بند کریں
خواتین مضامینمضامینبریسٹ کینسر

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بریسٹ کینسر
جس کی جلد تشخیص سے زندگی بچائی جاسکتی ہے۔۔۔ یہ مرض قابل علاج ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس مرض کی جلد تشخیص قابل علاج ہے۔بروقت تشخیص کی صورت میں مرض پر 90فیصد قابوپایا جاسکتا ہے بلکہ پوری دنیا میں بروقت تشخیص ہونے کی صورت میں ”بریسٹ کینسر“ میں مبتلا 75فیصد خواتین میں کامیاب علاج کاتناسب90فیصد ہے
پروفیسر ڈاکٹر محمداشد چیمہ کے مطابق خواتین میں سب سے عام بیماری بریسٹ کینسر ہے۔اس وقت پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی خواتین میں بریسٹ کینسر (Breast Cancerیعنی چھاتی کے سرطان کا مرض بڑھارہا ہے۔تاہم یہ مرض قابل علاج ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اس مرض کی جلد تشخیص قابل علاج ہے۔بروقت تشخیص کی صورت میں مرض پر 90فیصد قابوپایا جاسکتا ہے بلکہ پوری دنیا میں بروقت تشخیص ہونے کی صورت میں ”بریسٹ کینسر“ میں مبتلا 75فیصد خواتین میں کامیاب علاج کاتناسب90فیصد ہے جبکہ پاکستان میں بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث صرف 25 فیصد خواتین ہی صحت یاب ہوپاتی ہے۔بروقت تشخیص سے نہ صرف مریض کی جان بچائے جاسکتی ہے بلکہ بریسٹ ریموؤل سرجری (Breast Removal Surgery) سے بھی بچاجاسکتا ہے۔
بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لئے تین طریقہ ہائے کارہیں یعنی اپنے سینے کاخود سے معائنہ کرنا، ماہر ڈاکٹر سے معائنہ وتشخیص اور میموگرافی کروانا․․مثلاََ 20سال سے بڑی عمر کی تمام خواتین ہرماہ خود تشخیصی معائنہ کرسکتی ہیں۔معائنے کے دوران جب بھی آپ کوتھوڑی سی تبدیلی محسوس ہوتو کسی عطائی یاجراح سے رجوع کرنے کی بجائے فوراََ ایک ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔خودتشخیصی معائنہ کے لئے کسی روشن کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑی ہوکرسینے کامعائنہ کریں کہ اس پر کہیں کوئی گلٹی،پھوڑا،زخم یاکسی مادے کااخراج تونہیں۔بغل،گردن یااس کے آس پاس کسی بھی قسم کی کوئی گلٹی وغیرہ محسوس ہوتو اسے قطعاََ نظر انداز نہ کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے