بند کریں
خواتین مضامینمضامینعید کی تیاریاں اور گھریلو مصروفیت

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عید کی تیاریاں اور گھریلو مصروفیت
”عید الفطر ہو یا عید الضحیٰ خواتین شاپنگ اور سجنے سنورنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں ۔ اب چونکہ عید کا موقع ہے یقینا خواتین بننا سنورنا پسند کریں گی اور عید کی مناسبت سے بننا سنورنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
رابعہ علی :
”عید الفطر ہو یا عید الضحیٰ خواتین شاپنگ اور سجنے سنورنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں ۔ اب چونکہ عید کا موقع ہے یقینا خواتین بننا سنورنا پسند کریں گی اور عید کی مناسبت سے بننا سنورنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جہاں تک بات چہرے کی حفاظت کی ہے تو اس کا خاص خیال رکھاجانا چاہیے صرف عید کے موقع پر ہی نہیں بلکہ عید کی تیاری میں بھی خاص طور پر چہرے کی حفاظت بہت دن پہلے سے شروع کر دینی چاہیے۔ اس کیلئے پھل اور سبزیاں بکثرت استعمال کرنی چاہئیں ایک چارٹ بنا لیں اور اس کے مطابق چیزوں کا استعمال کریں مثلاً سیب، انار اور سلاد وغیرہ۔ سلاد اور ہرے پتو ں والی ترکاریاں کھانے سے خون صاف اورچہرے سے داغ دھبے اور دانے بھی صاف ہو جاتے ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کی مدد سے جلد کو قدرتی طور پر دیگر مسائل سے نجات مل جاتی ہے اور جلد خوبصورت اور جوان نظر آتی ہے۔ چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھ اور پاؤں کا بھی خیال رکھنا چاہیے جب بات ہاتھ اور پاؤں کو سنوارنے کی ہو تو مہندی کا ذکر ضرور آتا ہے اور عید پر تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔خواتین کیلئے عید کی خوشیاں بناو سنگھار اور ہاتھوں میں مہندی کے دلکش ڈیزائن بنوائے بغیر ادھوری ہوتی ہیں۔ یوں تو خواتین مہندی لگانا اور لگوانا پسند کرتی ہیں مگر چند سالوں سے خواتین میں بیوٹی پارلرز سے مہندی لگوانے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔عید سے چند روز قبل ہی شہر کے بیشتر بیوٹی پارلرز میں مہندی لگانے کیلئے ماہر بیوٹیشنز اور مہندی ارٹسٹ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ گلی محلے میں کھلے بیوٹی پارلرز کا کاروبار بھی چمک اٹھتا ہے۔ بیوٹی پارلرز پر کام کرنیو الی بیوٹیشنز کا کہنا ہے کہ عید پر زیادہ ترخواتین انڈین، راجستھانی، سوڈانی اور عربین ڈیزائن کی مہندی لگواتی ہیں، کم عمر بچیاں اور لڑکیاں ہاتھوں پر کہنی تک اور بازوں پر بھی مہندی کے ڈیزائن بنواتی ہیں جن میں اسٹون اور گلیٹرز کا استعمال بخوبی کیا جاتا ہے، خواتین کے بناؤ سنگھار اور مہندی کے حوالے سے شہر کے مختلف علاقوں میں باقاعدہ مینا بازار قائم کئے جاتے ہیں۔ شادی شدہ خواتین زیادہ تر انڈین ڈیزائن پسند کرتی ہیں جو کہ کافی بھرے ہوئے ڈیزائنوں پر مشتمل ہوتے ہیں اس کے علاوہ نوجوان لڑکیاں راجھستانی اور سوڈانی مہندی کے ڈیزائن پسند کرتی ہیں جوکہ زیادہ بھرے ہوئے نمونوں پر مشتمل نہیں ہوتیں۔ خواتین اسٹائلش کٹ مہندی لگوانا پسند کرتی ہیں۔باذوق خواتین سادہ اور منفرد ڈیزائن بنواتی ہیں جس کی فیس بھی زیادہ ہوتی ہے۔عام دنوں میں دونوں ہاتھوں پر مہندی لگانے کی اجرت 500 روپے وصول کی جاتی ہے جو چاند رات تک بڑھ کر 800 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔جن خواتین کے ہاتھوں کی رنگت سانولی ہو ان کو چاہیے کہ مہندی کا ڈیزائن بنانے کے دوران آؤٹ لائن گہری بنوائیں جو مہندی ہاتھ میں رچنے کے بعد گہرا رنگ دیتی ہے۔جب کہ گورے ہاتھوں میں باریک مہندی ہی رنگ رچانے کیلئے کافی ہوتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے