Asqat E Hamal - Special Articles For Women

اسقاطِ حمل - خواتین کیلئے مضامین

جمعہ نومبر

Asqat E Hamal
اسقاطِ حمل (Miscarriage) کے بہت سے اسباب ہیں، مثلاً کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بارور بیضہ رحم (Womb) کے کسی ایسے حصے میں جم جاتا ہے ،جو حمل کے لئے تیار نہیں ہوتا۔جب ایسا ہوتا ہے تو حمل چند ہفتوں یا مہینوں جاری رہتا ہے ،پھر ساقط ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں اُمید رکھنی چاہیے کہ آئندہ بچہ صحیح طور پر پیدا ہو سکے گا۔
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مرد کا مادہ تولید (Sperm) غلط وقت پر بیضے تک پہنچتا ہے۔

ہر مہینے ایک بیضہ عورت کے بیضے دان سے رحم کی طرف چلتا ہے۔استقرار حمل (حمل کا ٹھیرنا) کے لئے یہ ضروری ہے کہ مرد کا مادہ تولید عورت کے بیضے دان سے چلنے کے چوبیس گھنٹے کے اندر بیضے تک پہنچ جائے۔اگر مرد کا مادہ تولید اس معینہ وقت کے خاتمے پر بیضے سے ملتا ہے تو استقرار حمل ہو جائے گا،لیکن اسقاطِ کا امکان بہت زیادہ رہے گا۔

(جاری ہے)

اس کے متعلق بھی سوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ بد قسمتی سے ایسا ہوا۔


بعض ڈاکٹر اسقاطِ حمل کی مریضہ کو اطمینان دلایا کرتے ہیں کہ یہ اچھا ہی ہوا کہ تمہارا بچہ ضائع ہو گیا۔تمہارا بیضہ اچھا نہیں تھا،اگر بچہ پیدا ہو جاتا اور زندہ رہتا تو ناقص ہوتا۔اس نظریے سے بے چاری عورت کو اطمینان تو کیا ہوتا،وہ اُلٹی اور پریشانی میں مبتلا ہو جاتی ہے۔وہ سوچنے لگتی ہے کہ میرے نسوانی اعضا میں ضرور کچھ پیدائشی خرابی ہے۔

میرا دوسرا بچہ اگر پیدا ہوا تو اس میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص رہ جائے گا یا پھر یہ کچھ نسلی خرابی ہے۔
وضع حمل کی ماہر پروفیسر ڈاکٹر ایڈتھ پائر جو شکاگو یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں،وہ کہتی ہیں:”پندرہ سو جنین (Embryo) کا بہ غور معائنہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اسقاطِ حمل عموماً نہ نسوانی اعضا میں کسی نقص کی وجہ سے ہوتا ہے اور نہ کسی نسلی خرابی سے،جتنے اسقاطِ ہوتے ہیں،ان کے اسباب ایسے عناصر ہوتے ہیں جو موروثی نہیں ہوتے،کئی کئی مرتبہ اسقاطِ حمل ہونے کے بعد بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس عورت کا اگلا بچہ جو پیدا ہو گا،اس میں ضرور کچھ نقص ہو گا۔


بزرگ خواتین کہا کرتی ہیں اور اب تک لوگ ان کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں کہ حمل کے زمانے میں عورت کی بعض بے احتیاطیاں اسقاطِ کا سبب بنتی ہیں۔یہ خیال بھی بالکل بے بنیاد ہے۔نوزائیدہ بچے کی گٹھری کچھ اس طرح حفاظت کے ساتھ بندھی ہوتی ہے کہ اسے قدرت کا ایک عجوبہ کہا جا سکتا ہے۔باہر سے ماں کی جلد اور ماں کے پیٹ کے سخت پٹھے اس سے لپٹے رہتے ہیں۔

پھر رحم کی عضلاتی دیوار ہوتی ہے، جس میں نرم مخملی تہ کا استر ہوتا ہے۔ان کثیر العناصر حفاظتی تہوں کے اندر پانی کی ایک تھیلی سی ہوتی ہے۔یہ تھیلی نوزائیدہ بچے کو ماں کی روز مرہ کی زندگی کی گڑ بڑ سے محفوظ رکھتی ہے۔
وضع حمل کے ماہرین اکثر حاملہ عورتوں سے کہتے رہتے ہیں کہ جب تک تم آرام محسوس کرتی رہو اور حد سے زیادہ تھک نہ جاؤ۔تم تیر سکتی ہو، ٹینس کھیل سکتی ہو اور گھر کا کام کر سکتی ہو۔

حمل کے دوران مباشرت (Sexual Intercourse) کے متعلق بھی بعض غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔بہت سی عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ حمل کے دوران مباشرت ہی اسقاطِ حمل کا سبب ہے،یہ خیال بھی صحیح نہیں ہے۔قریب قریب سب وضع حمل کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ دوران حمل میں مباشرت نقصان رساں نہیں ہے اور صرف حمل کے آخری ہفتوں میں اس سے پرہیز کی ہدایت کرتے ہیں۔ہاں اگر کسی عورت کے دو یا تین بچے اس طرح ضائع ہو چکے ہیں تو اُسے ضرور زمانہ حمل میں مباشرت سے پرہیز کرنا چاہیے۔


دوران حمل میں کسی خرابی کی عام علامتیں خون جاری ہونا ہے اور پیٹ میں اینٹھن ہیں۔ان علامتوں کی موجودگی سے اسقاطِ کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ علامتیں عموماً دسویں سے چودھویں ہفتے کے درمیان رونما ہوتی ہیں اور کبھی کبھی اس سے پہلے بھی۔جب یہ علامتیں پیدا ہوں تو عورت کو چاہیے کہ وہ فوراً بستر پر جا لیٹے اور معالج سے رابطہ کرے۔
اس میں شک نہیں کہ یہ علامتیں خطرے سے خالی نہیں ہیں،پھر بھی جن عورتوں میں یہ علامتیں رونما ہوتی ہیں،ان میں سے آدھی ضرور ایسی ہوتی ہیں،جو حمل کی مدت پوری کر لیتی ہیں اور خاصے تندرست بچے پیدا کرتی ہیں۔

بہت سے ڈاکٹر اس قسم کی علامتوں کے ظاہر ہونے پر مکمل آرام کی ہدایت کرتے ہیں اور یہی سب سے زیادہ بہتر اور محفوظ طریقہ ہے۔
حال ہی میں امریکا میں چند ایسی حاملہ عورتوں کا معائنہ کیا گیا،جن میں یہ علامتیں رونما ہوئی تھیں۔ان میں سے کئی عورتوں کو ان علامتوں کے فرو ہو جانے کے بعد اعتدال کے ساتھ زندگی کے مختلف مشغلوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اس کے باوجود انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ان کا حال بھی ویسا ہی رہا،جیسا ان عورتوں کا رہا،جنہیں بستروں پر مکمل آرام کرنے کی ہدایتیں کی گئی تھیں۔
بہر طور اسقاطِ حمل کے مسئلے پر جو تحقیقات ہوئی ہیں،ان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نوزائیدہ بچے کو بچانے کے لئے حمل سے پہلے بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔جیسے بچے کی پیدائش سے پہلے ماں کی جب اچھی طرح دیکھ بھال کی جاتی ہے اور اس کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے تو بچے کو بھی بہت فائدہ پہنچتا ہے۔

اسی طرح استقرار حمل سے پہلے کا معائنہ اسقاطِ کو روک سکتا ہے۔اگر رحم میں کوئی خرابی ہے اور اُسے سرجری سے درست کیا جا سکتا ہے تو اس کا علم اس معائنے سے ہو جائے گا یا ممکن ہے اس معائنے سے یہ معلوم ہو کہ جس عورت کا حمل ساقط ہوا ہے ،اس میں کسی ہارمون کی کمی ہے۔ممکن ہے غدہ درقیہ (Thyroid Gland) کے افراز کی کمی ہو۔نسخے میں غدہ درقیہ کے اضافے سے یہ کمی پوری ہو سکتی ہے اور اس کا اگلا بچہ پورے نو مہینے بعد پیدا ہو سکتا ہے۔


زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ استقرار حمل سے پہلے کے معائنے میں کوئی ایسی جسمانی خرابی رونما نہیں ہوتی،جس کو اسقاط حمل کا سبب قرار دیا جا سکے۔اس حالت میں ماہرین وضع حمل ماں اور باپ دونوں کو جسمانی اور جذباتی صحت برقرار رکھنے کی ہدایتیں کرتے ہیں،خاص طور پر صحت بخش غذا بہت ہی ضروری ہے۔
ایسی عورت کا علاج،جس کا حمل کئی مرتبہ ضائع ہو چکا ہو،مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔

بعض وضع حمل کے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ پروجسٹرون (Progesterone) یا کسی اور ہارمون کے استعمال سے بہت ہی اچھے نتائج ظہور میں آتے ہیں۔ بعض صورتوں میں حیاتین (وٹامنز) کا ایک مخصوص مرکب بہت کارگر ثابت ہوتا ہے۔ وضع حمل کے ڈاکٹر جو طریقہ علاج یا اور کوئی دوسرا طریقہ علاج حمل ساقط ہونے کے حادثے کو روکنے کے لئے اختیار کرتے ہیں،پانچ میں سے چار مریضوں پر کامیاب ہو جاتا ہے۔


ان مختلف طریق ہائے علاج میں ایک چیز مشترک ہے:وضع حمل کے ڈاکٹر کا خود پر اعتماد۔حقیقت یہ ہے کہ اعتماد متعدی ہوتا ہے اور مریضہ اپنے اگلے حمل کی مدت ان دھڑکوں سے محفوظ رہ کر گزارتی ہے،جو پچھلے حمل کے زمانے میں اُن سے دن رات لگے رہتے تھے۔
اس ضمن میں ایک سوال ذہن میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ درست ہے کہ پریشانی ،فکر یا خوف اسقاطِ حمل کا سبب بن سکتا ہے؟وضع حمل کے بہت سے ممتاز ڈاکٹر اس بات کو صحیح قرار دیتے ہیں۔

پہلے تو یہ بات عام طور پر صحیح تسلیم کی جاتی تھی کہ رنج وغم اور خوف و دہشت سے حمل ساقط ہوجاتا ہے،لیکن بعض وضع حمل کے ڈاکٹر اس رائے کو صحیح نہیں مانتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ کسی ناگہانی صدمے سے بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ حمل ساقط ہو جائے۔بہت سی حاملہ عورتوں کو طرح طرح کے صدموں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، لیکن اُن کے حمل پر قطعاً کوئی اثر نہیں ہوتا ،مثلاً خاوند چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے،دوسرے بچے سخت بیمار پڑجاتے ہیں،کوئی بہت قریبی عزیز مر جاتا ہے یا نظروں کے سامنے کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے۔

ان میں سے کسی چیز کا کوئی اثر نو زائیدہ بچے پر نہیں پڑتا،لیکن اگر کچھ شدید قسم کی پریشانیاں ایسی ہوں،جو مدت تک جاری رہیں،مثلاً آزردگی ہو،احساس گناہ ہو اور ان کا اثر تادیر رہے تو اس کا امکان ہے کہ وہ اسقاطِ حمل کا سبب بن جائیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-20

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Asqat E Hamal" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.