Gher Se Bahir Kaam Karne Wali Khawateen Ko Darpesh Masail - Special Articles For Women

گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کو درپیش مسائل - خواتین کیلئے مضامین

جمعرات 23 مئی 2019

Gher Se Bahir Kaam Karne Wali Khawateen Ko Darpesh Masail
عمیر حسن
مشرقی معاشرے میں یہ بات عام سمجھی جاتی ہے کہ مرد گھر کا خرچہ چلانے کے لیے پیسے کمائے گا۔اسی طرح پاکستان میں بھی اسی مقولے پر عمل کیا جاتا ہے ۔پاکستان کی آبادی میں مردوں کا تناسب عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔یہاں کام کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں نصف ہے۔1958اور 1973کے آئین کے تحت مردوں کی طرح عورتوں کو بھی مذہبی آزادی ،ووٹ دینے کا حق ،آزادی اظہار اور دیگر حقوق حاصل ہیں اورکسی بھی قسم کے صنفی امتیاز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔


آئین کے آرٹیکل 26,25اور 27کے تحت حقوق اور روزگار کے لیے جنس کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز روا نہیں رکھا جا سکتا۔بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافے کے باعث اس رجحان میں کچھ حد تک کمی آئی ہے۔

(جاری ہے)

اب میاں بیوی دونوں مل کر گھر کا خرچہ چلانے کی تگ ودو میں مصروف ہیں ۔جب کہ کچھ خواتین کی ترجیح کیرےئر بنانا اور خود مختاری حاصل کرنا ہوتی ہے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ابھی تک پاکستانی معاشرے نے مکمل طور پر ملازمت پیشہ خاتون کے تصور کو قبول نہیں کیا ہے ۔


ملازمت کی اجازت
ہم ایک طبقاتی معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں مرد وخواتین دونوں کو بہت سے مسائل کاسامنا ہے۔لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ معاشرتی رویوں کی وجہ سے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔شہروں کی بات کریں تو خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کے رجحان میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔

اب تعلیم حاصل کرنے والی ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنی قابلیت کے بل پر منتخب کردہ شعبے میں اپنانام بنائے۔لڑکیوں کے لیے سب سے پہلا مسئلہ گھر والوں کو راضی کرنا ہوتا ہے ،جن کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی جلد سے جلد شادی کر دی جائے اور نوکری کا شوق وہ سسرال جا کر پورا کرے۔اگر لڑکی کو شادی سے پہلے نوکری کرنے کی اجازت مل جاتی ہے تو رشتہ آنے پر سسرال والے تقاضا کرتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکی کو ملازمت چھوڑ نا ہوگی۔


بچوں کی نگہداشت کا معاملہ
شادی کے بعد اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ساس بہو کے تعلقات اتنے کشیدہ ہوتے ہیں کہ بہو اپنے بچوں کو ساس کے پاس چھوڑنا پسند نہیں کرتی۔ہر ملازمت پیشہ خاتون کی تنخواہ اتنی نہیں ہوتی کہ وہ آیا رکھ سکے اور جو رکھ بھی سکتی ہو اسے بھی آیا کی نگرانی کے لیے کسی بزرگ کی ضرورت پیش آتی ہے۔پاکستان میں بھی اس امر کی ضرورت ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کے شیر خوار بچوں کے لے نرسری یا ڈے کےئر سینٹر قائم کیے جائیں۔


گھریلو امور کی ذمہ داریاں
شادی شدہ خواتین کی یہ بھی مشکل ہے کہ سسرال میں کہاجاتا ہے کہ اگر ملازمت کرے گی تو گھر کون سنبھالے گا؟خاندانی والے کیا سوچیں گے؟یہی وجہ ہے کہ شدید تھکان کے باوجود ایسی خواتین سب کو وقت دینے اور خوش رکھنے کی بھر پور کوشش کرتی ہیں۔انھیں ساری دنیا کو باور کرانا ہوتا ہے کہ دفتر کے ساتھ وہ گھر،بچے ،فیملی اور باقی تمام معاملات خوش اسلوبی سے نبھارہی ہیں۔

اسی لیے انھیں اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا انتہائی دشوار ہوتاہے۔
جنسی تقریق
دفتر میں کام کرنے والے مرد حضرات اکثر اوقات خواتین پر جملے کستے ہیں جوان کی منفی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں ۔ایسے تبصرے خواتین کے لیے نہ صرف تکلیف کا باعث ہوتے ہیں بلکہ ان کے کام پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں ۔کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے سے روکنے اور بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے بھی قانون سازی کی گئی ہے ۔

قانون کا مقصد مردوخواتین کو روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بلا خوف وخطر اور بغیر کسی امتیاز کے اپنی روزی کماسکیں۔آئین اور قانون سے قطع نظر آج بھی پاکستانی معاشرے میں کام کرنے والی خواتین کے لیے فرسودہ تصورا ت عام ہیں۔ اس لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں میں تبدیلی لانا بھی انتہائی اہم ہے۔
ٹرانسپورٹ کا مسئلہ
ملازمت پیشہ خواتین کا ایک اہم مسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے ۔

کچھ دفاتر میں خواتین کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی جاتی ہے مگر بیشتر میں ایسا نہیں ہے ۔مردوں کی طرح خواتین بھی بسوں کے دھکے کھاتی ہیں لیکن انھیں چند سیٹیں ہی دستیاب ہوتی ہیں ان پر بھی اکثر مرد حضرات قبضہ کرلیتے ہیں ۔اس کے علاوہ مردوں کا عورتوں والے حصے سے چڑھنا یا اترنا،پیچھے بیٹھ کرچھونے کی کوشش کرنا،ڈرائیور کا گھٹیا گانے لگانا اور کنڈیکٹر کا کسی نہ کسی طرح ہراساں کرنا انتہائی تکلیف د ہ ہوتاہے۔


یہ چند ایسے مسائل ہیں جو ملازمت پیشہ خواتین کو عموماً درپیش آتے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کس ذہنی وجسمانی اذیت کا شکار ہوتی ہیں یہ تو بس وہی جانتی ہیں۔ان کے مسائل کے حل کے لئے معاشرے کی تربیت ضروری ہے۔معاشرے میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں ۔جس طرح خواتین زندگی کی گاڑی چلانے میں مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں اسی طرح مردوں کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو امور میں ان کا ہاتھ بٹایا کریں ۔خصوصاً بچوں کو اسکول بھیجنے میں ان کی مدد کیا کریں۔صبح وقت کی کمی کی وجہ سے انھیں دفتر پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے ایسے میں بچوں کی تیاری میں ذمہ داریاں بانٹ لی جائیں تو دونوں کو آسانی ہوگی ۔ایسا کرنے سے عورت کو اپنائیت اور تحفظ کا احساس ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-23

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Gher Se Bahir Kaam Karne Wali Khawateen Ko Darpesh Masail" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.