بند کریں
خواتین مضامینمضامینڈوروتھیالانگے(1895ء تا1965)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈوروتھیالانگے(1895ء تا1965)
1930ء کی دہائی کے اوائل میں سان فرانسسکو کی سڑکوں پر بے روزگار مردوں کی تکالیف کا نظارہ مزید برداشت نہ کرسکنے والی ڈوروتھیالانگے نے سوسائٹی فوٹو گرافر کے طور پر شاندار کیرئیر تیاگ کرمعاشی بحران کاشکار بننے والوں کاریکارڈتیار کرنا شروع کیا۔
1930ء کی دہائی کے اوائل میں سان فرانسسکو کی سڑکوں پر بے روزگار مردوں کی تکالیف کا نظارہ مزید برداشت نہ کرسکنے والی ڈوروتھیالانگے نے سوسائٹی فوٹو گرافر کے طور پر شاندار کیرئیر تیاگ کرمعاشی بحران کاشکار بننے والوں کاریکارڈتیار کرنا شروع کیا ۔ اُس کی اولین کوشش کا نتیجہ نہایت مشہور فوٹو گرافس کی صورت میں برآمدہوا۔ایک تصویر”White Angel Breadline“ میں ایک آدمی کو دکھایا گیا جو اپنے ہاتھوں میں خالی مگ لیے ہوئے ہے اور پس منظر میں کھانا وصول کرنے والے آدمیوں کی طویل قطارلگی ہے۔ آگے چل کر اُس نے بدحال دیہی امریکیوں کی نہایت زبردست تصاویر اُتاریں جن کے ذریعہ قوم کی اُن کی حالت زار سے آگاہی ہوئی۔
ڈوروتھیاہوبوکن، نیوجرسی میں پیداہوئی۔وہ جو آن اور ہاورڈNutzhornکی سب سے بڑی بیٹی تھی۔ سات سال کی عمر میں وہ پولیو کاشکار ہوئی اور ساری عمر لنگڑا کرچلتی رہی ۔ جب وہ بارہ برس کی تھی تواُس کا وکیل باپ گھروالوں کو چھوڑ کرچلاگیا ۔بیوی اور بچے جوآن Nutzhornکی ماں کے پاس چلے گئے اور ڈوروتھیاکاتبادلہ من ہیٹن کی لوئرایسٹ سائیڈ میں واقع پبلک سکول میں ہو گیا۔ 1907ء میں طلاق کے بعد جوآن نے اپنا شادی سے پہلے کانام لانگے اپنالیا۔ بیٹی ڈوروتھیانے بھی اُس کی تقلیدکی۔
سکول میں ناخوش اور گھر میں اپنی جابرنانی کے برے سلوک کی شکار ڈوروتھیااکثر شہر کی گلیوں میں گھومتے پھرتے ہوئے سارادن گزارتی اور تمام دیکھے ہوئے مناظر کا بغور جائزہ لیتی۔ اُس نے 1913ء میں ہائی سکول سے گریجوایشن کی اورفوٹوگرافربننے کاتہیہ کرلیا․․․․ حالانکہ وہ اس کام کے بارے میں بہت کم جانتی تھی اور کبھی کیمرہ تک استعمال نہیں کیاتھا۔ 1914ء سے 1917ء تک نیویارک ٹریننگ سکول فار ٹیچرز“ میں پڑھنے کے دوران لانگے نے مشہور پورٹریٹ فوٹوگرافرز کے ساتھ کام کیا․․․․․ مثلاََ آرنلڈ گینتھے، چارلس ایچ ڈیوس۔ اس نے کولمبیایونیورسٹی میں مشہور فوٹو گرافر کلیرینس ایچ وائٹ کے پاس بھی مطالعہ کیا۔
ایچ وائٹ کے ساتھ اپنا کورس ختم ہونے پرلانگے ایک بڑاساکیمرااور دولینزخرید کرلائی اور اپناکام شروع کردیا۔ اُس نے مرغیوں کے دڑبے سے ڈارک روم کاکام لیا۔ 1918ء میں اُس نے دنیا میں ادھر اُدھر گھوم پھر کر فووٹوگرافس بنانے کے لیے نیویارک کو خیربادکہااور سان فرانسسکو تک گئی۔ وہاں اُس نے ایک فوٹوdinisherکے طور پر کام کیا اور ایک کیمراکلب کی رکن بنی 1919ء میں ایک قریبی دوست سے رقم لے کر پورٹریٹ کاکاروبار شروع کیا۔ اُس کا سٹوڈیوبہت سے آرٹسٹوں کی محفل گاہ بن گیا۔ ان میں لانگے سے اکیس سال بڑاپینٹرمینارڈڈکسن بھی تھا۔ دونوں نے 192ء میں شادی کرلی۔ سارے عشرے کے دوران لانگے کاترقی کرتا ہواکاروبار زندگی گزارنے کے وسائل مہیاکرتا رہا۔ وہ دوبچوں کے والدین بن گئے تھے۔
1934ء میں اپنی ڈاکومنٹری تصاویرکی ایک نمائش پرلانگے کی ملاقات سماجی معیشت دان پال ٹیلرسے ہوئی۔ دونوں نے مل کر تحریر اور تصویر کی صورت میں ” کیلی فورنیا ایمرجنسی ریلیف ایڈمنسٹریشن“ کے لیے تارکین وط مزدوروں کی حالت کے بارے میں ریکارڈزمرتب کرنا شروع کیے۔ اُن کی فراہم کردہ پورٹس کے نتیجے میں ریاست نے تارکین وط کے لیے پہلا سرکاری کیمپ قائم کیا۔ لانگے اور ٹیلر نے 1935ء میں شادی کرلی۔لانگے کو مینارڈڈکسن سے طلاق لیے ابھی دوماہ ہی ہوئے تھے۔
1935ء سے 1942ء تک لانگے امریکہ بھرمیں سفر کرکے” فارم ایڈمنسٹریشن“ کے لیے دیہی امریکیوں پر معای دباؤ کے اثرات پر پورٹس تیارکیں۔ اُس کی لی ہوئی تصاویر متعددمیگزینوں اور اخبارات کے علاوہ کتابوں میں شائع ہوئیں۔ عوام نے ان کاگہرا اثر قبول کیا۔ ایک تصویر The migrant motherمیں قبل ازوقت بوڑھی ہوچکی عورت کو دکھایاگیا جس نے ایک بچے کو اٹھا رکھاتھا اور دیگر دو بچے کندھوں سے لٹکے ہوئے تھے۔یہ تصویردنیا بھر میں شائع ہوئی اور میڈیکل سہولیات کے لیے فنڈزجمع کرنے میں بہت معاون ثابت ہوئی۔ لانگے کاکام ایک کتاب بعنوان 1939 An american Exodus: A Record of Human Erosion میں شائع ہوا جواس ے پال ٹیلر کے ساتھ مل کر لکھی تھی۔
دوسری عالمی جنگ میں امریکہ کی شمولیت کے کچھ ہی عرصہ بعد” وارری لوکیشن اتھارٹی“ نے لانگے سے کہا کہ وہ کنسنٹریشن کیمپوں میں جاپانیوں کی نظر بندی کے بارے میں دستاویز تیار کرے۔ محبوس افراد کے ساتھ اُس کی ہمدردی نے اعلیٰ حکام کو شبہے میں ڈال دیا، اور اُس کی بہت سی تصاویر جنگ کے بعد بھی سرکاری تحویل میں رہیں۔ 1945ء میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیے یو این کانفرنسوں کے مندوبین کی تصاویر لیں۔ سان فرانسسکو کانفرنس میں خدمات انجام دینے کے دوران اُسے السرکی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ وہ 1951ء سے پہلے دوبارہ تصاویر لینے کے قابل نہ ہوسکی۔ تب اُس نے روز مرہ زندگی کواپنا موضوعی بنایا۔ لانگے نے Lifeکے لیے تین مشہور فوٹومضامین بھی تیار کیے 50ء کی دہائی کے اوخراور 60ء کی دہئی کے اوائل میں وہ ٹیلر کے ہمراہ ایشیا، وینزویلا، ایکواڈور اور مصرگئی۔ صحت خراب ہونے کے باوجود اُس نے موقع ملتے ہی اپنے کیمرے کو ضروراستعمال کیااور انسانی تاثرات کی ہمہ گیرمشابہتوں کو ریکارڈکرتی رہی۔
لانگے 1965ء میں غذائی نالی میں کینسر کے باعث سان فرانسسکو میں فوت ہوئی۔ اگلے برس میوزیم آف مارڈن آرٹ“ میں اُس کے کام کی ایک زیر التوأنمایش منعقد ہوئی اور امریکی عورت کے بارے میں اُس کی تحقیق The American country womenبھی منظر عام پرآئی۔
ڈوروتھی لانگے کی تصاویر نے اپنی سادگی اور براہ راست تاثر کے ذریعہ امریکی فوٹو جرنلزم کو عمیق طورپر متاثر کیا۔ ان تصاویر کو” انسانی تاریک کے نہایت شان دار تصویری ڈاکومنٹس “ خیال کیا جاتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے