Chugli Na Khana Seekho

چغلی نہ کھاناسکھیو․․․․․

پیر جولائی

Chugli Na Khana Seekho
راحیلہ مغل
خواتین چغلی نہ کریں ،افواہیں نہ اُڑائیں تو کیا کریں۔کیونکہ وقت گزارنے کا یہ ایک بہترین مشغلہ ہے۔لیکن اب خبر آئی ہے کہ فلپائن کے ایک قصبے بائنا لونن کے مےئر نے افواہیں پھیلانے اورکھسر پھسر کرنے کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے ۔لہٰذااب اس علاقے کی خواتین کو ہوشیار باش کردیا گیا ہے کہ اگر اب کسی نے افواہ اُڑائی تو اُسے کڑی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ،اور سڑک کی تین گھنٹے صفائی کرنی پڑے گی۔

ویسے سوچنے کی بات ہے اگر یہی پابندی ہمارے پاکستان کے لاہور شہر پر لگادی جائے تو لاہورکی سڑکیں کیا گلیاں بھی صاف شفاف ہو جائیں اورگھروں سے لڑائیاں بھی ختم ہو جائیں گی۔ دراصل ہمارے اکثر گلی محلوں میں اکثر مردوں اور عورتوں کا کام ہی افواہیں پھیلانا ہوتا ہے اور ایسے لوگ اپنی فنکاری کی وجہ سے بہت مشہور ہوتے ہیں ۔

(جاری ہے)

بعض دفعہ لوگ ایسی افواہیں بھی دوسروں تک پہنچاتے ہیں جو کہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتیں، اس کے باوجود لوگ اُن کی باتوں پر اس طرح یقین کرتے ہیں جیسے وہ بہت سچائی پر مبنی ہوں جبکہ ایسی خبریں اور افواہیں لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بنتی ہیں۔
لیکن عورتوں کو کیسے سمجھایا جائے کہ غیبت نہ کریں کیونکہ اُن کا خیال ہے کہ غیبت تو ایک دوسرے کو یاد رکھنے کا بہانہ ہے ۔

کسی مشہور دانشور،فلسفی اور مفکر نے بھی ازراہ مذاق کہہ دیا ہے کہ،”سُن بے،اگرد نیا میں نام بنانا اور یاد رہنا ہے پیارے !تو لوگوں کے ساتھ اتنی بُری کر کہ کوئی تجھے بھول نہ پائے۔“موصوف خود اپنے ہی قول کی عملی تفسیر تھے ۔کبھی کسی سے قرض لے کرواپس نہیں کیا،سومتاثرین کے گھروں میں ہر روز ان کا نام لیا جاتا،مگر کچھ غیر انسانی ناموں کے ساتھ اور بڑے مقدس رشتوں اور نہایت ”نجس“افعال کو جوڑ کر۔


قصبے بائنا لونن کے باسیوں کے لیے ہماری تجویز ہے کہ وہ اب غیبت نہ کریں بلکہ ہر ایک کے”باہمی تعلقات “اور”مالی معاملات “کا تذکرہ یوں کریں کہ وہ کسی زاویے سے بھی غیبت نہ لگے۔اسی طرح کسی کے مالی معاملات یوں زیر بحث آسکتے ہیں ،”مسٹر ڈھما کے نے پچھلے دو سال میں جو زمینیں خریدیں اور مکان بنائے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ یقینا ایک وقت ایسا آیا تھا کہ زمینیں اتنی سستی ہو گئی تھیں کہ بس ایک دن سگریٹ نہ پیو پیسے بچا کے زمین خرید لو،دوسروں کو اس ارزانی کی بھنک بھی نہ مل پائی،مسٹر ڈھماکے کی قسمت اچھی تھی جو انھوں نے دھڑا دھڑ زمینیں خرید لیں اور امیر ہو گئے۔

۔۔ان کی ایمان داری پر کوئی شک۔۔۔۔۔بالکل نہیں۔“
اپنی سمجھدارخواتین کو افواہ کے بارے میں مزید بتاتے ہیں کہ افواہ کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی وجوہات ،اقسام اور اثرات پر نظر ڈالی جائے۔عام طور پر لوگوں کی آپس کی رنجش ،کشیدگی اور لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے بھی افواہ جنم لیتی ہے۔یہ ایسے معاشرے میں خوب پھلتی پھولتی ہے جہاں جہالت کا دور دورہ ہوا ور خبروں کی تصدیق نہ کی جاتی ہو یا ایسے معاشرے کی جہاں اخبارات ،ریڈیو اور ٹی وی جیسی سہولیات موجود نہ ہو یا کم ہوں ۔

خبروں کی تصدیق نہ کرنا افواہ کی بڑی وجہ بنتی ہے۔
افواہ کی تعریف کچھ یوں بھی کی جاسکتی ہے “باہمی گفتگو سے ایک خبر جنم لیتی ہے جو بنا تصدیق کے ایک شخص سے دوسرے تک منتقل ہوتی رہتی ہے ”۔افواہ میں کچھ عنصر سچ کا بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جھوٹ ہو اور خود سے گھڑی گئی ہو ۔افواہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔
افواہ عمومی طور پر نقصان کا باعث بنتی ہے ۔

بنا تصدیق کے کسی بھی خبر کو پھیلانا کم عقلی کی نشانی ہے ۔بعض دفعہ یہ نا صرف ہمارے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتی ہے یہی وجہ ہے کہ فلپائن کے قصبے کے نئے قانون کے تحت افواہیں پھیلانے والے کو جرمانہ دینا ہو گا اور تین گھنٹے تک سڑک کی صفائی کرنی ہو گی۔اگر چہ افواہ کی تعریف نہیں بتائی گئی ہے ،تاہم قصبے کے مےئر رامون گائکو کا کہنا ہے کہ قصبے کے رہائشیوں کے باہمی تعلقات یا ان کے مالی معاملات کے حوالے سے غیبت کرنا یا افواہ پھیلانا قابل تعزیر جرم تصور کیاجائے گا۔


رہی بات افواہ کی تو بہ قول شاعر:
بس تِرے آنے کی اک افواہ کا ایسا اثر
کیسے کیسے لوگ تھے بیمار ،اچھے ہو گئے
یعنی داغوں کی طرح افواہیں بھی اچھی ہوتی ہیں ۔کم از کم یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ افواہیں اچھی بھی ہوتی ہیں ،جیسے یہ افواہیں کہ نوکریاں برسنے والی ہیں،اربوں پیڑلگ گئے ہیں اور لاکھوں مکانات بننے کو ہیں۔ ان افواہوں کے پھیلنے اور پھلنے پھولنے سے لوگوں کی آس بندھی رہتی ہے ،آس کا بندھار ہنا ہی اچھا ہے ورنہ کھل گئی تو افواہ سے زیادہ خود پھیل جائے گی اور کٹ کھنے بیل کی طرح ٹکریں مار مار کر افواہیں پھیلانے والوں کا یوں حلیہ بگاڑے گی کہ وہ افواہ کے ساتھ ہاتھ پھیلانے کے قابل رہیں گے نہ گند پھیلانے کے۔
تاریخ اشاعت: 2019-07-15

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Chugli Na Khana Seekho" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.