بند کریں
خواتین مضامینمضامینفیشن ہر دور کی ضرورت

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فیشن ہر دور کی ضرورت
اپنے ماحول، رواج اور شخصیت اور حسین فیشن وہی ہوتا ہے جس میں جدت کے ساتھ ساتھ اپنی تہذیب وثقافت سے ہم آہنگی ہو اور جسے اپنا کر آپ باذوق وباوقار دکھائی دیں

نسرین شاہین:
انسانی زندگی کا ارتقاء جس دن سے ہوا ہے انسان کو دیگر ضروریات ِ زندگی کے ساتھ ساتھ جسم ڈھانپنے کا احساس بھی رہا ہے پھر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی انسانی سوچ بھی بدلتی گئی اور آج کے اس ترقی یافتہ دور میں لباس صرف جسم ڈھانپنے کی بنیادی ضرورت ہی نہیں رہا بلکہ انسانی خوبصورتی میں انفرادیت کے اظہار کا ذریعہ بھی ہے آرائش وزیبائش میں لباس کو ہمیشہ سے مرکزیت حاصل رہی ہے اگرچہ بات جب آرائش و زبیائش کی ہو توتصور جو دزن کا ہی اُبھرتا ہے لیکن دورِ جدید کے بدلتے تقاضوں نے مردوزن دونوں کو ہی ان رنگوں سے آان کر دیا ہے جوپل بدل کر انہیں ہر دم ایک نئے احساس سے آشنا رکھتے ہیں اب ملبوسات نئی آب وتاب اور جدت کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔
فیشن ضرور اپنائیں مگر
فیشن کسی نہ کسی صورت ہر خاص و عام فرد کی زندگی میں شامل رہتا ہے ہر طبقے کے افراد اپنے اپنے معیار اور حیثیت کے مطابق اسے اپناتے نظر آتے ہیں۔ خصوصاََ جاب کرنے والی خواتین کو تپتی دوپہریں اور ٹھنڈی شامیں اس بات پر اکساتی ہیں کہ وہ وموسم کے مطابق خوبصورت اور دیدہ زیب لباس زیب تن کریں جن میں وہ پُر کشش نظر آئیں اور لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جائیں۔ یہاں خواتین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ چاہے کیسا بھی فیشن چل رہا ہو اور موسم چاہے کیسا ہی ہو ہر فرد کو اپنی شخصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا فیشن اختیار کرنا چاہیے جو نہ صرف ان کی شخصیت کے نکھار کا باعث بنے بلکہ یہ فیشن اپنا کر وہ نمایاں بھی نظر آئیں۔ ہمارے ہاں یہ رجحان عام ہے کہ خواتین دوسروں کی تقلید کرتی نظر آتی ہیں ڈراموں اور فلموں میں نظر آنے والے ملبوسات اور فیشن میگزینوں میں شائع ہونے والی تصاویر میں دکھائی دینے والے ڈریسز سے متاثر ہو کر ان لباسوں کو جوں تو توں اپنانے کی کوشش کرتی ہیں پھر ہوتا یوں ہے کہ ی ملبوسات اکثر شخصیت سے میل نہ کھانے کی وجہ سے پہننے والی کی شخصیت کو مضحکہ خیز بنا دیتا ہے۔
قدرت نے ہر انسان کو انفرادی سوچ اور دماغ عطا کیاہے۔ہر انسان میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لئے ہر معاملے میں بہترسے بہتر چیز کا انتخاب کر سکتا ہے۔آج کل جہاں فیشن کے دیگر شعبوں میں بے انتہا تیزی آگئی ہے وہی ملبوسات کے معاملے میں بھی آئے دن تبدیلیاں رونم ہو رہی ہیں۔فیشن اختیار کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اسے آپ کس مقوع پر زیب تن کریں گی۔ مثلاََ آپ ملازمت پیشہ ہیں تو آپ کو ایسا لباس زیب تن کرنا چاہیے جو آپ کو سوبر اور باوقار ظاہر کرائے کیونکہ اکثر خواتین اس طرح کے لباس پہن کر تعلیمی اداروں اور دفاتر میں آتی ہیں کہ دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی فیشن شویا پارٹی میں شریک ہونے کیلئے آئی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو اس بات کا خاص طورپر خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کالباس فیشن کے مطابق ضرورہو مگر باوقار اور سادگی کو ظاہر کر رہا ہو۔ اس طرح اگر آپ اپنے ماحول ، رواج اور شخصیت کو مد نظر رکھ کر کوئی فیشن اپناتی ہیں تو یہ چیز آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ شخصیت کا پہلا تاثر لباس کے ذریعے پید ا ہوتا ہے۔ گفتگو تو بعد میں کی جاتی ہے پہلی نظر لباس پر ہی پڑتی ہے لباس سے ہی آپ کی شخصیت کی بہت سی خصوصیات نمایاں ہو جاتی ہیں کہ آپ کتنی سلیقہ مند رکھ رکھاوٴ اولی اور نفاست پسند ہیں۔
چاہے آپ کتنی ہی ذہین، تعلیم یافتہ اور اچھی خصوصیات اور صلاحیتوں کی مالک کیوں نہ ہوں۔ جب تک آپ کی ظاہری شخصیت میں باوقار لبا س کی خصوصیات نمودار نہ ہوں آپ لوگوں کی نظر میں اپنی مثبت پہچان نہیں بناپاتیں۔بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک چیز جو آپ کو کسی دوسری خاتون پر بہت جچتی ہوئی لگتی ہے وہی چیز جب آپ اپنے لئے استعمال کرتی ہیں تووہ آپ پر اتنی سوٹ نہیں کرتی جتنی دوسری خاتون پر سوٹ کر رہی ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ضروری نہیں جو لباس آپ کو دوسری خاتون پر خوبصورت لگ رہا ہو وہ آپ پر بھی بہت اچھا لگے گا کیونکہ ہر شخص اپنی جگہ ایک الگ شخصیت کا مالک ہوتا ہے لہٰذا اندھا دھند تقلید کے بجائے وہی لباس خریدا اور پہنا کریں جس کے بارے میں آپ کو علم ہو کہ وہ آپ کی شخصیت کے عین مطابق ہے۔ اس طرح ایک طرف تو آپ کی شخصیت مضحکہ خیز ہونے سے بچ جائے گی دوسری طرف فضول خریداری میں آپ کے پیسے کا ضیاع بھی نہیں ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ آپ ایک الگ انداز یا اسٹائل رکھیں دوسروں کی اندھی تقلید نہ کریں۔ہو سکتاہے کہ آپ کا جو انداز ہو وہ اتنا زبردست ہو کہ دوسروں کو اچھی لگے اور وہ آپ کو رشک سے دیکھیں اور آپ کے اسٹائل کو اپنانے کی کوشش بھی کریں۔ملازمت پیشہ خواتین اپنے اندر اعتماد پیدا کریں کہ جو کچھ آپ نے پہنا ہے اس میں آپ بہت شاندار لگ رہی ہیں اس اعتماد کے ساتھ آپ کبھی بھی جھجک کا شکار نہیں ہوں گی! دوسروں کو متاثر کرتا بھی تو ضروری ہے۔ آپ ملازمت پیشہ ہیں یا گھریلو خواتین، نئے فیشن کا لباس ضرور پہنیں مگر اس اعتماد او پہچان کے ساتھ کہ یہ لباس آپ کی شخصیت کو نکھارنے اور نمایاں کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
ویسے بھی فیشن ہرکسی کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے ہر ایک اپنی اپنی پسند کے مطابق فیشن کو اپنا تا ہے۔ فیشن کے اس بڑھتے ہوئے رجحان نے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
فیشن کل اور آج
فیشن کیا ہے؟ فی زمانہ ہر چیز کے استعمال میں فیشن کالفظ کثرت سے سننے میں آتا ہے ۔ آج کل ہر چیز کا استعمال فیشن کے تقاضوں کے مطابق کیا جاتا ہے او یہ صرف لباس، میک اپ، زیورات اور ہیئر اسٹائل تک ہی محدودنہیں رہا بلکہ فونیچر گھر کی آرائش اور کمروں میں کلر اسکیم کسی مناسب رہے گی؟ وغیرہ یہ سب باتیں فیشن کے مطابق کی جاتی ہیں۔الیکٹرونک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ہ جگہ فیشنکی یلغار دیکھی جا سکتی ہے فیشن کی یہ چمکتی ومکتی دنیا اپنے اندر اتنی کشش رکھتی ہے کہ ہر کوئی اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے ۔ انسان اپنی فطرت کے مطابق زندگی میں نت نئے رنگ ڈھونڈتا ہے۔ ایک ہی جیسی چیز اُسے یکسانیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ فیشن یا تبدیلی اس کی زندگی میں نئی رنگینیاں اور رعنائیاں پیدا کرکے یکسانیت سے نجات دلاتی ہے۔ فیشن کی مثال موسم کی طرح ہے جوجاکر پھر واپس آتا ہے۔ مجموعی شکل تو اس کی وہی رہتی ہے لیکن جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لئے اس میں کمی بیشی کر لی جاتی ہے جسے کام طور پرفیشن کا نام دیا جاتا ہے۔
ایک وقت تھا کہ جب ہر نئے فیشن کے پیچھے کوئی جواز ہو اکرتا تھا فیشن کا باقاعدہ آغاز کب ہوا؟ بیسویں صدی میں 60 70 80 اور90 کی دہائیوں کے بعد ہم اکیسویں صدی میں قدم رکھ چکے ہیں لیکن اگر غور کیا جائے تو آج بھی فیشن ہر رروپ میں اپنی مجموعی شکل برقرار رکھے ہمارے سامنے ہے۔ الیکٹرونک میڈیا کی بدولت اب ہر ملک کی ثقافت ،تہذیب اور ان کا موجودہ میں فیشن عام کرنے میں فلموں کا کردار بہت اہم رہا ہے 60 کی دائی میں فیشن بہت زیادہ عام نہیں تھا مگر 70 کی دہائی میں فیشن اپنے عروج پر تھا۔ اس دہائی کو مکمل طور پر فیشن کی دہائی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس دور میں فیشن نے جتنا عروج حاصل کیا اور جتنی تبدیلیاں فیشن بھی لائی گئیں اب ان کا تصور بھی محال ہے۔ اگر چہ آج بھی فیشن کی دنیا میں نت نئے انقلابات لائے جارہے ہیں مگر یہ سب 70 کی دہائی کے ہی مرہونِ منت ہیں 70 کی دہائی میں ناصرف لباس بلکہ میک اپ اور ہیئراسٹائلز نے بھی نہایت جدت اختیار کی اگر فیشن کی دنیا پر نظر ڈالیں تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں مغربی اور جدید فیشن کے ساتھ ساتھ ہمارے مشرقی انداز کو بھی نمایاں اہمیت حاصل رہی ۔
70 کی دہائی میں بیل باٹم کو فیشن بہت مقبول ہوا۔ ساتھ ہی اونچی(چھوٹی) فٹنگ والی قمیض نے اسے اور بھی ماڈرن لک کا حامل بنا دیا۔ اس دورمیں بیل باٹم کے ساتھ ساتھ لڑکویں میں تنگ موری کا پاجامہ بہت مقبول ہوا۔ اسکے ساتھ فٹنگ والی قمیض پہنی جاتی تھی اور ساتھ میں چنا ہوا دوپٹہ لیا جاتا تھا۔ اس دورمیں بہت موٹی ایڑی والے جوتوں نے بھی خوب فروغ حاصل کیا ہیئر اسٹائل میں بھی جدید انداز دیکھنے میں آئے، بہت زیادہ بیک کومنگ کے ساتھ بنائے ہوئے بال اس دور کا خاص انداز تھے۔ اس کے علاوہ بالوں میں خوب رولر لگانا، ماتھے کے اطراف میں کٹی ہوئی لٹوں کو چھوڑ دینا اس زمانے کے خاص ہئیر اسٹائل تھے۔
80 کی دہائی70 کی دہائی سے یکسر مختلف تھی اس دہائی میں وہ گرماگرمی نظر نہیں آتی جو 70 کا خاصا تھی 70 میں لباس کی فٹنگ کو خاص اہمیت حاصل تھی لیکن 80 میں کھلی قمیضوں کا ستعمال خاصا ان رہا رنگوں میں کنٹراسٹ کے استعمال پر زور رہا اور ایک رنگ کے لباس کی جگہ گلابی ،ہرا، نیلا ، سفید اور کریم کے ساتھ مختلف رنگوں کا استعمال فیشن میں رہا۔ لمبی قمیض اور کھلے چاک کا فیشن بھی مقبول ہوا ساتھ ہی تنگ پائچے کی شلوار فیشن میں رہی۔کُرتے بھی خاصے مقبول ہوئے اور نت نئی کڑھائی والے کاٹن کے کلف لگے کُرتے مرد وخواتین دونوں میں ہی پسند کیے گئے ۔ خواتین نے سفید شلوار کے ساتھ ان خوبصورت کڑھائی والے کُرتوں کے استعمال کو ترجیح دی اس میں ریڈی میڈ کپڑوں کے رجحان کو فروغ حاصل ہوا الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی مدد سے اس رجحان نے خاصی تیزی سے ترقی حاصل کی اور رنگ برنگے کپڑے فیشن میں شامل ہو گئے۔ اگر شلوار گرین ہوتی تو قمیض ریڈی یا بلو اور دوپٹہ گرین یا بلو رنگ کا تین اور بعض اوقات تین سے بھی زیادہ رنگوں کے استعمال سے لباس تیار کیے جانے لگے ۔ اسی طرح جو توں میں اونچی موٹی ایڑی کی جگہ نازک پنسل ہیل نے لے لی۔ کورٹ شوز بھی اس دور میں بے حد مقبول ہوئے۔
90کی دہائی پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس دہائی کو باقی دہائیوں پر اس لحاظ سے ضرور فوقیت حاصل رہی ہے کہ اس دہائی میں بہت کچھ ایک ساتھ دیکھنے میںآ یا ۔ نٹ نئے تجربات کی بدولت فیشن کی دنیا میں بڑے بڑے انقلابات آئے90 کی دہائی میں لباس میں ہر طرح کی جدت اپنائی گئی بیک وقت کئی طرح کے فیشن متعارف کروائے گئے اور مزے کی بات یہ کہ ہر طرح کے فیشن نے عوام میں مقبولیت بھی حاصل کی ۔ 70 کی دہائی کا مقبول ترین فیشن بیل باٹم 90 میں ایک بار پھرلوٹ کر آیا لیکن نام کی تبدیلی کے ساتھ یہ فیشن دہرایا گیا۔ پی آئی اے کٹ پاجامے اونچی اورلمبی دونوں قسم کی قمیضوں کے ساتھ پسند کیے گئے90 کے آغاز میں خوب چوڑے پائنچوں کا فیشن بھی ”ان“ رہے۔اسی طرح کلیوں والے کُرتوں نے ایک بار پھر مقبولیت حاصل کی مگر اس بار فرق یہ تھا کہ دو کی جگہ بارہ اور سولہ کلی کے کُرتے تھے۔ خوبصورت بیلوں سے آراستہ یہ کُرتے لڑکیوں پر بے حد خوبصورت اور اسٹائلش معلوم ہوتے۔ کڑھائی والے لباس بھی مقبول ہوئے ان میں ملتانی کڑھائی کے ملبوسات بے حد مقبول ہوئے اور آہستہ آہستہ ملبوسات میں کڑھائی کے استعمال نے ایک خاص اہمیت حاصل کر لی۔ موتی ٹانکا، سندھی بوٹی اور شیڈوورک سے مزین خوبصورت لباس شخصیت کو باوقار بنانے میں اہم کردار ادا کرنے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ 90 کی دہائی میں بلاک پرنٹ نے بہت مقبولیت حاصل کی ۔ شلوار کے پائنچوں اور دوپٹوں کے پلو پر بلاک پرنٹ کا استعمال کیا جانے لگا۔ اسی طرح پلین سوٹوں پر خوبصورت بلوچی اور سندھی کڑھائی والے گلے بھی لگائے گئے جو بہت مقبول ہوئے۔
90 کی دہائی میں بالوں کے انداز بہت جدت کے ساتھ سامنے آئے جن میں ڈائی ریڈ اور براوٴن بال بہت پسند کیے گئے۔ اسی طرح پرمنگ90 کا خاص فیشن رہا۔ یہاں تک کہ جن خواتین پر یہ سوٹ نہیں کرتا تھا انہوں نے بھی ڈائی کے ساتھ بالوں کو پرمنگ کرنا ضروری سمجھا۔ اس کے ساتھ ہی ہئیر اسٹریکنگ بالوں کا ایک خوبصورت اور شخصیت کو اسٹائلش بنانے کا منفرد ادنداز بھی 90 میں اُبھر کر سامنے آیا۔بالوں میں رنگ برنگی کلپس اور کیچر لگانے کا فیشن خوب مقبول ہوا۔جوتوں بلاک ہیل ایک بار پھر فیشن میں لوٹ آئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بار کھلی نازک چپلیں بھی بے حد مقبول رہیں۔ رنگ برنگی اسٹریپ والی چپلیں نوجوان لڑکیوں میں خوب پسند کی گئیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے