Corona Virus Or Khawateen

کورونا وائرس اور خواتین

پیر اپریل

Corona Virus Or Khawateen
راحیلہ مغل
کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے ۔معاشرے کا ہر طبقہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ،مگر یہ صورتحال خواتین کے لئے خاص طور پر شدید ذہنی تناؤ اور نفسیاتی دباؤ کی وجہ بن چکی ہے ۔کورونا کی وجہ سے سب اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر دن گزار رہے ہیں لیکن موبائل پر بہن بھائیوں اور رشتہ داروں سے سب رابطہ رکھے ہوئے ہیں ۔

آجکل اکثر خواتین موبائل پر اس قسم کی گفتگو کرتی نظر آتی ہیں کہ”میں تو بچوں کو صحن میں بھی نکلنے نہیں دے رہی۔ اگر ان بچوں میں سے کسی ایک کو بھی کورونا ہو گیا تو میں تو جیتے جی مر جاؤں گی۔“مجھے لگ رہا ہے کہ مجھ میں کورونا وائرس کا ’ہوا‘بس گیا ہے ۔سانس لیتے بھی اب تو ڈر لگ رہا ہے “۔

(جاری ہے)

دراصل خود ساختہ تنہائی یا سماجی دوری اختیار کرنے والے تقریباً تمام ہی گھرانوں میں اس وقت لوگ شدید ذہنی تناؤ اور کوفت میں مبتلا ہیں ۔

جہاں گھر کے مردوں کو مالی خدشات گھیرے ہوئے ہیں وہیں خواتین بھی ایسے ماحول کا تناؤ شدت سے محسوس کر رہی ہیں۔
گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لئے آنے والی ماسیوں کو بھی چھٹی دے دی گئی ہے ۔گھر اور کچن کے کاموں سے فرصت ملتی ہے تو بچوں کو زبردستی پڑھانے کے لئے ان کے ساتھ لگنا پڑتا ہے ۔بچے بھی گھر میں اب شدید بور ہو رہے ہیں ۔آخر کتنا پڑھیں یا کتنا کھیلیں ؟پھر شوہر سمیت گھر کے تمام مرد بھی گھر پر ہوتے ہیں تو یا تو فرمائشی کھانوں کا سلسلہ لگا کر رکھتے ہیں یا پھر ٹی وی پر خبریں دیکھ کر ان پر تبصرے کرتے رہتے ہیں ایسے میں خواتین کے لئے اپنے لئے وقت نکالنا مشکل ہو چکا ہے۔


کورونا کے بعد یہ صورت حال اب کسی ایک گھر کی نہیں بلکہ گھر گھر کی کہانی ہے ۔گھروں پر محدود رہنے اور فراغت نے جہاں کورونا کے پھیلاؤ میں کمی کرنے میں مدد دی ہے ،وہیں دوسری جانب خواتین خانہ کے لئے گھریلو کام اور ذہنی اذیت میں بھی اضافہ کر دیا ہے ۔بچوں کے سکول اور شوہر حضرات کے دفاتر جانے کے بعد یہ خواتین دو گھڑی تو سکون کا سانس لیتی تھیں لیکن اب ناشتے ،کھانے اور چائے کا کوئی وقت ہی متعین نہیں۔


بچے ہیں تو وہ سکول نہیں جا رہے اور ایک طویل مدت تک انہیں تعطیلات دے دی گئی ہیں۔ ان بچوں کی کوئی روٹین نہیں کیوں کہ انہیں کوئی ہوم ورک نہیں مل سکا ،اس لئے کوئی کارٹون دیکھ رہا ہے تو کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا اور کوئی بہن بھائیوں کے ساتھ جھگڑ رہا ہے ۔شوہر حضرات بھی گھر پر ہی ہیں اور وہ خواتین جو معمول کے مطابق اپنے بجٹ کے حساب سے ایک ہانڈی پکاتی تھیں ،اب انہیں فرمائشی کھانے بنانے پڑ رہے ہیں ۔

گھر پر رہ کر میاں بیوی کے درمیان جن باتوں پر لڑائی نہیں بھی ہوتی تھی ،وہ بھی معمول کا حصہ بن چکی ہے۔ بچوں کی مارکٹائی ،ڈانٹ ڈپٹ اور بحث وتکرار معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔
خواتین کا حال اس سے بھی برا ہے ۔وہ بھی کہیں نہیں جا سکتیں ،سہیلیوں سے فون پر بات بھی نہیں کر سکتیں کیونکہ گھر کے کاموں سے ہی فرصت نہیں مل رہی ۔ایک عام عورت جو ابھی ڈرائنگ روم کی صفائی کرکے ہٹتی ہے تو بچے باتھ روم گندا کر دیتے ہیں ،واش روم کو دیکھتی ہے تو بچے باورچی خانے میں تانکا جانکی کرنے لگ جاتے ۔

بچے ایک طرف سکون نہیں لے رہے اور دوسری طرف سینیٹائزر کو مذاق سمجھ کر بار بار لگاتے ہیں اور جگہ جگہ پر ماسک بکھرے ہوئے اور ٹشوز کا انبار لگا رکھا ہے ۔مائیں آجکل یہی کہتی پھر رہی ہیں یہ نہ کرو وہ نہ کرو لیکن بچے ہیں کہ سننے کا نام نہیں لے رہے ایسے میں جن کے چھوٹے بچے ہیں تو ان کے پمپرز بدلنے کا دھیان ،ساس سسر ہیں تو ان کے لئے پر ہیزی کھانے ․․․․آخر ایک گھریلو خاتون کیا کچھ کرے اور کب تک کرے؟
البتہ کئی گھرانے ایسے ہیں جہاں عبادات ہو رہی ہیں ،لوگ تلاوت قرآن پاک بھی کر رہے ہیں،نمازیں بھی باقاعدگی سے ادا کر رہے ہیں لیکن ان کی تعداد کم ہے ،زیادہ تر گھرانوں اکثریت ٹی وی دیکھ رہی ہے ،سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے ،خواتین کی زندگی بچوں اور بڑوں ،دونوں نے عذاب بنا کر رکھ دی ہے ۔

آج اس آرٹیکل میں صرف اتنا کہناہے کہ مشکل وقت ہے ،گزر ہی جائے گا صبر سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گھر والوں کے لئے صحت کی دعا کرتی رہیں مرد حضرات سے بھی گزارش ہے کہ گھر میں رہ کر اپنی ماؤں بہنوں اور بیگم کا خیا ل رکھیے۔ وہ بھی انسان ہیں ،انہیں بھی آرام اور ذہنی سکون کی اشد ضرورت ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-04-20

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Corona Virus Or Khawateen" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.