Bachay Ki Ibtidai Warzish

بچے کی ابتدائی ورزشیں

Bachay Ki Ibtidai Warzish


طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ماؤں کو پیدائش کے دوماہ بعد ہی اپنے بچوں کو سادہ آسان طریقے سے ورزشیں کرانا چاہئیں ،جن کی بدولت ان کے جسمانی اعضاء متناسب ،موزوں اور صحیح حالت میں رہیں ۔ابتدا میں یہ ورزشیں ایک منٹ سے بھی کم عرصے کے لیے شروع کرنی چاہیے۔جیسے جیسے بچہ بڑ اہوتا جائے تو چھ منٹ کی ورزش اس کے لیے کافی ہوگی۔ ورزشوں کی تفصیل یہ ہے۔


دوسے تین ماہ تک کے بچے کے لیے
بچے کو اس کی پیٹھ کے بل لٹاے جائے یا ماں اپنے گھٹنے پر لٹائے ۔اسے بنیان پہنادی جائے ۔بچے کو ا پنے ہاتھوں اور ٹانگوں کوز ور سے چلانے کا موقع دیا جائے۔اس ورزش کے لیے بہترین وقت یا تو صبح کو غسل سے پہلے ہے یا سہہ پہر کے بعد ۔ٹب میں نہلاتے وقت ماں بائیں ہاتھ سے بچے کے سر ،گردن ،کندھوں اور پیٹھ کو سہارا دے اور دائیں ہاتھ سے اس کی ٹانگیں پکڑے رکھے۔

(جاری ہے)


ماں نرمی سے بچے کو پانی ہی میں آگے پیچھے لائے،بچے کے ہاتھ کھلے رہیں تاکہ وہ جب چاہے انہیں اچھی طرح ہلا سکے۔ ماں جرسی پہنا کر بچے کو اپنے گھٹنوں پر اس طرح لٹائے کہ اس کا چہرہ نیچے کی طرف ہو ۔بچہ سر اٹھائے رکھے اور ادھر ادھر دیکھے ۔یہ ورزش بچے کے پیٹ کے عضلات کو مضبوط رکھنے کے لیے مفید ہے ۔
تین سے چھ ماہ تک کے بچے کے لیے
ماں بچے کو پیٹھ کے بل لٹائے اور بچے کے پیروں کے تلوؤں کو اس طرح سہارا دے کہ خفیف سے دباؤ سے بچہ اپنے پیروں کی انگلیاں ماں کی ہتھیلی سے ٹکرائے۔

اس ورزش سے بچے کی ٹانگیں مضبوط رہیں گی اور پیٹ کے عضلات بھی ٹھیک حالت میں رہیں گے ۔
چے کو میز کے اوپر کسی گدّے یا موٹے اور نرم کارپیٹ پر اس طرح لٹا یا جائے کہ اس کا سر ماں کے سامنے رہے اور اس کے دونوں ہاتھ ماں کی انگلیوں کی طرف پھیلے رہیں ۔ماں بچے کو اشاروں اور باتوں سے موقع دے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ماں کی انگلیاں پکڑے اور بچے کو چند انچ اوپر کی طرف اٹھنے اور سر کنے کا موقع ملے۔


چھ سے نو ماہ تک کے بچے کے لیے
بچے کو پیٹھ کے بل لٹا یا جائے ۔ماں اس کی دونوں ٹانگوں کو ،ہاتھوں میں لے کر انہیں نرمی سے اس طرح ہلائے جس طرح بچہ اپنی ٹانگوں سے سائیکل کے پیڈل چلاتا ہے ۔ماں اپنے ایک ہاتھ سے بچے کی پنڈ لیوں کو پکڑے اور دوسرے ہاتھ سے مضبوطی کے ساتھ اس کے سینے اور جسم کو تھامے رہے ۔پھرا سے اوپر کی طرف سے بلایا جائے ۔

بچہ قدرتی طور پر حیرت سے اپنا سر اٹھائے گا اور اپنی پیٹھ موڑے گا۔
نوسے بارہ ماہ تک کے بچے کے لیے
ماں بچے کو میز پر لٹا کر اسے اس طرح پکڑ کر رکھے کہ اس کے ہاتھ میز کی سطح پر آگے کی طرف پھیلے رہیں ۔
ماں ایک ہاتھ سے اس کی پنڈ لیوں کو پکڑے رکھے اور دوسرا ہاتھ اس کے سینے کے نیچے ہو ۔پھر اسے ہاتھوں کے بل آگے کی طرف رینگنے کا اشارہ کیا جائے ۔

ماں بچے کو ایسی میز پر لٹا ئے جس پر موٹا اور نرم کا رپیٹ ہو ۔اس کی دونوں ٹانگیں پنڈلیوں سے مضبوط پکڑی جائیں اور بچے کو آہستہ آہستہ اتنا اوپر اٹھائے کہ گویا وہ ہوا میں لٹک رہا ہے ۔اس کے ہاتھ میز کی سطح سے اوپر لٹک رہے ہوں ۔پھر بچے کو آہستہ سے میز پر لٹا دیا جائے ۔
ماں ایک ہاتھ سے اس کی پنڈلیوں کو پکڑے رکھے اور دوسرے ہاتھ سے اس کی کلائیوں کو ۔

پھر اس کے پیروں کو میز پر لٹکا کر اسے اس طرح اوپر اٹھنے کا اشارہ کرے کہ وہ بیٹھا ہوا نظر آئے ۔جب بچہ بڑا ہو جائے تو ایک ہاتھ سے اس کی کلائیوں کو اور دوسرے ہاتھ سے اس کے دونوں پاؤں پکڑ کر اسے اس طرح اٹھائے کہ وہ میز پر اپنے پاؤں ٹکا کر کھڑا ہو سکے ۔
نشوونما کی رفتار کا خاکہ
سامنے دیے گئے با کس ”آپ کا بچہ کب کیا کرتا ہے “میں ایک ماہ سے اٹھارہ ماہ تک کے بچے کی حرکات کی تفصیل بتائی گئی ہے ۔

مائیں اگر چاہیں تو اس کا لم کو مد نظر رکھ کر اپنے بچے کی نشوونما کی رفتار نوٹ کر سکتی ہے ۔
انفرادی طور پر بچوں کی نشوونما کی رفتار میں بڑا فرق پایا جاتا ہے۔مثلاً بعض بچے چلنے سے پہلے بولنا شروع کر دیتے ہیں اوربعض بولنے سے پہلے چلنا سیکھ جاتے ہیں ۔اکثر بچے ایک سال کی عمر میں آٹھ دانت نکال لیتے ہیں ،اگر بچے کی نشوونما کی رفتار میں نمایاں طور پر کمی پائی جاتی ہے تو ماں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔


آپ کا بچہ کب ،کیا کرتا ہے ․․․․؟
ایک ماہ کی عمر میں : کھڑ کی کی طرف دیکھنا شروع کر دیتا ہے ۔
دوسرے مہینہ : چہروں کی طرف دیکھتا ہے ،آواز سننے کے لیے رک جاتا ہے ،دیکھتا رہتا ہے کہ ماں کس طرف جارہی ہے ۔
تیسرے مہینہ: ا پنی انگلیوں سے کھیلتا ہے ،ماں کے نزدیک آنے پر مسکراتا ہے ۔
چوتھے مہینہ : بلند آواز سے ہنستا ہے ،جب بچے کو اٹھایا جائے تو خود بھی اٹھنے کی کوشش کرتا ہے ،بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے ۔


پانچویں مہینہ: آواز دینے والے کھلونے سے کھیلتا ہے ،جب اس کی بات نہ مانی جائے تو ناراض ہو تا ہے ۔
چھٹے مہینہ : بچے کا پہلا دانت نکلتا ہے ،اپنے پاؤں کے انگوٹھوں سے کھیلتا ہے ،اجنبی آدمیوں کے پاس جانے سے رکتا ہے ۔
ساتواں مہینہ: میز پر ہاتھ مار تا ہے ،کھلو نا لینا چاہتا ہے ،ابایا اماں کہہ کر پکار تا ہے ۔
آٹھویں مہینہ : بالائی جبڑے کا پہلا دانت نکلتا ہے ،تالی بجاتا ہے ۔


نویں مہینے میں : رینگنا شروع کردیتا ہے ۔
بارہویں مہینہ یعنی ایک سال کی عمر میں : بغیر سہارے کے کھڑا ہو جاتا ہے ،اس کے آٹھ دانت نکل آتے ہیں ۔
پندرہویں مہینہ: چند قدم بغیر سہارے چلتا ہے ،چمچ سے کام لینا شروع کرتا ہے ،چار لفظ بول سکتا ہے ۔
اٹھارہویں مہینہ : پہلا جملہ بولتا ہے ،کرسی کی نشست اگر اونچی نہ ہو تو اس پر چڑھ جاتا ہے ،دریافت کرنے پر ہاتھ سے اپنی ناک بتا سکتا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-02-06

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Bachay Ki Ibtidai Warzish" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.