بند کریں
خواتین مضامینمضامینگھریلو ناچاقیاں۔ جلدبڑھاپا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گھریلو ناچاقیاں۔ جلدبڑھاپا
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھریلونا چاقیوں کا منفی اثر خواتین پر زیادہ پڑتا ہے کیوں کہ مرد حضرات اکثر روز مرہ کے گھریلو لڑائی جھگڑے جلد بھول جاتے ہیں لیکن خواتین ان کا دل پر زیادہ اثر لیتی ہیں اور ہر روز ایسی باتوں پر جلتی کُڑھتی رہتی ہیں
نسرین شاہین:
خوب صورت اور کم عمر نظر آنا ہر عورت کی اولین خواہش ہوتی ہے لیکن اکثر خواتین چالیس سال کی عمر کے بعد ہی بوڑھی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ایسی خواتین جن کی ازدواجی زندگی گھریلو ناچاقیوں کا شکار ہوتی ہے وہ جلد بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
شادی شدہ زندگی کے ناخوش گوار اثرات مردوں کی نسبت خواتین کی زندگی پر زیادہ پڑتے ہیں۔شادی شدہ خواتین اگر خوش بھی رہتی ہیں تو انھیں روزمرہ کے معاملات میں الجھنوں کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں ملازمت کے مسائل گھریلو ذمے داریاں اور بچوں کے تعلیمی معاملات بھی شامل ہیں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھریلونا چاقیوں کا منفی اثر خواتین پر زیادہ پڑتا ہے کیوں کہ مرد حضرات اکثر روز مرہ کے گھریلو لڑائی جھگڑے جلد بھول جاتے ہیں لیکن خواتین ان کا دل پر زیادہ اثر لیتی ہیں اور ہر روز ایسی باتوں پر جلتی کُڑھتی رہتی ہیں جس کے نتیجے میں ان کے چہرے پر منفی اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں۔
میاں بیوی کا رشتہ دنیا بھر میں سب سے قریبی رشتہ سمجھا جاتا ہے لیکن جدید تحقیق کے مطابق دو اجنبی افراد ایک دوسرے کی بات بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں مگر میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والے افراد نہیں۔
میاں بیوی کا رشہ سب سے مضبوط سب سے ناز ک سب سے اچھا اور بسااوقات سے سے زیادہ تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی بات کسی دوسرے فرد کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں سمجھ لیتے ہیں مگر جدید تحقیق نے اس خیال کی نفی کر دی ہے۔
یہ عام مشاہدہ ہے کہ اکثر بیویاں اپنے شوہروں کے بارے میں یہ کہتی ہیں کہ وہ ان کی باتیں توجہ سے نہیں سنتے اور اکثر شوہروں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ ان کی بیویاں ان کی باتوں پر بالکل توجہ نہیں دیتیں۔ایسے جوڑوں کے درمیان اتنی دُوری یا اجنبیت کے بارے میں نفسیات کے ماہرین کا کہناہے کہ یہ جوڑے ایک دوسرے کو پوری طرح سے سمجھتے یا جانتے نہیں ہیں۔ اگرچہ ہر شوہر اور ہر بیوی یہ دعوا کرتی ہے کہ اہ اپنے شریک حیات کے بارے میں سب سے زیادہ جانتی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر صورتوں میں اس دعوے کی حیقیق ایک خوش فہمی سے زیادہ نہیں ہوتی اور بسااوقات تو آس پاس کے افراد انھیں ایک دوسرے کی نسبت زیادہ جانتے ہیں:
جو دیکھنے میں بہت ہی قریب لگتا ہے
اُسی کے بارے میں سوچو تو فاصلہ نکلے
ایک انگریزی کہاوت ہے کہ شادی باہمی غلط فہمیوں کے مجموعے کا نام ہے نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر میاں بیوی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے بارے بہت کچھ جانتے ہیں لہٰذا انھیں ایک دوسرے کو تفصیل کے بتانے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خرابی کی اصل بنیاد یہی ہے کہ ہم اجنبی افراد کو تو اپنے بارے میں سب کچھ وضاحت سے بتاتے اور سمجھاتے ہیں مگر شریکِ حیات کے بارے میں اپنے طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اسے زیادہ تفصیل سے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہ میرے بارے میں ہر بات سے اچھی طرح واقف ہے۔
میاں بیوی کی ی فرض کر لینا کہ وہ ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں غلط فہمیوں کا جنم دیتی ہیں جس کا نتیجہ بسا اوقات دُوری اور تنازعات کی صورت میں نکلتا ہے۔
اصل میں قریبی تعلق یا رشتے کی خوش فہمی کے باعث میاں یا بیوی ایک دوسرے سے گفتگو کرتے وقت تفصیل کے بجائے محض اشاروں یا مختصر جملوں سے کام لیتے ہیں اور یہ فرض کر لیتے ہیں کہ شریک حیات کی سمجھ میں پوری بات آگئی ہو گئی جب کہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ اس سے نہ صرف شریکِ حیات کے ذہن کو دھچکا لگتا ہے بلکہ شکوے شکایتیں بھی شروع ہو جاتی ہیں اس کے برعکس جب ہم کسی دوسرے فرد سے گفتگو کرتے ہیں تویہ بھی ذہن میں رکھتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتا اور اسے ہر چیز اچھی طرح بتاتے اور سمجھاتے ہیں۔
اکثر میاں بیوی کئی باتیں بتائے بغیر ایک دوسرے سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ زندگی کا ہم سفر ہونے کے ناتے انھیں ساری باتوں کا علم ہو گا اور وہ گھر کے کسی بھی معاملے میں ایک دوسرے کی بھر پور مدد کر سکیں گئے۔یہ طرز عمل بھی غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے اس طرح ان کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں اور تنازعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جو اکثر اوقات طویل ہوتا جاتا ہے اور بات علاحدگی یا طلاق تک جا پہنچتی ہے ۔ طلاق کے بدنما داغ کے علاوہ بیوگی جیسے تکلیف دہ مرحلے سے گزرنے کے بعد خواتین میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن کی بدولت وہ اپنی اصل عمر سے زیادہ نظر آتی ہیں۔
میاں بیوی جب ایک دوسرے کی بات کم سمجھتے ہیں تو گھریلو ناچاقیاں جنم لیتی ہیں جس کا منفی اثر خواتین پر زیادہ پڑتا ہے اور وہ اپنی عمر سے آگے نکل جاتی ہیں خاص طور پر غریب گھرانوں میں جہاں غربت متعدد مسائل کو جنم دیتی ہیں وہاں خواتین کی عمر تیزی سے ڈھلنے لگتی ہیں۔
جس طرح زندگی میں کچھ مخصوص عوامل عمر ڈھلنے کے اثرات کو کم کرنے کو سبب بنتے ہیں اسی طرح کچھ عوامل ایسے بھی ہیں جو انسان کو اس کی حقیقی عمر سے بڑا ظاہر کرتے ہیں۔ گھریلوں ناچاقیاں بھی ان عوامل میں شامل ہیں جو چہرے پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور خواتین کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے