Betiyaan Phool Hain

بیٹیاں پھول ہیں

ہفتہ ستمبر

Betiyaan Phool Hain
راحیلہ مغل
مثبت سوچ پتہ ہے کس کو کہتے اس چیز کے بارے میں سوچنا جوانسان کے پاس بچ گئی ہو۔اور منفی سوچ اس چیز کے بارے میں سوچنا جو کھو گئی ہو۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس چیز کے بارے سوچنے کے عادی ہیں ۔جو ہم کھو چکے ہوتے ہیں۔اور اس سب کے دوران ہم اس چیز کو بھی بھول جاتے ہیں جو ہمارے پاس ہوتی ہے ۔جو ہماری دسترس میں ہوتی ہے۔


کیا آپ کو پتہ ہے برے حالات میں بھی مثبت سوچ بنائے رکھنے سے کیا ہوتاہے۔انسان کو برے حالات میں سرویو کرنے کی طاقت ملتی ہے۔اور وہ طاقت انسان کو زندگی میں لڑنا سکھاتی ہے،آگے بڑھنا سکھاتی ہے۔دنیا میں ایک واحد مثبت سوچ ہی ہے جو انسان کو آگے بڑھانے،کچھ کرنے کے لیے اکساتی ہے۔انسان صرف مثبت سوچ سے ہی اس دنیا میں اپنی جگہ بنا سکتاہے۔

(جاری ہے)

مثبت سوچ سے انسان کے اندر مثبت شعائیں پیدا ہوتی ہیں۔ اور مثبت شعائیں پتہ ہے کیا ہوتی ہے۔جب انسان اچھے کام کرے،لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو وہ ان سے بدل کا لالچ رکھنا چھوڑدے۔ایک مثبت سوچ رکھنے والا انسان کبھی حالات سے ہارتا نہیں ہے۔
آج ہم اس آرٹیکل میں اپنی خواتین کو سسرال میں رہنے ،مثبت سوچ کے ساتھ کامیاب ہونے کے بارے میں بتائیں گے۔

ہمیں احساس ہے کہ آپ کی زندگی کا وہ وقت جس پر صرف آپ کا حق ہے،شوہر ،بچوں اور سسرالیوں کی نذر ہو جاتاہے۔ان سب کو اپنی زندگی کے انتہائی قیمتی پل دے دینے کے باوجود بھی یہ یقین نہیں ہوتا کہ ایک بہو سسرال والوں کا دل جیت پائے گی۔تب ایک کمی کا احساس ستاتا ہے۔ایسی صورت میں اگر مسلسل کشمکش جاری رہے تو اس کا صحت پر انتہا ئی منفی اثر پڑتا ہے کیونکہ ہر وقت افسردگی اور یاسیت وہ کیفیت ہے جس میں خوش رہنانا ممکن بن جاتا ہے۔

یہی وہ عرصہ ہے جب انسان نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہو سکتا ہیں جن پر فوری توجہ نہ دی جائے تو ذہنی عارضہ اور جسمانی روگ لاحق ہو جاتے ہیں۔
یوں تو شادی کے بعد ہمارے سماج میں عورت کو نئے لوگوں اور ماحول سے ہم آہنگ ہونے اور اپنا تعلق ان کے ساتھ مضبوط بنانے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،مگر کچھ معاملات نہایت حساس اور تکلیف دہ بھی ہوتے ہیں ۔

اس میں شوہر یا ساس کی جانب سے بد سلوکی اور برارویہ یا پھر اولاد نہ ہونا یا بیٹا نہ ہونا خاص طور پر ایک عورت کے لیے نہایت اذیت ناک اور تکلیف دہ بات بن سکتی ہے۔اگر قدرت نے آپ کو بیٹا نہیں دیا تو اس کمی کو سر پر سوارمت رکھیے۔آپ بیٹی کی ماں ہیں تو سوچیے کہ زندگی سے مایوس ہو کر ،غمگین رہ کر اپنی اولاد کو خوشی دے سکیں گی؟کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی ہر وقت کی منفی سوچیں آپ کی بیٹیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں؟
مایوس ہونے کے بجائے شکر ادا کریں۔

آپ سوچیں کہ اگر قدرت نے آپ کو ایک بیٹے سے بھی نہ نوازا ہو تا تو کیا ہوتا؟یہ سوچ آپ کے اندر ایک نئی طاقت ،ایک نئی امنگ پیدا کرے گی۔آپ خود میں تبدیلی محسوس کریں تو ان ننھی سی بیٹیوں کی طرف متوجہ ہوں جو آپ کی ایک نظر التفات کی منتظر ہیں۔کیوں کہ صرف جنم دینا ہی نہیں بلکہ اچھی پرورش،تحفظ کا احساس اور سب سے بڑھ کر محبت پانا بھی ان کا حق ہے۔

تو اتنی بڑی ذمہ داری سر پر ہوتے ہوئے آپ کسی قسم کی کوتاہی کا تصور بھی کیسے کر سکتی ہیں؟آپ کیوں اپنی کمزوری یامحرومی کا اثر اپنی بیٹیوں پر ڈالنا چاہتی ہیں؟سچ تو یہ ہے کہ اس طرح کوئی بھی عورت خود اپنی ہی خوشیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔یہی وہ موقع ہوتاہے جب آپ اپنی مایوسی اور محرومی کا اظہار کرے دوسروں کو اس حوالے سے ہر جائز و ناجائز بات کرنے اور غیر ضروری مشورے دینے کاموقع دیتی ہیں ۔

اس کے بعد تکلیف اور مسلسل تکلیف آپ کا مقدر بن جاتی ہے ۔اگر بیٹا نہ ملے تو کیا اپنی ساری زندگی مر یضانہ انداز اور خود ترسی میں گزار دیں؟اگر آپ ہی خود کو بیٹا نہ پیداکرنے پر ”مجرم “مان لیں گی تو کیا آپ کے اردگرد موجود کم عقل ،حاسد ،کج فہم اور موقع پر ست اس کا فائدہ نہیں اٹھائیں گے؟کیا اس طرح آپ ان کو طعنہ زنی اور لفظوں سے دل چیر کر رکھ دینے کی اجازت نہیں دے رہیں؟
منفی خیالات سے آپ خود کو زندگی کے میدان میں ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح پیش تو کررہی ہیں،لیکن اپنے آنگن میں موجود ننھی پریوں کا بھی سوچیے۔

اس طرح آپ ان کو کیا سبق دے رہی ہیں ۔کل اگر ان میں سے بھی کسی کی گود میں بیٹا نہ اترا تو کیا وہ بھی خود کو مجرم تصور کرکے تمام خوشیوں اور رشتوں سے دور ہو جائیں؟
ہر قصے،کہانی کو سچ اور اصل زندگی مت جانیے۔لوگوں کی باتوں سے اتنا متاثر ہونے کی ضرورت نہیں کہ آپ ذہنی مریض ہی بن جائیں۔اگر آپ بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے افسردگی اور ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر کسی ذہنی امراض کے وارڈ میں پڑی ہوں تو آپ کی بچیوں کی پرورش کی ذمہ داری کون نبھائے گا،گھریلو معاملات کیسے چلیں گے۔

کیا شوہر دفتر،کاروبار اور دیگر کاموں کے ساتھ آپ کا خیال رکھ سکے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے آپ کی بچیوں کی دیکھ بھال بھی کرنا ہو گی۔
کیا آپ چاہتی ہیں کہ آپ گھر کے ایک کونے میں پڑی ہوں،آپ کے بچے بھی آپ سے دور رہنا چاہتے ہوں اور آپ کی اس غیر ضروری سوچ اور ذہنی تناؤ سے گھریلو نظام تباہ ہو جائے؟
آپ ہی کو طے کرنا ہے کہ اپنی زندگی کیسے گزارنا چاہتی ہیں ۔

یاد رکھیے آپ خود اپنی زندگی کو آسان بنائیں گی۔ یہ نہیں ہو گا کہ کوئی اپنی خدمات تھالی میں سجا کر آپ کو پیش کرے،اور نہ ہی ہر وقت ،ہر موقع پر کوئی آپ کی دل جوئی کے لیے موجود ہو گا۔کبھی کبھار ہمیں دوسرں سے زیادہ خود کو سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر آپ ایسے کسی دوراہے پر کھڑی ہیں تو آپ اپنے لیے سوچیں۔مانا کہ لوگوں کی باتیں ،رویوں اور جلی کٹی نظر انداز کرنا آسان نہیں ،اور نہ ہی آپ ایسی باتوں کو ہنس کرہوا میں اڑا سکتے ہیں ،مگر ایسے معمول کی زندگی پر اثر انداز بھی نہ ہونے دیں۔

اپنے دماغ کو پریشر ککرمت بننے دیں جس میں ہر وقت دوسروں کا رویہ ،سلوک ،آپ کے حوالے سے ادا کیے گئے ان کے الفاظ ،ان کی سوچ پکتی رہے۔دوسروں کے بعد آپ کا اپنی ذات اور معاملات سے متعلق منفی سوچ رکھنا، غیر ضروری حساسیت کا مظاہرہ کرنا بھی آپ کو تباہ کر سکتاہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-09-07

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Betiyaan Phool Hain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.