Ghar Baithy Karobar Karna Hai Magar Kis Tarhan

گھر بیٹھے کاروبا رکرنا ہے مگر کس طرح ؟

جمعہ ستمبر

Ghar Baithy Karobar Karna Hai Magar Kis Tarhan

منیر عادل
منصوبہ بندی کیجئے
آپ جو بھی کاروبار کرنا چاہتی ہیں پہلے اس کے متعلق اچھی طرح تحقیق کریں کتنا سرمایہ درکار ہے ،کتنا منافع ہوگا؟کیا یہ کاروبار ایسا ہے جو آنے والے وقت میں مزید بڑھے گا؟یا اس میں ترقی کے مواقع ہیں ؟کیونکہ فی زمانہ جس طرح زمانہ ترقی کررہا ہے وقت کے ساتھ نئی ایجادات اور نئی ٹیکنا لوجی کے آنے سے کئی کاروبار خسارے کا شکار ہیں ۔

ایسی صورت میں منصوبہ کرتے ہوئے اگلے تین سے پانچ برس کو ضرور مد نظر رکھیں ۔ اس کاروبار کے سلسلے میں کتنے مدد گار درکار ہوں گے،ان کی تنخواہیں اور دیگر تمام اخراجات کو مد نظر رکھتے ہوئے منافع کاانداز ہ لگائیں ۔کاروبار کی تشہیر کے لئے کیا ذرائع استعمال ہوں گے؟ان کے اخراجات کیا ہوں گے؟الغرض بہترین منصوبہ بندی ہی منافع بخش کاروبار کی ضمانت ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

کسی بھی کاروبار کے آغاز میں ابتدا کے چھ مہینے کاروبار جمنے اور عوام میں اس کی جگہ بنانے کے لئے درکار ہوتے ہیں ۔ابتدا میں نقصان بھی ہو سکتا ہے ۔لہٰذا ان تمام عوامل کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ازحد ضروری ہے ۔خصوصاََ اگر ایک نئے کاروبار کا آغاز کیا جائے۔جس کاتجربہ نہ ہو۔تو عموماََاشیاء کی خریداری کے دوران بھی مہنگے داموں خرید نے سے منافع کی شرح کم ہو سکتی ہے ۔

ان تمام امور کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی کاروبار کے آغاز سے قبل اچھی طرح تحقیق کی جانے چاہئے اسی کاروبار سے وابستہ مخلص افراد سے مشورہ کیا جائے ۔تمامنصوبہ بندی کو تحریری شکل دی جائے ۔اور پھر کاروبار کا آغاز کیا جائے ۔تاکہ نقصان سے بچا جا سکے۔
گھر میں ایک گوشہ مختص کیجئے
ایک خاص جگہ یا کمرہ یا گھر کا کوئی کو نہ مختص کیجئے ۔

جہاں بیٹھ کرتمام کاروباری امور کو نمٹایا جائے ۔گھر میں چھوٹے بچے ہوں تو ضروری اشیاء مثلا ،لیپ ٹاپ ،کاغذات ،فائلیں ،رسیدیں وغیرہ کو مقضل رکھیں ۔کوشش کرکے گھر کا ایسا گوشہ منتخب کریں جہاں کوئی دوسرا کام کے دوران مداخلت نہ کرے،اور پوری توجہ کے ساھ اپنے کاروباری امور کونمٹایاجاسکے اورکام کے اختتام پر اپنے اہل خانہ اور بچوں کو بھی بھر پور وقت دیا جاسکے۔


کام کا وقت مقرر کرکے شیڈول بنائیے
اپنے تمام گھریلو کاموں ،بچوں کی ذمے داریوں اور کاروباری امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک شیڈول بنائیے۔یہ مخصوص کاروباری اوقات یعنی نو سے پانچ کے اوقات کار کے مطابق نہیں ہو سکتا ۔بلکہ تمام کاموں اور دیگر ذمے داریوں کے ساتھ کاروبار کے معاملات دیکھنے کے لئے کون ساوقت بہترین ہو گا۔مثلا چھوٹے بچوں کی مائیں بچوں کے سونے کے اوقات میں پر سکون ہو کر اپنا کام کرسکتی ہیں ۔

چھوٹے بچے عموماََ صبح ،دوپہر یا شام کے اوقات میں جب سوتے ہیں ۔وہ گھنٹہ بھراپنے کاروبار پر بھر پور توجہ دے سکتی ہیں ۔چلتے پھرتے پانچ ،دس منٹ کاروباری معاملات کو دیکھنے یا نمٹانے سے شاید وہ کا میابی حاصل نہیں ہو سکتی جو گھنٹہ بھر بھر پور توجہ کے ساتھ کام کرکے حاصل ہو گی ۔خصوصاََ کاروباری معاہدے کرنے یا ایسی کاروباری نوعیت جس میں گاہکوں سے میٹنگ کرنی ہو چا ہے وہ آن لائن یا فون پر ہی کیوں نہ ہو،اس کے لئے ماحول پر سکون ہونے کے ساتھ ذہنی طور پر پر سکون اورمخاطب کی جانب متوجہ ہونا ازحد ضروری ہوتا ہے ۔

اسی لئے مختص اوقات کار کے دوران یہ امور کامیابی سے انجام دےئے جاسکتے ہیں ۔
ذمے داریوں کو بانٹئے
ہر شخص کے اطراف میں کچھ ایسے افراد مثلا اہل خانہ ،دوست احباب ،والدین،گھریلوملازمین وغیرہ ضرور ہو تے ہیں جو کامیابی کی شاہراہ پر سفر کے دوران معاون ومددگار ثابت ہو سکتے ہیں ۔اس کے لئے ضروری یہ ہوتا ہے کہ پہلے اپنی ذمے داریوں ،اپنے فرائض کی ایک فہرست بنالی جائے اور پھر یہ دیکھاجائے کہ اس میں اہل خانہ یا گھریلو ملازمین وغیرہ کس طرح معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔

اپنی چند ذمے داریوں کو اگرکسی کے سپرد کر دیا جائے تو وہ وقت جو بچ جائے گا اس میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کارلاکراپنے کاروبار کی ترقی کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔مثلابرتن ،کپڑے دھونے کاکام گھریلو ملازمہ کے سپردکرکے خاتون خانہ چند سوروپے تنخواہ اداکرتی ہیں تو اس وقت میں اپنے کاروبار پر بھر پور توجہ دے کرکئی ہزار روپے کماسکتی ہیں ۔

البتہ فرائض کی ادائیگی میں سمجھوتہ نہ کریں اور نہ کوتا ہی برتیں ۔اس کے علاوہ ایسے تمام مشاغل پر بھی نظر رکھیں جو وقت کے ضیاع کاباعث بنتے ہیں ۔مثلا سہیلیوں سے گھنٹوں گپ شپ ،سماجی روابط کی وے سائٹس پر گھنٹوں وقت گزارنا ،گھنٹوں ٹی وی دیکھنا وغیرہ وغیرہ ۔ایسے تمام مشاغل کو اپنی روز مرہ کے معمولات سے نکال کر اپنے وقت کا بہترین استعمال کریں اور اس کو اپنے فرائض کی ادائیگی اور کاروبار کی ترقی کے لئے استعمال کرنے کے ساتھ گھر اور اپنے بچوں کو بھی بھر پور وقت دیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-09-14

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Ghar Baithy Karobar Karna Hai Magar Kis Tarhan" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.