بند کریں
خواتین مضامینمضامینکوکوچینل1883ء تا 1971ء

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کوکوچینل1883ء تا 1971ء
عمیق اثرات مرتب کرنے والی فیشن ڈیزائنرکوکوچینل کامخصوص لباس اُس کی شناختی علامت تھا: اُون سے بنی ہوئی سادہ سی قمیص، کالرکے بغیرکوٹ نماجیکٹ، موتیوں یاسونے کی زنجیریاں، سفیدیا کالے رنگ کے جوتے اور ایک چمڑوں کے ٹکڑوں سے بناہوا پرس۔
عمیق اثرات مرتب کرنے والی فیشن ڈیزائنرکوکوچینل کامخصوص لباس اُس کی شناختی علامت تھا: اُون سے بنی ہوئی سادہ سی قمیص، کالرکے بغیرکوٹ نماجیکٹ، موتیوں یاسونے کی زنجیریاں، سفیدیا کالے رنگ کے جوتے اور ایک چمڑوں کے ٹکڑوں سے بناہوا پرس۔ لیکن فیشن کے میدان میں چینل کے اثرات بہت متنوع ہیں۔ اُس نے عورتوں کو چھاتی بند (کورسیٹ) اور لانگ سکرٹس سے بجات دلاکر سارٹ سکرٹس، سادہ جرسیاں، سوٹ ، لباس، شمیزیں، لمبے گلے والے سویٹر، کاردیگن، ٹراؤزرز، چھوٹی ایڑی والی جوتیاں اور” چھوٹے چھوٹے کالے لباس“ (جوآج کسی بھی موقعہ کے لیے موزوں خیال کیے جاتے ہیں) پہننے کے قابل بنایا۔ چینل نے امراکے لیے نفیس پوشاکیں ڈیزائن کیں اور ہرکسی کے لیے پہننے میں آسان اور آرام دہ لباس تخلیق کیے۔ اُس کے وضع کردہ سپورٹس ویئرجدید، آزاد عورت کاخاصا بن گئے اور دنیا بھر میں بے شمار فیشن ڈیزائنرزنے اُن کے نقل کی۔
گابریئل بون ہیورچینل نے خود کوچھاتی اور کمربند کے علاوہ دیگر چیزوں سے بھی آزادی دلائی۔ وہ Loireدریاکے کنارے واقع قصبے Saumurکے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئی۔ چینل پھیری لگاکر مصنوعات فروخت کرنیو الے البرٹ چینل اور Jeanne Devolleکی دوسری ناجائز اولاد تھی۔ اُس کی ماں مزید ایک بیٹی اور دوبیٹوں کوجنم دینے کے بعد مرگئی۔ تب گابریئل کی عمر بارہ برس تھی۔ البرٹ چینل کے غائب ہوجانے پردونوں لڑکے بے اجرت زرعی مزدور بن گئے جبکہ لڑکیوں کو راہباؤں کے زیر اہتمام چلنے والے ایک یتیم خانے بھجوادیا گیا۔ اگرچہ والدین نے اُس کی پیدائش کے فوراََ بعدہی شادی کرلی تھی لیکن چینل ساری زندگی اس حوالے پریشان رہی کہ کہیں اُس کے ناجائزپن کا راز افشانہ ہوجائے۔ Madsenنے لکھا۔ وہ اس سچائی کے ساتھ کبھی بھی زندگی نہ گزار سکی اور نوجوانی کے تمام برسوں کے دوران متواتراپنی داستان حیات کوباربار گھڑتی رہی۔
یتیم خانے میں چھ برس گزارنے کے بعد گابریئل اور اُس کی بڑی بہن جولی کوخیراتی بنیادوں پر Moulinsمیں واقع سکول میں داخل کرلیا گیا۔ بیس برس کی عمر میں گابریئل اپنی جوان خالہ ایڈریئن کے پاس گئی اور مولنز میں واقع ایک گارمنٹس کی دکان میں بطور اسسٹنٹ کام کرنے لگی۔ اُس نے ایک ماہر درزن کے طور پر شہرت حاصل کرلی۔ کمائی میں ا ضافہ کرنے کی خاطر وہ شام کے وقت ایک درزی کے پاس کام کرتی اور ساتھ ساتھ نجی طور پر کپڑوں میں ترمیم بھی کرتی۔ وہ جوان فوجی افسروں کے ساتھ ڈیٹس پر بھی جاتی جواُسے ایک مقامی نائٹ کلب میں لے کرجاتے۔ وہ کلب میں گیت گاتی۔کہانی کے مطابق اُس کے نام ” کوکو“ کی وجہ پیرس کی ایک عورت کے بارے میں لوک گیت تھا جس کا کتا’ کوکو‘ گم ہوگیا تھا۔
1905ء میں چینل ایک امیرکبیرجوان سابق فوجی افسر Etienne Balsanکے ساتھ رہنے لگی جس نے گھوڑے پالنے کاشوق اپنا لیا تھا۔ بالسن کی جاگیر اور پیرس کے نزدیک فیشن ایبل گھوڑ ریس کی جگہوں کے قریب چینل رکھیل عورتوں، اشراف، امرأ، آرٹسٹوں اور گھوڑوں کے شوقین افراد سے متعارف ہوئی۔ اُس نے سماجی محفلوں میں اپنی خوب صورتی کافائدہ اٹھایا اور لباس کا مخصوص اندازاپنا کر اُبھرتی ہوئی نسوانیت پسندی کی بازگشت پیش کی۔ اُس کا مردانہ نسوانی انداز جاری طرز کے عین برعکس تھا۔ میڈسن لکھتی ہے: اگر لانگ چیمپ کے گرینڈ سٹینڈ میں موجود خواتین پروں والے ہیٹس اور گھاس پر گھسٹتی ہوئی سکرٹس پہن کر آتیں توچینل چست ریس ٹریک میں ملبوس ہوتی۔ وہ رائیڈنگ سکرٹ کے بجائے بردجس پہنتی۔ اُس کے ہیٹس نے سب سے پہلے توجہ حاصل کی، اور وہ دوستوں کے لیے مختلف قسم کے سرپوش ڈیزائن کرنے لگی۔ 1913ء میں اپنے نئے محبوب، ایک برطانوی سفیر اور کوئلے کی کانوں کے مالک امیر کبیرآدمی آرتھر” بوائے“ کیپل کی مالی امداد سے اُس نے پیرس اور Deauville میں ہیٹ بنانے کاکاروبار شروع کیا۔ جلد ہی اُس نے اپنی کولیکشنز میں سپورٹس ویئر کااضافہ کرلیا۔ 1915ء میں فرانسیسی ریزارٹ Biarritzمیں اپنا پہلا فیشن ہاؤس کھولا۔
1920ء اور 1930ء کی دہائی میں چینل کی کامیابی اپنے عروج پر تھی۔ اُس کے ڈیزائن کے ہوئے ملبوسات کی آزادانہ نفاست نے اُس بے پناہ مقبول بنادیا۔لڑکوں جیسی جوان” نئی خواتین“ نے ان ملبوسات کوہاتھوں ہاتھ لیا۔ 1930ء کی دہائی میں ایلسا سکیاپاریلی جیسے پرجوش نوواردگان کے ساتھ مقابلے کے باوجود چینل کے سادہ، کلاسیکی سوٹ، لباس، شام کے لباس اور سپورٹس ویئر بدستور مقبول رہے۔ اس کے علاوہ اُس نے تھیئٹر اور بیلے پروڈکشنز اور فلموں کے لیے کپڑے بھی ڈیزائن کیے:مثلاََ Jean Renoirکی” رولز آف دی گیم۔ 1930ء کی دہائی کے اواخر میں چینل فرانس کی امیر ترین ملبوسات سازبن چکی تھی۔ وہ اپنے فیشنز کے ساتھ ساتھ مشہور ومعروف دوستوں کی وجہ سے بھی شہرت کی حامل تھی جن میں آئیگو سٹراونسکی، ونسٹن چرچل، پبلوپکاسو اور کولیٹ بھی شامل تھے۔
دوسری عالمی جنگ شروع ہونے پر چینل نے نامعلوم وجوہ کی بناپر” ہاؤس آف چینل“ بندکر کے سارے عملے کوبھی فارغ کردیا۔ بس ایک بوتیک کھلارہا۔ جنگ کے دوران چینل کارویہ مثالی نہیں تھا۔ وہ اس عرصے میں ایک جرمن سفیر کی محبوبہ بن کررہی اور اپنے جرمن روابط کوکام میں لا کر ایک اعلیٰ اختیاراتی ایس ایس آفیسر کوقائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ونسٹن چرچل کے نام امن کی پیش کش دے کراُسے میڈرڈ بھیجے۔ چینل نے میڈرڈتک کاسفر توکیا مگر ونسٹن چرچل سے ملاقات کی اجازت حاصل نہ کر پائی جنگ کے بعد برطانویاں نے اُسے سازش کے شبہ میں تین گھنٹے تک زیر حراست رکھا اور پھر چھوڑ دیا۔
کرسٹیان ڈائر کی” نیولک“ اور Givenchiجیسے نوجوان ڈیزئنروں کی چمک کے آگے گہنا جانے کے باعث چینل فیشن کی دنیا سے غائب ہونے لگی۔ وہ جنگ سے پہلے کی دور کی فیشن ڈیزائنرتھی اور اب اُس کے پاس اپنا فیشن ہاؤس بھی نہیں تھا۔ 1953ء میں اُس نے ” ہاؤس آف چَینل“ دوبارہ کھولا اور نئی کولیکشنز پیش کیں۔ اُس کی شہرت دوبارہ بڑھنے لگی اور آج بھی جاری ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے