بند کریں
خواتین مضامینمضامینگریس مرے ہوپر(1906ء تا 1992ء)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
گریس مرے ہوپر(1906ء تا 1992ء)
اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں میں “ امیزنگ گریس“ کے نام سے مشہور، ریاضی دان، بحریہ کی افسراور کمپیوٹر کے میدان میں پہل کارگریس ہوپر نے آٹومیٹک پروگرامنگ کاتصور کوترقی دے کر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے مستقبل پر عمیق اثرات مرتب کیے۔
اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں میں “ امیزنگ گریس“ کے نام سے مشہور، ریاضی دان، بحریہ کی افسراور کمپیوٹر کے میدان میں پہل کارگریس ہوپرنے آٹومیٹک پروگرامنگ کاتصور کوترقی دے کر کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے مستقبل پر عمیق اثرات مرتب کیے۔ اسی ترقی کے نتیجے میں Cobol(کامن بزنس اور یئنٹڈ لینگوئج) پروگرامنگ لینگوئج بنی۔ ہوپر کے کام نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کوسادہ بنا دیا اور زیادہ لوگ اسے استعمال کرنے کے قابل ہوگئے۔
گریس ہوپر نیویارک سٹی میں پیدا ہوئی، 1928ء میں Vassarکالج سے گریجوایشن کی اور 1934 ء میں Yaleیونیورسٹی سے ریاضی میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کی۔ اُس نے 1931ء سے 1943ء تک Vassarمیں ریاضی پڑھائی۔ تب اُس کانم بحریہ کی WAESشاخ یعنی Women Accepted for Voluntary Emergency Serviceمیں درج کرلیا گیا۔ نیول ریزرومڈشپ مین سکول“ پڑھنے کے بعد اُس نے لیفٹیننٹ جونیئر گریڈ کے ساتھ گریجوایشن کی اور اُسے ہارورڈ میں ” بیوروآف آرڈننس کمپیوٹیشن پرجیکٹ“ سونپا گیا۔ یہاں اُس نے Mark Iکے لیے پروگرامز بنائے۔ مارک ون پہلا آتو میٹک طور پر چلنے والا ڈیجیٹل کمپیوٹر تھا۔ موجودہ دور کاالیکٹرونک کمپیوٹر اسی کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔
1946ء میں ہوپرنے ” کمپیوٹیشن لیبارٹری“ میں انجینئرنگ سائنسز اور اطلاقی فزکس کی ریسرچ فیلو کے طور پر ہارورڈ میں شمولیت اختیارکرلی۔وہاں اُس نے بحریہ کے لیے مارک کمپیوٹروں کی دوسری اور تیسری سیریز پر کام کیا۔ 1949ء میں ہارورڈ کوچھوڑ کر Eckert-Mauchlyکمپیوٹر کارپوریشن میں ایک عہدے پر فائز ہوئی۔ یہ کارپوریشن بڑے پیمانے پر پہلا الیکٹرانک کمپیوٹر UNIVACتیار کرنے کے منصوبے میں شریک تھی۔ Eckert-Mauchlyمیں کام کرتے ہوئے ہوئے ہوپر اور اُس کے سٹاف نے پہلا کمپیوٹر لینگوئج کمپائلر پروگرام تیار کیا جو پروگرامنگ کوڈز کو کمپیوٹر کے لیے قابل فہم مشین لینگوئج میں تبدیل کرتا تھا۔ 1955ء میں ہوپرنے ایک ایسی لینگوئج پرکام شروع کیا جوکمپیوٹروں پر بزنس ڈیٹا پروسیسنگ کے لیے موزوں اور استعمال میں بھی آسان تھی۔ اُس کی محنت کانتیجہ COBOL کی صورت میں برآمدہوا۔ یہ لینگوئج آج بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہورہی ہے۔
اپنے انڈسٹریل کیرئیر کے دوران ہوپر نے بحریہ کے ساتھ بھی مسلسل قریبی رابطہ قائم رکھا۔ وہ 1966ء میں ریٹائر ہوئی لیکن بحریہ نے اُسے کمپیوٹر لینگوئجز اور پروگرامز کی نگرانی کے لیے دوبارہ بلوالیا۔ 1969ء میں وہ ڈیٹا پروسیسنگ مینجمنٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کمپیوٹر سائنس کا Man of the Year ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی فردبنی۔ 1973ء میں وہ واحد ایسی عورت تھی جوبحریہ کی ریٹائرڈیزرولسٹ میں موجود ہوتے ہوئے بھی کیپٹن کے عہدے تک پہنچی۔ انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونک انجینئرز کی فیلو نام زد ہونے والی دو عورتوں میں سے ایک ہوپرتھی۔ اُس نے 1979ء میں انسٹی ٹیوٹ سے McDowellایوارڈجیتا، اور 1983ء میں صدررونالڈریگن نے اُسے ریئر ایڈل مرل نام زد کیا۔
1986ء میں بحریہ سے ریٹائر ہونے پراستی سالہ ہوپر مسلح افواج میں باقاعدہ ڈیوٹی پر موجود معمر ترین افسر تھی۔ بعد میں اُس نے ڈیجیٹل کارپوریشن کی سینیئر کنسلٹنٹ کے طور پر عہدہ سنبھالا اور تا حیات اسی عہدے سے پرفائزرہی۔ 1991ء میں وہ انفرادی حیثیت میں ” یونا ئیٹڈسٹیٹس میڈل آف ٹیکنالوجی ایوارڈ حاصل کرنے والی اولین عورت قرار پائی۔ یہ انعام” کمپیوٹر پروگرامنگ لینگوئجز کو گریس ہوپر کمپیوٹر سائنسی برادری میں ایک غیر روایتی اور بلند ہمت شخصیت تھی۔ وہ کمپیوٹر سائنس کے میدان میں عہدے داروں کو ” اسٹیبلشمنٹ“ کہاکرتی تھی۔ اُس نے اسٹیبلشمنٹ کو اس بات پر قائل کرنے کی خاطر بڑی سخت جدوجہد کی کمپیوٹرزمحض کیلکولیشنز کرنے کے علاوہ اور بھی بہت سے کاموں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کولیبارٹری سے نکال کرلیپ تاپ اور ڈیسک ٹاپ کی صورت تک لانے میں گریس ہوپر کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے