Dawain Aur Chote Bachay - Special Articles For Women

دوائیں اور چھوٹے بچے - خواتین کیلئے مضامین

جمعرات 2 دسمبر 2021

Dawain Aur Chote Bachay
جدید ادویہ کو اگر مناسب اور صحیح طریقے سے کھایا جائے تو یہ موٴثر بھی ثابت ہوتی ہیں اور بے خطر بھی۔اگر آپ دواؤں سے مکمل طور پر فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں تو یہ بات اہم ہے کہ آپ اس سلسلے میں معالج سے مشورہ کریں،تاکہ آپ اچھی طرح جان لیں کہ دوا کس طرح کھانی ہے، کب کھانی ہے اور کتنی کھانی ہے۔ہو سکتا ہے کہ معالج آپ کو کسی دوا کے بارے میں خصوصی ہدایات بھی دینا پسند کرے اور اگر آپ اپنی یا اپنے خاندان کے کسی فرد کی دوا کے بارے میں مزید کوئی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بھی معالج سے معلوم کر سکتے ہیں۔


دواؤں کے سلسلے میں آپ کو ایک بات خاص طور سے یاد رکھنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی دوا نہیں کھانی چاہیے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ جو دوا ایک شخص کے لئے مفید ہے،وہ دوسرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہو۔

(جاری ہے)

بعض اوقات معالج ایک مریض کے لئے بہت تیز دوائیں تجویز کرتا ہے،جو دوسرے کے لئے مضر ثابت ہو سکتی ہیں،خصوصاً بچوں کو کبھی بھی اپنی کوئی دوا نہیں دینی چاہیے۔

چھوٹے بچوں کو خاص طور پر دواؤں کے بارے میں تجسس ہوتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اس میں کیا خطرہ ہے۔بچوں کو دوا کی رنگین گولیوں اور رنگین مٹھائیوں میں فرق محسوس نہیں ہوتا۔
اب آپ شاید یہ سوال کریں کہ پھر دوائیں بنانے والے ایسے رنگوں اور شکلوں کی گولیاں بناتے ہی کیوں ہیں،جو بچے دھوکا کھا جائیں؟تو اس کا جواب سیدھا سادا ہے۔مجبوری یہ ہے کہ آسانی سے نگلی جانے والی گولیوں کی دو تین شکلیں ہی ہو سکتی ہیں اور رنگ اس لئے تیز اور مختلف ہوتے ہیں،تاکہ وہ لوگ جو ایک ہی وقت میں کئی کئی گولیاں کھاتے ہیں،آسانی سے گولیوں کو پہچان سکیں۔


آپ بچوں کو اس طرح کی تربیت دیجیے کہ وہ کسی بھی انجانی اور نامانوس چیز کو کھانے سے پہلے معلوم کر لیں کہ یہ کیا ہے؟بچوں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ دوائیں،بچوں کا کھیل نہیں ہیں۔بچوں کو دوا پینے اور کھانے پر آمادہ کرنا ذرا مشکل کام ہے،لیکن انھیں آمادہ کرنے اور بہلانے کے لئے دوا کو مٹھائی کہہ کر نہیں کھلانا چاہیے۔اس طرح وہ دوا اور مٹھائی میں فرق کرنے میں مزید اُلجھن میں پڑ جائیں گے۔


دوائیں مختلف شکلوں میں آتی ہیں اور یہ سب کی سب بچوں کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔بعض ملکوں میں اب دوا کی گولیاں ایسی بوتلوں میں ملتی ہیں،جن کا ڈھکن بچے آسانی سے نہیں کھول سکتے۔نہ صرف یہ کہ ان ڈھکنوں کو کھولنا بچوں کے لئے مشکل ہوتا ہے،بلکہ انھیں جب کھولنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کڑ کڑ کڑ کی ایسی آواز نکلتی کہ بڑوں کو پتا چل جاتا ہے کہ کوئی بوتل کھولنے کی کوشش کر رہا ہے،لیکن اکثر بچے انھیں کھول بھی لیتے ہیں۔

یہ بوتلیں یہ شیشیاں نسبتاً بے خطر ہیں،لیکن پھر بھی انھیں بچوں کی پہنچ سے باہر رکھنا چاہیے۔
آپ کی دوا گولیوں کی شکل میں ہو‘شربت کی شکل میں یا ٹیوب میں رکھے ہوئے مرہم کی شکل میں،ہر صورت میں یہ بچوں کی دلچسپی کی چیز ہوتی ہے،لہٰذا اپنا یہ اصول بنا لیجیے کہ دوائیں ایسی جگہ پر رکھیے،جہاں بچے نہ پہنچ سکیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ اپنی دوائیں کہاں رکھتے ہیں؟ہینڈ بیگ یا بریف کیس میں،اپنے بستر کے قریب رکھی ہوئی میز پر یا پھر الماری میں؟ایک جائزے سے پتا چلا ہے کہ 90 فیصد والدین دوائیں ایسی جگہوں پر چھوڑ دیتے ہیں،جہاں وہ بچوں کی پہنچ میں ہوں۔

اکثر والدین کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر دوا بچوں کی آنکھ سے اوجھل ہے تو پھر کوئی خطرہ نہیں،لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔بچوں میں تجسس کا مادہ ہوتا ہے اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ والدین نے دوائیں کسی چیز کے پیچھے چھپا دیں یا کہیں اونچی جگہ رکھ دیں اور بعد میں معلوم ہوا کہ بچے نے انھیں تلاش بھی کر لیا اور کھا بھی لیا،جس کی وجہ سے اسے سخت نقصان پہنچ گیا۔


اگر آپ کے گھر میں بچے ہیں یا بچے آپ کے گھر آتے رہتے ہیں تو دواؤں کو محفوظ جگہ پر رکھنا نہ بھولیے۔جب تک آپ کا معالج مشورہ نہ دے،دوا کو فریج میں نہ رکھیے۔اگر آپ کو دوا فریج میں رکھنے کا مشورہ دیا جائے اور گھر میں بچے بھی ہوں تو فریج میں سیفٹی لاک لگانا نہ بھولیں۔
کھانے کے بعد جو دوائیں بچ جاتی ہیں،بہتر ہو گا کہ آپ انھیں تلف کر دیں،لیکن ڈسٹ بن یا کوڑے دان میں پھینکنا ٹھیک نہیں،کیونکہ کوڑے دانوں سے یہ چیزیں کوڑے کے ساتھ کوڑے کے ڈھیر پر جائیں گی،جہاں سے کچرا چُننے والے بچے انھیں اُٹھا سکتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خیال ہے کہ کسی بچے نے کوئی دوا نگل لی ہے تو جس قدر جلد ممکن ہو،بچے کو نزدیکی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جائیے۔ ساتھ وہ شیشی یا ڈبا بھی لے جائیے،جس میں سے بچے نے دوا کھائی ہے،تاکہ معالج کو صحیح اندازہ لگانے میں مدد ملے۔بچے کو قے کرانے کی کوشش خود نہ کیجیے۔ہو سکتا ہے اس سے اور زیادہ نقصان پہنچے۔اگر بچہ بے ہوش ہے تو اسے کروٹ سے لٹا دیجیے،تاکہ وہ بہ آسانی سانس لے سکے اور اگر اسے قے ہو رہی ہے تو وہ اس کی سانس کے ساتھ اندر نہ جائے۔


مختصر یہ کہ دوائیں بچوں سے البتہ دور رکھیے۔بچوں کو سمجھائیے کہ دوائیں کھیل کی چیز نہیں ہیں۔بچوں کو یہ بھی سمجھائیے کہ کسی نامانوس چیز کو نہ کھائیں۔جن دواؤں کی آپ کو ضرورت نہیں ہے تو انھیں بہ حفاظت تلف کر دیجیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-12-02

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Dawain Aur Chote Bachay" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.