بند کریں
خواتین مضامینمضامینگرم موسم کے اثرات سے بچاؤ کیسے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گرم موسم کے اثرات سے بچاؤ کیسے
گرم علاقوں کے رہنے والے لوگ خود کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے سایہ دارجگہوں ، ڈھانپنے والے کپڑے اور دوھوپ میں جاتے ہوئے سن بلاک کااستعمال کرنا نہ بھولیں۔

گرم علاقوں کے رہنے والے لوگ خود کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے سایہ دارجگہوں ، ڈھانپنے والے کپڑے اور دوھوپ میں جاتے ہوئے سن بلاک کااستعمال کرنا نہ بھولیں۔ موسم گرما میں خصوصاََ دوپہر کو باہر نکلتے وقت ایسے پانی کا استعمال کریں جس میں سوڈیم اور پوٹاشیم کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتاکہ سن اسٹروک سے بچاجا سکے۔ بڑی عمر کے لوگوں ، مریضوں اور چھوٹے بچوں کوخاص طور پر گرمی کے موسم میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔ حد سے زیادہ پسینہ کااخراج گرم مرطوب آب وہوا اور موسم کے دنوں میں ہیٹ اسٹروک کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے۔
آج کل چونکہ ماہ رمضان ہے تو کوشش کریں کہ افطار میں تازہ پھلوں کے رس کا خوب استعمال کریں، اس کے علاوہ تربوز، کیلے، لیموں، انناس وغیرہ کااستعمال نہ صرف جسم کو گرمی سے بچاتا ہے بلکہ جسم کے درجہ حرارت کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔
گرمیوں کا موسم ہمارے ملک میں ویسے بھی خاصا طویل ہوتا ہے۔ مئی سے ستمبر تک تو گرمی خاصی شاید بڑھتی ہے اور جسم کی ہمت اور طاقت اس دوران نہایت متاثر ہوجاتی ہے۔ جوکام ہم اچھے موسم میں چھ سے سات گھنٹوں میں کرتے ہیں وہی کام گرمیوں میں دو سے تین گھنٹوں میں کرکے ہم تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ گرمیوں کے موسم میں انسانوں، جانوروں، اور پودوں میں پانی کی مقدار کم ہوجاتی ہے۔ جلد خشک ہوجاتی ہے اور مختلف جلدی امراض کے ہونے کاامکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا کوشش یہ کی جانی چاہئے کہ ٹھنڈے میٹھے مشروبات کازیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔ لسی اور دہی وغیرہ بھی خوب استعمال کریں۔ ہلکی پھلکی غذا کااستعمال کریں۔ زیادہ تیز اور مصالحہ والے کھانے معدے میں گرمی کاسبب بنتے ہیں اور گرمیوں میں منہ خشک ہوجاتا ہے لہٰذا بھنڈی، ٹینڈے، توریاں، کھیرے، کدو اور اسی طرح کی سبزیوں کو ہلکے سے نمک مرچ میں بہت زیادہ گھی ڈالے بغیر کاسادم دے کر خوراک کے طور پر استعمال کریں۔ پلاؤ یابریانی کے بجائے اُبلے چاول استعمال کریں۔ فالسوں کا شربت ، املی آلو بخار ے کاشربت اور ستوضرور پئیں۔
موسم گرما میں دن میں ممکن ہوتا دوبارہ ضرورتازہ پانی سے غسل کیجئے۔ موسم گاما کے امراض لولگنا، جسے سن اسٹروک کہتے ہیں۔ موسم گرما کا مخصوص عارضہ ہے۔ تیز گرم ہوا میں یاشدت کی دھوپ میں باہر نکلنے سے لولگ جاتی ہے جس میں ابتداء میں سر میں درد اور پھر بخار ہوتا ہے۔ پیاس بہت زیادہ لگتی ہے۔ پیشاب بار بار مگرکم آتا ہے،دل تیزی سے دھڑکتا ہے اور کمزوری ہوکر بیہوشی ہو جاتی ہے۔ جب بھی کسی کولولگے اس کو سرومقام پر رکھیں۔ سرپرٹھنڈا پانی ڈالیے۔ برف کے پانی میں پٹیاں، بھگوکر پیشانی پر رکھیں۔ کچے آم کو راکھ میں رکھ کردباکرپندرہ منٹ بعد نکال کر اس کارس اچھی طرح نچوڑ کر چینی اور برف ملاکر دود و گھنٹے بعد تھوڑا تھوڑا پلائیں۔ اسے پانی میں اُبال کر بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ لوکے مریض کاخالی معدہ نہ رکھیں۔ لوسے بچنے کیلئے گرمی کے اوقات میں بلا ضرورت دھوب میں نہ نکلیں۔ اگر باہر نکلنا ضروری ہے تو سرڈھانپ کر یاروماپانی میں بھگو کرسر پر رکھ کرنکلیں۔ بھوک کی کمی کیلئے پودینے اور اناردانے کی چٹنی دوپہر شام کھانے کے ساتھ کھایاکریں۔ پودینہ 6گرام کاقہوہ بھی مفید ہے۔ قے آنے کی صورت میں لیموں کاٹ کر دوحصے کرلیں اور جی متلانے یاقے آنے کی صورت میں چوس لیاکریں۔
موسم گرما میں پسینے کے اخراج کے باعث پانی کم ہوکر پیشاب کم اور زرد رنگت کاآتا ہے۔ کبھی جلن بھی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کچی لسی (دودھ میں پانی ملاکر) میں تخم بالنگا ملا کرپیجے۔ اس کے علاوہ کچی لسی شربت بزوری کااستعمال بھی مفید ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے