Aao Saheli Gup Shup Karen

آؤ سہیلی گپ شپ کریں

پیر اگست

Aao Saheli Gup Shup Karen
تحریم غفار
یہ بات تو روز ازل سے مشہور ہے کہ جب دوعورتیں مل کر بیٹھتی ہیں تو گپ شپ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ایسا تو ہر گز ممکن نہیں کہ عورتیں ہوں اور گفتگو کا سلسلہ جاری نہ ہو۔مگر اب اس سے ہر گز یہ بھی مراد نہیں کہ عورتوں کا گپ شپ کے علاوہ کوئی دوسرا شیوہ ہی نہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سہیلیاں آپس میں گپ شپ یا چغلی کے سلسلے میں مصروف ہوتی ہیں تو پھر تو انہیں دنیا کی بھی ہوش نہیں رہتی۔


عورتوں کو تو بس بات کرنے کا بہانا درکار ہوتا ہے پھر بات چاہے کسی بھی موضوع سے کیوں نہ شروع ہو جوق درجوق کئی موضوع پر باتیں شروع ہو جاتیں ہیں ۔ہمارا آج کا موضوع ہے کہ ”آؤ سہیلی گپ شپ کریں“اس موضوع کا نام سنتے ہی ہمارے ذہنوں میں فوراً سے سیدھے سادھے لوگوں کا تصور آجاتا ہے کیونکہ آجکل کے ماڈرن دور میں لوگوں کے پاس اتنی فرصت ہی نہیں کہ وہ انٹرنیٹ کی دنیا سے باہر نکل کر آپس میں گپ شپ کریں۔

(جاری ہے)


آپ نے اکثر اوقات دیکھا ہو گا کہ گاؤں میں لوگ سارا دن اپنے گھروں کے کام کاج میں مصروف رہتے ہیں اور جوں ہی شام پڑتی ہے تو عورتیں گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر نکلتی ہیں اور پھر صحن یا پھر کھیتوں کے پاس بیٹھ کر گپ شپ میں مصروف ہو جاتی ہیں ۔کہیں چار عورتیں حقہ لگا کرکسی چار پائی پر بیٹھ جاتی ہیں تو کہیں کسی تھڑے یا کھیتوں کے پاس چار سہیلیاں بیٹھ کر گپ شپ میں مصروف ہو جاتی ہیں ۔

اور ان کی گفتگو کا موضوع یا تو گاؤں کا کوئی بانکا جوان ہوتا ہے یا پھر کوئی چوہدری کا بیٹا ہوتا ہے یا پھر ارد گرد کا ماحول ہوتا ہے ۔ایک سہیلی اپنے گھر کی چھت کے بنیرے پر کھڑی ہو جاتی ہے اور دوسری کے گھر کے صحن میں جھانک کر پوچھتی ہے کہ سہیلی کیا آج تو نے دیکھا؟وہ چوہدری کا بیٹا کتنا پیارا لگ رہا تھا جو لندن سے پڑھ کر آیا ہے خوب بانکا جوان ہے۔

دوسری کہتی ہے ہاں ہاں کتنے پیارے کپڑے پہنتا ہے اور کیسے فرفرانگریزی بھی بولتا ہے۔ہائے اُن کے گھر میں تو اُس کے آنے سے رونق لگ گئی ہے۔
چوہدری تو اب ایسے لگتا ہے کہ جیسے چاند زمین پر اُتر آیا ہو دوسری ہائے سہیلی وہ تو ہے ہی پورا چاند اتنے میں آواز آتی ہے بلو اندر آؤ منو کو کھانا دو اور گپ شپ وہیں رک جاتی ہے۔
پھر جیسے ہی فرصت ملتی ہے وہی سہیلیاں آپس میں جڑ جاتی ہیں اور گپ شپ کرنے لگ جاتی ہیں اور ان سہیلیوں کی گفتگو کا کوئی خاص موضوع بھی نہیں ہوتا بس اِدھر اُدھر کے شکوے شکایت لے کر بیٹھ جاتی ہیں ۔

کوئی پیسوں کی قلت پر ان پڑھ رہ جانے پر روتی ہے تو کوئی گھر کا چولہا نا جلنے پر بس پھر ایک آدھی بیچ میں سے تھک کر بولتی ہے چلو چھوڑ و ان باتوں کو یہ رونے تو کبھی نہیں مکنے آؤ ہم میلہ دیکھنے چلیں اُس میں جھولے بھی ہونگے اور خوب رنگ رنگ کی دکانیں اور پکوان بھی لگے ہونگے پھر ہم خوب مزے کریں گے اور پھر معصوم سی لڑکیاں آپس میں میلے پر جانے کے پروگرام بناتی ہیں گھر کے کام کاج سے فارغ ہوکر میلے میں جانے کی تیاری کرتی ہیں مزید یہ کہ وہ میلے پر یہیں کیا اس کے مشورے بھی کرتے کرتے اُن کی گفتگو کو بہا نامل جاتا ہے۔


میلے پر وہ رنگ رنگ کی چوڑیاں خریدتی ہیں ،پکوان کھاتی ہیں ،جھولے لیتی ہیں اور وہاں پہنچ کر بھی اُن کی باتوں کا کوئی اختتام نہیں ہوتا ۔گاؤں کی نادان لڑکیاں اسی سب میں بے حد خوش ہو جاتی ہیں کے اُن کو اپنے گھروں کے وہی گھسے پٹے کاموں سے تھوڑی دیر کے لیے نجات اور سہیلیوں کے ساتھ گپ شپ کا بہانامل گیا۔یہ تو پھر سہیلیوں کی بات ہے یہاں تو بس کے سفرمیں پندرہ منٹ کے لیے بھی دو عورتیں ساتھ بیٹھ جائیں تو گپ شپ ایسے جاری ہو جاتی ہے جیسے دونوں صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتی ہوں۔

ویسے عورتوں کی گپ شپ میں سب سے مزیداربات یہی ہے کہ اُن کا ایک دوسرے سے واقف ہونا ضروری نہیں ہوتا کوئی بس کا سفر ہو ،بازار میں کسی دوکان پر سلام دعا ہو،محلے میں کوئی مسئلہ ہو،بچوں کے سکولوں میں ملاقات ہو یا پھر ہسپتال میں گفتگو کا موقع ملے عورتوں کوپاس بے تحاشا گپ شپ کے موضوع بن جاتے ہیں۔
یہ سب تو دیہاتی خواتین کی باتیں تھی اب اس کے برعکس اگر ہم شہری عورتوں کی بات کریں تو اُن کے گپ شپ کرنے کے انداز بالکل مختلف ہو چکے ہیں اول تو اُن کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی انٹرنیٹ اور احساس کمتری کی دنیا سے باہر نکل کر ایک دوسری خواتین سے گپ شپ لگائیں اُن کے نزدیک اُن کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے اور وہ اُسے فضول گپوں میں اضائع کرنا معیوب سمجھتی ہیں۔

آج کل کی ماڈرن خواتین نے گپ شپ کے مختلف طریقے اختیار کر رکھے ہیں جیسے کہKitty partiesکے سہارے وہ اپنے ماڈرن طریقے کو بر قرار رکھتے ہوئے اپنی سہیلیوں سے گپ شپ لڑاتی ہیں اور اُن کی گپ شپ کا موضوع کوئی میلہ یابا نکا جوان نہیں بلکہ کپڑوں کے برینڈز یا گھروں کا فرنیچر ہوتا ہے یا پھر اُن کے ایک ساتھ پارلر جانے کے پروگرامز بن جاتے ہیں۔
اُن کے پاس پیسوں کی قلت تو ہوتی نہیں اس لیے وہ پیسوں کی پرواہ کیے بغیر اپنی گفتگو میں بھی پیسوں کی ہی باتیں کرتی رہتی ہیں ۔

دراصل ان امیر عورتوں کے دلوں میں احساس کمتری چھپی ہوتی ہے جس کو دبانے کے لیے وہ ایک سے بڑھ کر ایک بڑی باتیں کرتی ہیں وہ اپنے اردگرد کی عورتوں کو یہ دکھانے میں لگی رہتی ہیں کہ اُن کے پاس اُن سے زیادہ مال ودولت ہے ۔ان عورتوں کی بات چیت میں پیسوں کے علاوہ کوئی اور بات بستی ہی نہیں چاہے وہ بات کھانے پینے کی ہو،پہننے پہناوے کی ہو یا پھر گھومنے پھرنے کی ہر بات میں بس ایک ہی چیز نمایاں ہے اور وہ ہے پیسہ۔


ان امیر خواتین نے اپنی زندگی کے طور طریقے تو بدل لیے ہیں مگر جو گپ شپ کا مزہ چار سہیلیاں گاؤں ،شہروں میں بیٹھ کر کرتی ہیں اس مزے اور لطف سے یہ سب محروم ہیں۔آج کی ماڈرن سہیلیاں تو بس سوشل میڈیا پر گپ شپ لگانے کے لیے تیار ہیں مگر ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا اُن کے پاس مانووقت ہی نہیں۔کسی تہوار یا تقریب پر اگر غلطی سے ساتھ ہوتی بھی ہیں تو اُن کے ہاتھوں میں سے موبائل فون نہیں چھٹتے اور ہنس ہنس کر اُس پر گپ لگاتی ہیں جبکہ ساتھ بیٹھی سہیلی سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔لیکن وہ کیا جانیں کہ جو فرحت اور مزہ دو چار ہو کر گپیں لگانے میں ہے وہ آج کل کے انٹرنیٹ پر نہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-05

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Aao Saheli Gup Shup Karen" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.