے دوران فولاد ،چکنائی اور حیاتین الف (وٹامن اے )کے ذخیرے بھر جائیں ۔


بچپن کی کم غذائیت کی وجہ سے جن خواتین کو حیاتین اور دیگر مغزیات مناسب مقدار میں نہیں ملتیں تو ان کا قدچھوٹا ،ان کا پیڑو(PELVIS)خمیدہ،چھوٹا اور بدہےئت ہوجاتا ہے ۔ان خواتین میں بچے کی ولادت دشوار ہو سکتی ہے ۔زمانہ حمل میں مناسب مقدار میں غذا نہ ملنے کے باوجود بھی حاملہ خواتین کا جسم فطری طور پر اپنے پٹھوں ،بافتوں ،ہڈیوں وغیرہ سے توانائی ،لحمیات ،چکنائی ،حیاتین الف،فولاد ،لیکسےئم اور دیگر مغزیات نشوونما پاتے ہوئے حمیل کو فراہم کرتا رہتا ہے اور خود اس خاتون کا وزن جس قدر بڑھنا چاہیے ،نہیں بڑھتا یا بعض دفعہ تو بالکل نہیں بڑھتا۔


بعض معاشرے میں حمل کے آخری 3ماہ میں کم فہمی سے حاملہ عورت کو اس غرض سے بھی کم غذا دی جاتی ہے ،تاکہ بچے کی جسامت کم رہے اور وضع حمل آسان ہو،یہ رویہ بالکل غلط ہے ۔جو لڑکیاں ایّام شروع ہونے کے صرف 2برس بعد حاملہ ہوجاتی ہیں ،ان کے ہونے والے بچے کم وزن ہوتے ہیں ۔
غذائیت کی کمی میں مبتلا خواتین اگر بچے کو اپنا دودھ پلائیں تو ان میں مزید غذائی قلت ہوجاتی ہے ،اس لیے کہ دودھ کی ساخت کے لیے ضروری اجزاماں کے خالی ذخیروں سے حاصل ہوتے ہیں ۔

رضاعت کے دوران زمانہ حمل کی نسبت 30فی صد زیادہ غذا (حرارے )ضروری ہے ۔اگر اس مقدار میں غذا نہ ملے تو ان ماؤں کا وزن کم ہونے لگتا ہے ۔دودھ چھڑانے کے 6ماہ بعد بھی اگر مناسب غذا ملے تو ماں اپنے مغزیات سے خالی ذخائر کو دوبارہ بھر لیتی ہے ۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ کم غذائیت میں مبتلا خواتین بھی اپنے بچوں کو ضروری روزانہ اپنا دودھ (تقریباً نصف لیٹر یا اس سے زیادہ )پلا سکتی ہیں ،مگر ان غذائیت کی ماری ماؤں کے دودھ میں حیاتین ،خصوصاً حیاتین الف ،روغنیات ،آیوڈین اور مدافعتی قوت والے اجزا کم ہوجاتے ہیں ۔

تمام حمل پذیر عمر کی خواتین کو آیوڈین کی قلت کا خطرہ ہوتا ہے ۔اگر ان خواتین میں استقرارِ حمل کے وقت آیوڈین کی قلت ہے تو بچے میں پیدایشی نقص ہو سکتا ہے ۔ان کے بچوں کے لیے 4-3ماہ کی عمر میں ہی ماں کا دودھ مناسب مقدار میں نہیں رہتا ،جو صحیح غذا کھانے والے ماں میں 6ماہ تک رہتا ہے ۔
اگر حاملہ اور رضاعی خواتین کو مناسب مقدار میں غذا ملے تو فولاد اور فولیٹ کے ملنے سے کم خونی کا امکان گھٹ جاتا ہے ۔

مناسب مقدار میں آیوڈین اور کیلسےئم ملنے سے آیوڈین اور کیلسےئم کی قلت نہیں ہونے پاتی،بچے صحت مند پیدا ہوتے ہیں اور ماں 6ماہ تک بچے کو اپنا دودھ بہ آسانی پلاسکتی ہیں ،جو اس عمر کے بچے کے لیے غذائی اعتبار سے مناسب مقدار میں ہوگا۔مناسب مقدار میں آیوڈین حاصل کرنے کے لیے آیوڈین آمیز نمک کافی ہوتا ہے ۔
جن خواتین کے ہاں بچے زیادہ پیدا ہوتے ہیں ،ان میں مغزیات کی قلت زیادہ ہوجاتی ہے اور وزن گر جاتا ہے ۔

جو بچے پچھلے بچے کی ولادت کے 3برس کے اندر پیدا ہوتے ہیں،ان میں مرنے کا امکان ان بچوں کی نسبت جو3 برس بعد پیدا ہوئے ،زیادہ ہوتا ہے ۔جن خواتین کو مناسب غذا نہیں ملتی اور وہ قلتِ غذا میں مبتلا رہتی ہیں ،ان کی بیٹیاں بھی با لعمول اسی طرح کم زور ہوتی ہیں ۔پھر ان بیٹیوں کے بھی بچے اسی طرح کم زور ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-05

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read " خواتین کی غذا" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.