Apni Hansi Basti Zindagi Ko Ajeeran Na Banain

اپنی ہنستی کھیلتی زندگی کو اجیرن نہ بنائیں خواتین گھر کو موسم خوشگوار رکھیں

Apni Hansi Basti Zindagi Ko Ajeeran Na Banain
دنیا میں کوئی انسان مکمل ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی یا خامی ضرور ہوتی ہے۔ لہٰذا زدواجی زندگی کے معاملات میں بھی پرفیکشن کی توقع کرنا درست نہیں۔ اگر یہ تسلیم کر لیں کہ آپ کا شریک حیات آپ کی زندگی کا لازمی حصہ ہے اور وہ ایک عام انسان ہے لہٰذا اس سے بھی غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں تو سمجھ لیں کہ آپ آدھی جنگ جیت گئیں لیکن اگر آپ کے اپنے تعلقات پرمطمئن نہیں تو اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ آپ زندگی کے حقائق کو قبول نہیں کر پاتیں۔

اس کی وجہ آپ کا رویہ یا پھر آپ دونوں کے مابین افہام وتفہیم کی کمی ہے ۔ یہاں آپ کے لئے کچھ تجاویز پیش کی جارہی ہیں جن کے باعث ایک دوسرے کو سمجھنے اور زندگی کو سہل بنانے میں مدد ملے گی۔
کسی بھی خوشحال گھرانے کو دیکھیں تو ضروری نہیں ہے کہ وہ مال ودولت کی وجہ سے آسودہ ہو یہ بھی ہو سکتا ہے۔

(جاری ہے)

کہ اس کے پیچھے کوئی اور راز کا ر فرما ہو؟ جی ہاں! وہ راز ہو سکتا ہے اس گھر میں رہنے والوں کا اچھا رویہ، اخلاق اور برتاوٴ۔

!
اکثر اوقات گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بحث وتکرار شروع ہو جاتی ہے اور ہوتے ہوتے بات کافی آگے تک بڑھ جاتی ہے جس سے گھر کا ماحول متاثر ہوتا ہے خصوصاََ بچے تو بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔تکرار کا اثر میاں بیوی پر بھی ہوتاہے۔خاتون خانہ صحیح طور پر اپنے کام انجام نہیں دے پاتیں، اس طرح شوہر نامدار اپنے آفس میں ذہنی دباوٴ کا شکار رہتا ہے۔

بعض اوقات یہ تکرار اتنی بڑھ جا تی ہے کہ اس کا نتیجہ علیحدگی کی صورت میں نکلتا ہے۔اور طرح صرف ایک نہیں، بلکہ کئی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔
گھر کا خوشگوار ماحول کیسے بنایا جائے۔ آئیے جانتے ہیں۔
اپنا رویہ بدلیں:
اگر آپ گھر میں بحث ومباحثہ کے دوران اپنے شوہر کا احترام نہیں کرتیں اور اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتیں، تو یہ قطعی نامناسب ہے۔

ایسا کرنے سے معاملات سلجھنے کی بجائے الجھتے ہی جائیں گئے۔ شادی کے بعد کچھ عرصہ تو ہنستے مسکراتے گزر جاتا ہے اور ہر چھوٹی بڑی لغزش ہنس کرٹال دی جاتی ہے مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے تو چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ دونوں ہی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ کو چاہیے کہ آپ اپنا رویہ مثبت رکھیں اگر کسی بات پر ناراضی کا خدشہ ہو اس سے پرہیز کریں اور ہر کام شوہر کے علم میں لا کر انجام دیں۔

ناراضی یا ناپسندیدہ باتوں کو دیر تک دل میں نہ رکھیں ،جتنا ہو سکے معاملات کو خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹانے کی کوشش کریں۔ اس طریقے سے آپ اپنے معاملات کو اپنی بصیرت اور خوش اخلاقی سے خوشگوار بنا سکتی ہیں۔
جائز تنقید برداشت کریں:
بعض خواتین تنقید سے گھبرا جاتی ہیں وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے لباس ،طور طریقے یا کسی اور حوالے سے کوئی ان پرنکتہ چینی کرے۔

اگر کوئی آپ پر تنقید کر رہا ہو ، تو سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ وہ کس بات پر اعتراض کر رہا ہے ان کی تنقید میں کوئی نہ کوئی دلیل پوشیدہ ہے۔ اگر آپ اپنی اصلاح کرنا چاہتی ہیں تو غصہ کرنے یا بلاوجہ کسی احساس کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں۔اپنے رویہ سے اس کا مثبت جواب دیں۔
شک مت کریں:
شک بہت بُری بیماری ہے۔اکثر اوقات اس میں مبتلا ہو کر خواتین تنہائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

مثلاََ اگر آپ کے شوہر ڈاکٹر ہیں اور کسی مریضہ کو زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ تو آپ کے رویے میں ایک دم تبدیلی آجاتی ہے اوربعض اوقات آپ کے دل میں منفی خیالات جنم لینے لگتے ہیں۔ ان کی اسٹنٹ یا سیکریٹری کوئی خاتون ہے تو ابھی ان کے بارے میں شکوک وشبہات ابھرنے لگتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہر معاملے میں فراخدلی کا مظاہرہ کریں اور مثبت انداز میں سوچیں اس طرح آپ کے تعلقات میں مضبوطی آئے گی اور آپ خود اعتمادی کو برقرار رکھتے ہوئے دوسروں کے سامنے ان کا دفاع بھی کر سکیں گئی۔


ضرورت سے زیادہ حساس یا شکی مزاج ہونا آپ کی ازدواجی زندگی میں زہر گھول سکتا ہے ان عادات کے باعث آپ کی زندگی میں وہ مسائل بھی سر اٹھا سکتے ہیں جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہو۔ لہٰذا ہوشیار ضرور رہیں اپنی آنکھیں اور کان ہمیشہ کھلے رکھیں لیکن ہمہ وقت شمشیر بکف نہ رہیں۔شادی شدہ زندگی میں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا بہت ضروری ہے سواپنے شوہر کا احترام کریں اور اس پر اعتماد رکھیں، تا آنکہ اپنی آنکھوں سے اس کیخلاف کوئی ثبوت نہ دیکھ لیں۔


جارحانہ انداز نہ اپنائیں:
کچھ خواتین اپنے جذبات کا اظہار انتہائی جارحانہ انداز میں کرتی ہیں ۔ ان کا یہ جارحانہ انداز گھر کے تمام افراد کے لئے پریشان کن ہوتا ہے۔ بہت شادیاں بھی اسی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس لئے جذبات میں زبان پر قابو پانا چاہیے۔ کوشش کریں کہ دوران گفتگو ایسے الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جس سے کسی کی دل آزاری ہو ۔

جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے اپنا نقطہ نظر تحمل مزاجی سے پیش کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ تنگ مزاجی نقصان دہ ہے اور خوش مزاجی کے ذریعہ دلوں کو فتح کیا جا سکتا ہے۔
کبھی کبھی کسی بڑے مسئلے سے بچنے کے لئے آپ میں چھوٹی چھوٹی بحث ناگزیر ہو جاتی ہے لہٰذا ایک دوسرے کے اپنے نظریات سے آگاہ کرتے رہیں کیونکہ ریت میں منہ چھپانے سے خطرہ ٹلتا نہیں۔

اختلافی مسائل پر بات کرنا بھی ضروری ہے لیکن جب کسی مسئلے پر بحث چھڑ جائے تو تحمل سے کام لیں اور غور سے شوہر کی بات سنیں ۔غصے میں آنے یا چیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ اپنا موٴقف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے کی بات بھی سنیں اور کسی درمیانی سمجھوتے کی راہ نکالیں ۔ جوش میں ہوش کھونے اور پرتشدد رویہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی شریک حیات کی جانب سے ایسا رویہ برداشت کریں۔


منفی باتوں پر دھیان نہ دیں:
جس طرح ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام انسان اچھے نہیں ہوتے۔ کچھ برے لوگ آپ کی خوش گوار زندگی میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔ان کی باتوں پر قطعی دھیان نہ دیں ۔ اگر آپ ہر ایک کو اپنے دل کا حال بتائیں گی تو کچھ لوگ اچھا مشورہ دینے کے بجائے الٹے سیدھے مشورے دیں گے۔ جو آپ کی ہنستی کھیلتی زندگی کو اجیرن بنا دیں گئے۔

ان لوگوں سے ضرور مشورہ لیں، جو آپ کے ساتھ مخلص ہوں۔
جس طرح جنگ سے صرف نقصان ہی نقصان ہوتا ہے اور کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح خانگی معاملات میں بھی لڑائی جھگڑے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ زندگی تھوڑی اور مختصر ہے اس ے محبت اور اپنائیت کے ساتھ گزاریں۔ آپ کا مثبت طرزِ عمل ہی آپ کے معاملات کو سلجھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔گھر میں امن وسکون ہوگا، تو ہر فرد کی طرح بچوں پر بھی اس کا اچھا اثرقائم ہو گا ۔

مزید یہ کہ خوش وخرم رہنے سے آپ کی اپنی شخصیت بھی نکھر جائے گی۔
بات چیت ضروری ہے:
ہمیشہ ایک دوسرے سے اپنی محسوسات ،مسائل اور خواہشات کے بارے میں بات چیت کرتے رہیں۔ ایک دوسرے خیالات سے آگاہ رہنا اچھا رہتا ہے۔ حال کو بہتر بنانے اور مسقبل کے منصوبوں پر بات ضروری ہے۔ مل بیٹھ کر اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں اس طرح شریک حیات کے ساتھ آپ کی ذہنی قربت میں اضافہ ہوگا ۔

یہاں اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ سننا بھی اسی قدر اہم ہے جتنا کہ بولنا۔ آپ خاموشی کی زبان میں بھی اپنے محبت بھرے انداز ،لمس توجہ اور احترام کے ذریعے شریک حیات سے ہم کلام ہو سکتی ہیں۔
زیادہ توقعات نہ باندھیں:
زیادہ توقعات با ندھنا ہمیشہ خرابی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاََ اس صورت میں آپ کو لازماََ مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا جب آپ شوہر سے ایسی توقعات وابستہ کر لیں، جن کا پورا کرانا اس بیچارے کے لئے کسی طور ممکن نہ ہو لہٰذا توقعات باندھیں لیکن ایسی جنہیں آپ کا ساتھی بآسانی نبھا سکے۔

اسی طرح اپنی جانب سے بھی یہی کوشش کریں کہ کہ فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ شریک حیات کے ساتھ رعایت برتیں اور اس کی خواہشات کا احترام کرنا سیکھیں۔
زیادتی برداشت نہ کریں:
خواتین اکثر اوقات صدمے ،ڈر، خوف یا شرمندگی کے باعث اپنے اوپر کی گئی کسی زیادتی پر احتجاج نہیں کر پاتیں۔ بہت سی خواتین اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ زیادتی پر احتجاج نہ کرنے کے باعث ان کے خلاف یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا۔

لہٰذا ایسی غلطی کبھی نہ کریں۔ خود کو تکلیف برداشت کرنے کا عادی نہ بنائیں اور نہ ہی دوسرے فریق کو یہ اجازت دیں کہ آپ کی خاموشی سے فائدہ اٹھائے۔ اپنی ضروریات، محسوسات اور پسندوناپسند سے اسے آگاہ رکھیں۔
ایک دوسرے کو وقت دیں:
کوئی بھی تعلق ایک سات رہنے اورایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ہی استوار ہوتا ہے اور محبت بھی اسی طرح نموپاتی ہے۔

گزری ہوئی خوشگوار گھڑیوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر دہرائیں، سیروتفریخ کے لئے ساتھ باہر جائیں اور اس وقت کو شکوے شکایات کی نذر نہ کریں بلکہ اس سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونے کی کوشش کریں۔
اپنی خواہشات کو بھی اہمیت دیں:
پر مسرت ازدواجی زندگی کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنی خواہشات اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا گلا نہ گھونٹیں۔

انہیں اپنے ساتھ لے کر چلیں اگر آپ انہیں اندر ہی اندر دباتی رہیں گئی تو بالآ خر ایک روز فرسٹریشن کا شکار ہو جائیں گئی۔ کسی بھی دوسرے رشتے کی مانند شادی بھی مسلسل توجہ چاہتی ہے۔ اس کے لئے آپ کو اپنے حقوق کے علاوہ فرائض کا تعین بھی کرنا پڑتا ہے او ر کسی اچھے مقصد کی خاطر کبھی کبھی اپنے اصولوں کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔ تب کہیں جا کر ایک خوشگوار اور سایہ دار رشتہ استوار ہوتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-05-23

Your Thoughts and Comments

Special Articles article for women, read "Apni Hansi Basti Zindagi Ko Ajeeran Na Banain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.