Fashion Ya Wabal E Jaan

فیشن یاوبالِ جان

جمعرات اگست

Fashion Ya Wabal E Jaan

زارا مصطفی
دنیا کی ہر عورت حسین ،پُر کشش اور پُر وقار نظر آنا چاہتی ہے ،خواتین کی اسی فطری خواہش کی تکمیل کے لئے فیشن کے نئے نئے رجحانات سامنے آتے رہتے ہیں مگر خواتین میں ہائی ہیلز یعنی اونچی ایڑھی والے جوتو ں کا فیشن کبھی پرانا نہیں ہوا ...مارلن منرو کہتی ہیں ”ہائی ہیلز پہننے والی خواتین کو جدت پسند اور فیشن کی دلدادہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ہائی ہیلز کسی بھی عورت کے منفرد انداز اور شان وشوکت کو ظاہر کرتی ہیں ۔

“یہی وجہ ہے کہ اگر ہم 1960، 70اور 80کی دہائی میں بننے والی فلمیں دیکھیں تو ان میں جب کسی دیہاتی یا ان پڑھ لڑ کی کو جدت پسند اور پڑھی لکھی حسینہ کے کردار کے طور پیش کرنا ہوتا تو اسے اونچی ایڑھی والے جو تے پہنا کر چلنا سکھا یا جاتا تھا ...یعنی آج سے تین یا چار عشر ے قبل خواتین میں ہائی ہیلز پہننے کا رجحان جد ت ،فیشن ،اعلیٰ سماجی مرتبہ اور انفرادیت کی علامت سمجھا جاتا ۔

(جاری ہے)

دنیا کے تقریباََتمام ممالک کی خواتین میں ہائی ہیل والے جو توں کا رجحان عام ہے خصوصاََ ایشیائی ممالک میں، جہاں کی چونکہ خواتین زیادہ دراز قد نہیں ہو تیں ،ان مما لک میں ہائی ہیلز پہننا خواتین کی فطری مجبوری بھی ہے ۔مارلن منر وہی کے مطابق ”میں نہیں جانتی کہ اونچی ایڑھی والے جوتے کس نے ایجاد کئے مگر ان سے سب سے زیادہ فائدہ عورتوں نے ہی اٹھایا ہے ۔

“ایک بینک میں کام کرنے والی حناحیات امی خاتون بتاتی ہیں کہ مجھے بچپن سے ہی ہائی ہیلز پہننے کا بہت شوق ہے اور میرے پاس ہر انداز کی ہائی ہیلز موجود ہیں ۔مجھے یہ شوق اپنے سکول کی پرنسپل صاحبہ کی وجہ سے ہوا،وہ ایک بہت ہی بارعب دھیمے لہجے اور پُر وقار شخصیت کی مالک تھیں ۔وہ ہمیشہ ایک مخصوص طرز کالباس اور بلیک پنسل ہیل پہنتیں ۔جب وہ سکول کی تمام کلاسوں میں چکر لگانے کے لئے اپنے کمرے سے نکلتیں تو جہاں جہاں ان کی قدم جاتے عجیب ساسنا تا چھا جاتا اور ان کی پنسل ہیل کی مخصوص آواز واضح طور پر ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ۔

میں اپنی پر نسپل صاحبہ کی پنسل ہیل کی آواز آج بھی اپنے لاشعور میں محسوس کر سکتی ہوں ۔اس وقت مجھے لگتا تھا پرنسپل صاحبہ کی بارعب شخصیت میں سارا کمال ان کی پنسل ہیلز کا ہے اس لئے میں نے بھی لاشعوری طور پر دوسروں پراپنی شخصیت کا رعب جمانے کے لئے ہائی ہیلز پہننا شروع کردیں ...ماہر نفسیات فریحہ ناز کہتی ہیں ”دراصل اونچی ایڑھی والے جوتوں کا رجحان مغربی ممالک سے آیا ہے اور ان ممالک میں خواتین مردوں کو متوجہ کرنے کے لئے ہائی ہیلز پہنتی ہیں اس حوالے سے کئی تحقیقات بھی ہوچکی ہیں جن میں بتا یا گیا ہے کہ مرد” ہائی ہیل “پہننے والی خواتین سے جلد متاثر ہوتے ہیں ۔

دوسری طرف چونکہ ہمارے ہاں عموماََ لڑکیوں کا قد چھوٹا ہوتا ہے اس لئے ہائی ہیلز ان کی خود اعتماد ی میں اضافہ کرتی ہیں اس کے برعکس لمبی لڑکیا ں محض پُر کشش نظر آنے کے لئے ہائی ہیلز پہنتی ہیں ۔دوسری طرف ورکنگ ویمن کا خیال ہے کہ آفس وغیرہ میں فلیٹ جوتے پہننے سے وہ اپنے آپ کو غیر مطمئن اور غیر اہم تصور کرتی ہیں اس لئے وہ کام کی جگہوں پر” فارمل لُک “ کے لئے ہائی ہیلز پہننے کو تر جیح دیتی ہیں ۔

ہائی ہیل پہنے والی لڑکیاں کی چا ل ڈھال میں جووقار اورکشش جھلکتی ہے وہ مردوں کے ساتھ ساتھ دیگر خواتین کو بھی مائل کر تی ہیں کہ وہ بھی ہائی ہیل پہن کر اپنی شخصیت میں تبدیلی لائیں ۔ویسے بھی ہمارے ہاں دراز قد خواتین مختلف شعبہ ہائے زندگی میں زیادہ کامیاب ہیں کیونکہ انہیں دراز قد ہونے کی وجہ سے پست قد خواتین کی نسبت زیادہ اہمیت دی جا تی ہے ۔

اگر ہم شو بز کی بات کریں تو دراز ادا کارائیں اور ماڈلز نسبتاََ زیادہ مشہور اور کامیاب ہیں ۔بعض لڑکیاں اور خواتین ہا ئی ہیلز کو اپنی ”سٹائل سٹیٹمنٹ “ بنا لیتی ہیں چنانچہ ان کے ارد گرد موجود لوگ انہیں ایک مخصوص قد میں دیکھنے کے عادی ہوجاتے ہیں ۔“
ہائی ہیل پہننے کی ابتداء کیسے ہوئی
کہا جاتا ہے قدیم مصر (3500 ) قبل از مسیح میں شاہی خاندانو ں کے افراد نے اونچی ایڑھی والے جوتے پہننا شروع کئے تاکہ اپنی رعایا اور نچلے طبقے میں خود کو اعلیٰ اور بر تر ظاہر کر سکیں کیونکہ ایک طرف وہ طبقہ بھی تھا جنہیں ہائی ہیلز تو دور کی بات ،جوتے ہی میسر نہ تھے ،چنانچہ شاہی گھرانوں کے مردوخواتین مذہبی تقر یبا میں خصوصی طور پرہائی ہیلز پہنتے ۔

مصرکے قصاب بھی جانورذبح کرتے ہوئے اونچی ایڑھی والے جوتے پہنا کرتے تاکہ ذبح شدہ جانور وں کی آلائشوں سے بچا جاسکے ۔اس مقصد کے لئے چمڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ کر ایڑھی کی شکل دے کر جوتے کا ڈیزائن ”آنکھ “ کے مشابہ بنایا جاتا تھاجو زندگی کی نشاندہی کرتا تھا ۔اسی طرح روم اور یونان میں ”کٹھورنی “اور” بسکنز “ کے نام سے جوتے بنائے جاتے جنہیں تھیڑ کے ادا کار اور ادا کارائیں پہنتی تھیں تاکہ وہ عا م لوگوں سے منفرد نظر آسکیں ۔

قدیم روم میں خواتین کے جسم فروشی کے فعل کو قانو ناََ جرم نہیں سمجھا جاتا تھا ،یہ خواتین بھی ایک دوسرے سے مقا بلے کی بنا پر اونچی ایڑھی والے جوتے پہنتی تھیں اور ان کے لئے دس انچ سے لے کر اٹھارہ انچ تک ہیل والے جوتے ڈیزائن کے جاتے تھے ۔ان خواتین کاماننا تھا کہ جس عورت کے جوتوں کی اونچائی جتنی زیادہ ہوگی ،اس کے خریدار میں سے ایسی عورتوں کو پہچاننا نسبتاََ آسان ہوتا تھا۔

1400میں ہائی ہیلز باقاعدہ فیشن کا حصہ بنیں اور فرانسیسی ڈیزائنرز نے 1533میں پہلی مرتبہ خواتین کے لئے خصوصی طور پر ہائی ہیلز ڈیزائن کیں۔ ان جوتوں کو پہن کر خواتین کی ٹانگیں لمبی محسوس ہوتی تھیں ۔1600کے وسط تک یہ فیشن پورے یورپ میں عام ہوگیا اور اس دور کی خواتین نے 30انچ اونچے جوتے پہنے مگر چلنے پھرنے میں دشواری کی بناپر وہ عموماچھڑی کا استعمال کرتی تھیں۔

یہاں تک کہ دولتمند خواتین جب کہین آتی جاتیں تو ان کے ہمراہ ایک ملازم ہوتا جوگرنے کی صورت میں انہیں سنبھا لتا ۔کہا جاتا ہے کہ فرانس کی ملکہ کیتھرین ڈی میڈیسی نے پہلی مرتبہ اپنے لئے ہائی ہیلز ڈیزائن کر وائیں ۔کیتھر ین 14برس کی تھیں جب ان کی منگنی ڈیوک آف اور لینڈ ز ڈائنے ڈی پو ئٹر ز سے ہوئی ۔کیتھر ین کم عمر ہونے کی وجہ سے قد میں بھی چھوٹی تھیں اور ڈائنے خاصے دراز قد تھے ۔

کیتھرین کو خد شہ تھاکہ کہیں ڈائنے کسی اور دراز قد خاتون کو اپنا منظورِ نظر نہ بنالیں ۔انہوں نے ڈائنے کو اپنی طر ف متو جہ رکھنے کا توڑ ہائی ہیلز کی شکل میں نکالا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ فیشن فرانس کے مالدار گھر انوں کی خواتین نے بھی اپنا لیا ۔ابتدء میں مرد و خواتین کے جو توں کے انداز ایک جیسے تھے مگر پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ انکے ڈیزائن اور ہیلز کے انداز میں بھی جدت آتی گئی۔

1630کی دہائی سے عورتوں کے پہننے اوڑھنے اور رہن سہن کے انداز میں خصوصاََ تبدیلی آنا شروع ہوئی اور انہوں نے جو تو ں کے نت نئے رجحانات پر بھی توجہ دینا شروع کی ۔دوسر ی طرف ہائی ہیلزپہن کر مر دوں کو روزمرہ معلو لاتِ زندگی میں دشوار ی کا سامنا کرنا پڑا مثلاََ ڈرائیونگ ،پہاڑوں پر چڑھنا اور بھاگ دوڑ کے دیگر کام ہائی ہیل والے جوتے پہن کر انجام دینا ممکن نہ رہا تو انہوں نے 1740کے لگ بھگ ہائی ہیلز پہننا بیو قوفی سے زیادہ کچھ نہیں اس لئے یہ بیو قوفی عورتیں کم عقل ،ان پڑھ اور جذباتی ہوتی ہیں اور ہائی ہیلز پہننا بیو قوفی سے زیادہ کچھ نہیں اس لئے یہ بیو قوفی عورتیں ہی کر سکتی ہیں مرد نہیں ...دوسری طرف تاریخ یہ بتا تی ہے کہ آج کی طرح اس زمانے میں بھی عورتوں میں مردوں کی بر ابری کر نے کا رجحان پایا جاتا تھا اور اس دور کی عورتو ں نے پہلی مرتبہ مردوں کی طرح بال کٹوانا شروع کیا ،سگریٹ ،سگا راور پائپ کا استعمال کر کے جدت پسند ی کا نعرہ لگایا اور مردوں کی دیکا دیکھی ایڑھی والے جوتے پہن کر انہیں بتا دیا کہ وہ بھی ان کی برابری کر سکتی ہیں ...
تین انچ سے زائد ہیل نقصان دہ ہے
آرتھو پیڈک ماہرین کے مطابق ”جو خواتین ساڑھے تین انچ یا ا سے زائد ہائی ہیلز پہنتی ہیں ،انہیں زندگی کے کسی بھی حصے میںآ سٹیوآرتھر ائٹس کا ممسئلہ ہو سکتا ہے جس سے ان کے معزور ہونے کا خسشہ بڑ ھ جاتا ہے ۔

ویسے بھی طویل عرصے تک ہائی ہیلز پہننے والی خواتین کی پنڈ لیوں کے پٹھے سکڑ جاتے ہیں جو پٹھوں میں درد اور تشنج کا باعث بنتے ہیں ۔چنانچہ ایسی خواتین اپنی ٹانگوں میں ہر وقت اکڑا ؤ محسوس کرتی ہیں ۔آرتھو پیڈک ڈاکٹر عثمان احمد کی رائے میں بھی ”خواتین کے لئے ہائی ہیلز پہننا سخت نقصان دہ ہے اس لئے بیس سے تیس برس تک کی عمر کے دوران خواتین 3انچ سے زائد ہیلز پہننے سے گریز کریں کیو نکہ ہیلز کی وجہ سے ان کی کمر ،پنڈ لیوں اور پاؤں میں درد ،تھکن اور سو جن ہوسکتی ہے۔

چو نکہ ہمارے ہاں خواتین میں ایکسر سائز کرنے کا رجحان نہیں ہے اس لئے ان کا” مسل ماس“ کم ہوتا ہے ،ان میں وٹامن ڈی کی کمی پائی جاتی ہے ایسے میں ہائی ہیلز پہن کر توازن بر قرار نہ رہنا عام سی بات ہے ، اس سے ”موچ “ آنے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے ،ہائی ہیلز کی وجہ سے خواتین میں ” اینکل آرتھر ائٹس “ کا مسئلہ سب سے عام ہے چنانچہ اگر پاؤں میں موچ آجائے تو سب سے پہلے پاؤں کو آرامدہ حالت میں رکھیں اور پاؤں پر برف کے ٹکڑوں سے مساج کرنے کے بعد درد سے نجات کے لئے کسی جیل کا مساج بھی کرین ،اس سے سوزش اور درد سے راحت ملتی ہے۔

اس مساج کے بعد پاؤں کو اونچا ر کھیں مگر ہوا میں نہ لٹکائیں اور موچ ٹھیک ہوبھی جائے تو پھر بھی ایک مہینے تک دوبارہ ہیلز نہ پہنیں ۔ہائی ہیلز کی شوقین خواتین کے لئے میرا مشورہ ہے کہ کم سے کم ہیلز پہنیں اگر ہوسکے تو زیادہ دیر تک اونچی ایڑھی والے جوتے پہن کر نہ گھو میں ۔“امریکی آسٹیو پیتھک ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق ”ہر دس میں سے ایک عورت ہفتے میں تین مرتبہ ہائی ہیل پہنتی ہے اور ان میں سے ہر ہر تیسری عورت ہائی ہیلز کی وجہ سے چلنے میں اپنا توازن بر قرار نہیں رکھ پاتی اور گر جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے طویل المدت ہڈیوں کے مسائل کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔


کھمبے جیسی کھڑی ہے ...
ایک وقت تھا جب ہائی ہیلز محض چھوٹے قد والی لڑکیوں کے لئے مو زوں سمجھی جاتی تھیں اور عام خیال بھی یہی تھا کہ لمبی لڑکیوں کر بھلا ہیلز کی کیا ضرورت ہے ؟ اور اگر کوئی دراز قد لڑکی ہائی ہیلز پہن بھی لیتی تو اس کے اردگر د کے لوگ اسے کھمبے جیسی ،اونٹنی اور گھوڑی دیسے الٹے سیدھے تضحیک آمیز ناموں سے چھیڑ تے ۔بہر حال کچھ معاشرتی رویے بدلے جاسکتے جیسے اگر کسی میاں بیوی کا قد برابر ہولیکن بیوی کی خواہش ہوکہ کبھی کسی خاص تقریب میں ہی سہی اسے ہائی ہیلز پہننے کی اجازت مل جائے تو شوہر ہی نہیں اردگرد دیکھنے والے لوگوں کوبھی گوار انہیں ہوتا کہ بیوی اپنی شوہر سے لمبی نظرآئے کیونکہ اگر ایسا ہوتو شوہر پر لوگوں کی طرف سے طنز وطعن کے تیر چلائے جاتے ہیں کہ فلاں اپنی بیوی سے چھوٹا لگ رہا ہے بیوی پر رعب کیا خاک جماتا ہوگا ؟ایسی فضول باتوں سے بچنے کے لئے شوہر بیوی پر پابندی لگا دیت ہے اور یوں بیوی دیگر کئی خواہشوں کی طرح ہائی ہیلز پہننے کی خواہش بھی قر بان کر دیتی ہے ،اب ظاہر ہوئی ہیلز کا شوق شوہر کی خوشی سے بڑھ کر تونہیں ہے ...اس حوالے سے فریحہ ناز مزید بتاتی ہیں ”مسئلہ تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں کسی بھی معاملے میں عورت کی مرد سے بر تر حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا ۔

عورت کو محکو م بناکر رکھنا ہی عام معاشرتی رویہ بن چکا ہے ۔جہاں کہیں علامتیں طور پر بھی عورت مرد سے بر تر لگے تو اس احساسِ بر تر ی کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔میں سمجھتی ہوں اگر کوئی بھی کسی کو بیوی کے قدیا کسی بھی اورخوبی کی وجہ سے نیچا د کھانے کی کوشش کرے تو شوہر کو چاہیے کہ ایسی باتوں پر کان نہ دھرے اور ایسے لوگوں کوڈٹ کر جواب دے اور ان سے کہیکہ کیا فرق پڑ تاہے اگر میری بیوی مجھ سے لمبی لگ رہی ہے ...
اس کے بعد کوئی کسی کو ایسے طعنے دینے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے گا ۔

مردوں کوچاہیے کہ ایسی باتوں کو اپنی انا کا مسئلہ ہر گز نہ بنائیں ۔
شوبز حسینا ئیں اور ہائی ہیلز
فیشن اور گلیمر کو ایک دوسرے سے جد انہیں کیا جاسکتا اس لئے ماڈلز اوراداکار ائیں فلیٹ جوتوں کی نسبت ہائی ہیلز کو تر جیح دیتی ہیں کیونکہ ہائی ہیلز سے ان کی شخصیت میں گلیمر اج گر ہوتا ہے ۔شوبز حسیناؤں کو چھوٹے بڑے قد کی قطعاََ پر واہ نہیٓں ہوتی عالیہ بھٹ فلیٹ سینڈ لز اور سنیکرر پہن کر بھی پُر اعتماد نظر آتی ہیں اسی طرح بالی ووڈ کی دیگر لمبی حسینا ئیں جن میں ایشوریارائے ،کترینہ کیف ،دپیکا پاڈوکون،ڈیزی شاہ ،انو شکاشرما ،دیا مرز ا،شلیپا شیٹی اور زرین خان شامل ہیں ،اپنی فلموں کے ساتھی اداکاروں خصوصاََ خانز سے لمبی نظر آتی ہیں اس کے باوجود ان کے ہائی ہیلز پہنتے پر سلمان ،شاہ رخ یاعامر خان کوکوئی شکایت نہیں ،لمبی حسیناؤں کے ساتھ خانز کے بہت سے فلمی مناظر ایسے ہیں جن میں ان کے قد کا واضح فرق محسوس ہوتا ہے ۔

اکثر ایوارڈ اور دیگر ٹی شوز میں تو خانزان ادا کاراؤں کے سامنے اپنے چھوٹے قد کا خو د مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں ۔میرے خیال سے معاشرتی رویوں کو بد لنے میں ان کا رویہ قابلِ تحسین ہے کیونکہ اگر کوئی عورت مرد سے قد آور ہے تو انہیں اس بات کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ کسی عورت کی اس انفرا دیت کو پُر وقا ر انداز میں قبول کرنا چاہیے ۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ فلموں میں ہی نہیں ٹی وی شوز میں بھی لمبی ہیر وئنز قد آور ہونے کے باوجود 5سے 6انچ کی ہیلز پہن کر ساتھی اداکاروں کے مِد مقا بل کھڑی ہوجاتی ہیں مگر انہوں نے کبھی اس بات پر اعتراض کر کے ان ساتھ کام کرنے سے انکار نہیں کیا ۔کرکٹ سٹار ویرات کوہلی چونکہ اپنی بیوی اور بالی ووڈ حسینہ انو شکاشرما سے قد چھوٹے ہیں اس کے باوجود انو شکانے نہ صرف انی شادی ہائی ہیلز پہنیں بلکہ عام زندگی میں بھی انوشکا خا ص تقریبا ت میں ویرات کے ساتھ جاتی ہیں تو ہائی ہیلز ہی پہنتی ہیں کیونکہ ویرات کوکوئی احساسِ کمتری نہیں کہ ان کی بیوی ان سے زیادہ لمبی لگتی ہیں ۔

اکثر خیال کیا جاتا ہے کہ خواتین محض فیشن کے لئے ہی نہیں بلکہ حصولِ توجہ کے لئے بھی ہوئی ہیلز پہننا پسند کرتی ہیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-08-02

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Fashion Ya Wabal E Jaan" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.