Gharelo Zindagi Khushgawar Banaiye

گھریلو زندگی خوشگوار بنائیے

جمعرات اپریل

Gharelo Zindagi Khushgawar Banaiye

انسانی معاشرے کی بنیاد محبت ،احساس ،قربانی جیسے جذبوں پر ہے ۔کسی بھی معاشرے کو برائیوں سے پاک رکھنے کے لیے محبت جیسے پُر خلوص جذبے کی ضرورت ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی۔
شادی ایک ایسا مذہبی اور معاشرتی فریضہ ہے جس کے سبب ایک صحیح ،مکمل خاندان اور معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔یوں بھی زندگی ایک سفر کی مانند ہے اور میاں بیوی اس سفر کے ایسے ساتھی ہیں جن کا راستہ بھی ایک ہے اور منزل بھی ایک۔

اسی لیے انہیں گاڑی کے دو پہیے کہا جاتا ہے ،اگر ان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور جزبہ محبت موجود ہوتو یہ سفر آرام وسکون سے کٹ سکتا ہے ۔جب دو اجنبی لوگ نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھتے ہیں تو پھر ان کی یکجائی خاندان کی اکائی کو جنم دیتی ہے ۔یہی اکائی آگے جا کر معاشرے کی صورت میں ڈھلتی ہے ۔

(جاری ہے)

بہترین معاشرے کی تعمیر کے لیے اس اکائی کی مضبوطی اور خوبصورتی نہایت ضروری ہے ۔

ہمارے معاشرے میں مردوں کی نسبت،خواتین کو زیادہ قربانیاں اور خدمات پیش کرنی پڑتی ہیں ،لیکن اگر عوررت کی قربانی وایثار سے ایک خوبصورت معاشرہ،خوبصورت اور پرسکون گھر تخلیق پاجائے تو اس سے بڑھ کر اعزازکیا ہو گا․․․․․؟
ذیل میں کچھ چھوٹی چھوٹی باتیں درج کی جارہی ہیں ،جو عام سی ہونے کے باوجود اہم ہیں اور خوشگوار ازدواجی زندگی کی کنجی سمجھتی جاتی ہیں۔


خوش دلی سے شوہر کا استقبال
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شوہر بے چارہ دن بھر کی تھکان کے بعدجب گھر لوٹتا ہے تو بیوی شکایات کا انبار جمع کرکے بیٹھی ہوتی ہے ۔ادھر شوہر نے گھر میں قدم رکھے اور ادھر مسائل کی پٹاری کھل گئی ۔یہ چیز گھر کے سکون کو برباد کر دیتی ہے ۔ہر چیز کے کہنے کا ایک وقت ہوتا ہے اور بے وقت کی راگنی ہمیشہ ناپسندیدہ ہوتی ہے ۔

کوشش کریں کہ ان مسائل پر بات کرنے کے لیے ایسا وقت نکالیں جس میں شوہر پر سکون ہو۔آفس سے واپسی پر شوہر کا خوش دلی سے استقبال کریں ۔اس طرح وہ ساری تھکن بھول بھال کر خود کو ایک دم تروتازہ محسوس کرے گا۔کوشش کریں کہ شوہر کی آمد سے پہلے صاف ستھرالباس پہن کر ہلکا پھلکا تیارہوجائیں اور بچوں کوبھی صاف ستھرا رکھیں ۔اس طرح گھر کے ماحول میں خوشگوار ی اور محبت رچی بسی رہے گی۔


شکر گز ار اور قناعت پسند
میاں بیوی میں اکثر ایک دوسرے کی قربانیوں یا محنت کو سراہنے کی عادت نہیں ہوتی ،بلکہ بعض گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے نقاد بن جاتے ہیں ۔یہ چیز میاں بیوی کی ازدواجی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے ۔بعض عورتوں میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ شکر گزار نہیں بنتیں ۔ہر وقت گلے شکوے کرنا ان کی عادت ہوتی ہے ۔

وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کی آسائشوں کو دیکھ کر کڑھتی رہتی ہیں۔ اپنے میاں سے بھی ہر جائز اور ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے کی تمنارکھتی ہیں اور بعض اوقات اس کا خمیازہ بھی انہیں بھگتنا پڑتاہے ۔اگر شوہر کی آمدنی کم ہوتو اسے اس بات کا طعنہ کبھی نہ دیں بلکہ قناعت پسند بنیں ۔ایسے مراحل میں اس کا ساتھ دیں ،اس کی دل جوئی کریں۔
غصے پر قابو رکھیں
اپنے غصے پر قابو رکھیں کیونکہ زیادہ تر اختلافات غصے کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔

اگر شوہر غصے میں ہوتو آپ خاموش رہیں کچھ وقت گزرجانے کے بعد اسے اپنی بات نرم اور میٹھے لہجے میں سمجھائیں تاکہ وہ آپ کے موقف کو اچھی طرح سمجھ سکے،اس طرح بات بھی نہیں بڑھے گی اور شوہر کے دل میں آپ کی اہمیت اور عزت مزید بڑھ جائے گی۔
نظر انداز کرنا اور معاف کرنا سیکھیں
آپ سسرالی رشتے داروں کے متعلق کوئی منفی بات اپنے میکے میں نہ کریں کیونکہ اس طرح دونوں خاندانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔

اپنے سسر ،ساس ،نند ،جیٹھ اور دیور کی دل سے عزت کریں ۔اگر اختلاف ہو تو اختلاف کرنے کے بھی آداب اور طریقے ہوتے ہیں ۔
اختلافات کو کبھی اس نہج تک نہ لے جائیں کہ واپسی کے سارے راستے بند ہو جائیں ۔سب کومل جل کر ہی رہنا ہوتا ہے اور ایک نہ ایک وقت آتا ہے ہمیں پھر اپنوں ہی کا سہارا لینا ہوتا ہے ۔
اختلافات کو لڑائی میں مت بدلیں
سسرالی رشتہ داروں کو بھی بہن بھائیوں جیسا سمجھنے کی کوشش کریں ۔

معمولی باتوں کو دل پر مت لیں بلکہ یہ سوچ کر خود کو ذہنی طور پر مطمئن رکھیں کہ جب شادی سے پہلے بھی کبھی والدین کسی بات پر ڈانٹ دیتے تھے یا بہن بھائیوں سے کسی بات پر اختلاف ہوجاتا تھا تو جلد ہی ایک دوسرے کو منالیا کرتے تھے ۔میکے کی طرح سسرال میں بھی اگر یہی سوچ اور رویہ رکھیں گی تو ذہنی طور ہر مطمئن رہیں گی ۔اس سے طبیعت اور مزاج پر بھی اچھا اثر پڑے گا ،جب تعلقات میں بہتری آئے گی تو اس کے اثرات پورے خاندان پر اچھے مرتب ہوں گے۔


بے جاتو قعات سے بچیں
اکثر دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے بہت زیادہ تو قعات وابستہ کر لیتے جب یہ تو قعات پوری نہیں ہوتیں تو ازدواجی زندگی تباہی کی طرف بڑھنے لگتی ہے ۔اسی طرح رشتہ داروں کے ساتھ لین دین کے دوران بھی اپنے شوہر سے بہت زیادہ تو قعات رکھی جاتی ہیں ۔اگرا ن میں سے کوئی ایک دوسرے پر پورانہ اترے تو معاملات بگڑنے لگتے ہیں ۔

بہتریہ ہے کہ دونوں کا رویہ حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے ۔بیوی کو شوہر سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ اس کے بھائی کو ضرورت پڑے گی تو وہ آنکھیں بند کرکے اس کی مطلوبہ رقم حوالے کردے گا۔
اعتماد کو کمزورنہ پڑے دیں
آج کل دیکھنے میں آرہا ہے کہ بعض بیویاں کہیں بھی اپنی مرضی سے آنے جانے کو اپنا حق سمجھتی ہیں ۔
بلاشبہ رشتہ اعتماد کا ہوتا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ شوہر انہیں منع نہیں کرے گا لیکن اس کے باوجود کوشش کیجیے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر کہیں باہر نہ نکلیں ۔

کیونکہ اس طرح ازدواجی تعلقات میں بے اعتمادی کی فضا قائم ہو جاتی ہے ۔بہترہے کہ ایک دوسرے کو ہر بات سے آگاہ رکھاجائے تاکہ رشتے میں مضبوطی واعتماد آئے ۔
یہ تو وہ باتیں تھیں جو بیویوں کے لیے اہم ہیں ۔اب بات کرتے ہیں شوہروں کی ،کیونکہ گھر کی فضا کو خوشگوار بنائے رکھنے میں دونوں افراد کا برابرہی عمل دخل ہے۔
تصویر کا ایک رخ مت دیکھیں
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شوہر اپنے بہن بھائیوں یا والدین میں سے کسی کی بات پر یقین کرکے بیوی سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں ۔

بعض گھروں میں تو تشدد کی نوبت آجاتی ہے ۔کوئی بھی تنازعہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ دونوں فریقین کا موقف نہ سنا جائے۔
انصاف یہی ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو دونوں جانب سے پوچھا جائے ،کیونکہ پوری بات سنے بغیرکوئی بھی فیصلہ کرنا ہر گز دانش مندی نہیں ۔اس سے مسائل بڑھتے ہیں حل نہیں ہوتے۔
کیڑے نکالنے کی عادت سے بچیں
بعض افراد کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر کام میں کیڑے نکالتے ہیں ۔

مثبت سوچ رکھنے والے افراد ایسا نہیں کرتے ،وہ آدھے گلاس کو خالی کے بجائے آدھا بھرا ہوا گلاس کہتے ہیں ۔زندگی کے معاملات میں اونچ نیچ ہو جاتی ہے ،کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہوتا ۔اگر بیوی سے کسی معاملے میں کوئی کو تاہی ہو گئی ہے تو اسے اصلاح کا موقع دیں ۔
اسی طرح بیوی کی خدمات کو بھی سراہیں ۔گھر کے کام کاج سے لے کر زندگی کے ہر چھوٹے بڑے عمل کو صرف یہ کہہ کہ نظر انداز نہ کریں کہ یہ تو اس کا فرض تھا ۔

ہو سکتا ہے بہت سارے بیوی کے حقوق بھی ایسے ہوں جو شوہر ادانہ کر رہے ہوں ۔اس لیے جہاں تعریف کرنا بنتا ہووہاں ہر گز تعریف کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔
تعریف کے ہمیشہ اچھے ہی نتائج ملتے ہیں اور تنقید تعریف سے ہمیشہ ایک قدم پیچھے ہی کھڑی ہو گی۔
عزت دیں اورلیں
رشتہ کوئی بھی ہوGive and take کے بغیر نہیں چل سکتا ۔صرف بیوی سے یہ توقع رکھنا کہ وہی عزت وتکریم کرے اور آپ جیسا چاہیں اس کے ساتھ سلوک کریں ،ایسا نہیں ہوتا ۔

کوئی بھی رشتہ جبر کی بنیاد پر زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتا ۔بیوی کی عزت کریں گے تو وہ دل سے شوہر کی عزت کرے گی ،اگر خوف سے شوہر نے اپنی عزت کوروا بھی لی تو وہ بے معنی چیز ہے ۔اس لیے بیوی کے معاملے میں لہجے کو نرم بنائیں ۔شوہر کا شیریں لہجہ بیوی کے دل میں آپ کے لیے محبت پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔چہرے پر تناؤ کی کیفیت مت رکھیں اور خود کو زیادہ تر پر سکون رکھنے کی کوشش کریں۔


خود کو عقل کل سمجھنا
ایسے گھر میں ہمیشہ مسائل رہیں گے جہاں بیوی یا شوہر میں کوئی بھی خود کو عقل کل سمجھتا ہو ۔ضروری نہیں ہے کہ ہر معاملے میں شوہر درست سوچ رہا ہو ۔بعض گھریلو امور میں خواتین مردوں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔مرد اس طرح شاید بچت نہیں کر سکتا جس طرح عورت کر سکتی ہے ،اسی طرح خاندان کے بہت سارے امور میں خواتین زیادہ طاق ہوتی ہیں ۔

کچھ معاملات میں بیوی کو مکمل آزادی دیں اور اس پر اعتماد کریں۔
ہر بات شےئر کریں کیونکہ بیوی صرف شریک حیات ہی نہیں ،بہت اچھی دوست بھی ہوتی ہے ۔وہ ہر دکھ سکھ کو اپنے دل میں محسوس کرتی ہے۔ناساز گار حالات میں بھی وہ جس طرح ساتھ دیتی اور حوصلہ افزائی کرتی ہے ،ایسا اور کوئی نہیں کر سکتا ۔اس لیے اپنی بیوی کی قدر کیجیے اور اسے ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھیے۔
سیروتفریح پر جائیں
مہینے میں کم از کم دو مرتبہ بیوی بچوں کو کہیں باہر سیروتفریح کے لیے ضرور لے کر جائیں ۔اس طرح گھریلو ماحول پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ذہنی سکون اور خوشی بھی حاصل ہوتی ہے ۔بیوی بچوں سے محبت ودوستی کی فضا بھی قائم ہوتی ہے ۔ایک دوسرے کو سمجھے کا موقع ملتا ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2019-04-04

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Gharelo Zindagi Khushgawar Banaiye" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.