Hamal Se Qabal Ki Ehtiyaat - Special Articles For Women

حمل سے قبل کی احتیاط - خواتین کیلئے مضامین

منگل مئی

Hamal Se Qabal Ki Ehtiyaat
ماں بننا بیشترین عورتوں کی زندگی کا اہم ترین واقعہ ہوتا ہے۔ہر حاملہ عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا پیدا ہونے والا بچہ صحت مند ہو اور اس کے اندر کوئی پیدائشی نقص موجود نہ ہو۔مزید یہ کہ ماں حمل کے دوران کسی پیچیدگی یا تکلیف کا شکار نہ ہو اور زچگی کا عمل بھی اس کے لئے کوئی مشکلات پیدا نہ کرے۔حمل کے دوران عورت کی صحت کا انحصار اس کی حمل سے پہلے کی صحت پر ہوتا ہے۔

چنانچہ حاملہ ہونے سے پہلے کی صحت کا خاص طور سے خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔کامیاب حمل کے حصول کے لئے صرف اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ حمل سے پہلے اور حمل کے دوران صحت اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ان حالات کا ‘جو کہ حمل پر خراب اثرات ڈال سکتے ہیں‘پہلے ہی سے جائزہ لے لینا اور انہیں سمجھ لینا چاہئے۔

(جاری ہے)

نیز ان کو ٹھیک کرنے کا بندوبست بھی کر لینا چاہئے۔

حمل کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔
حاملہ ہونے سے پہلے عورت کو کافی غذا ملتی رہنی چاہئے کیونکہ حمل عورت کے جسم سے بہت سے تقاضے کرتا ہے۔عورت کو پروٹین ‘آئرن‘کیلشیم‘فولک ایسڈ یا کسی وٹامن کی کمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔اگر کوئی کمی موجود ہو تو اس کو دور کر دینا چاہئے۔
معاشی صورت حال کا بھی جائزہ لینا چاہئے۔

کیونکہ حمل‘زچگی اور بچے کی نگہداشت وغیرہ کے لئے اضافی اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔ عورتوں کو نفسیاتی طور پر بھی ماں بننے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔اگر عورت دماغی اور جذباتی طور پر تیار اور مستحکم نہیں ہے تو حمل‘زچگی اور بچے کی پرورش و پرواخت اس کے لئے جسمانی اور ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
عورت کو متعدی امراض میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔

خاص طور پر ایڈز‘ہیپاٹائٹس بی‘خسرہ‘ملیریا اور آتشک وغیرہ۔کیونکہ یہ امراض بچے میں منتقل ہو سکتے ہیں اور بچے کے بننے کے عمل کے دوران ہی اس میں جسمانی یا ذہنی خرابیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
عورت کو شراب‘سگریٹ‘بہت زیادہ کافی‘تمباکو اور نشہ آور اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے۔حاملہ ہونے سے پہلے ایسی تمام چیزوں کو بالکل ترک کر دینا چاہئے۔

نیز دوران حمل بھی ان سے مکمل طور پر گریز کرنا چاہئے۔
اگر عورت ذیابیطس کی مریضہ ہے تو حاملہ ہونے سے پہلے اور حمل کے دوران خون میں شوگر کے لیول پر سخت کنٹرول رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ضرورت ہو تو انسولین کے انجکشن بھی لئے جانے چاہئیں۔خون میں شوگر کی بڑھی ہوئی مقدار استقرار حمل کو روک سکتی ہے یا اس پر خراب اثر ڈال سکتی ہے۔
اگر عورت ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے تو اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مناسب دواؤں کے ذریعے اس معاملے کو کنٹرول میں رکھے۔


اگر والدین یا قریبی عزیزوں میں جینیاتی یا موروثی امراض کے مسائل موجود ہیں یا کسی گزشتہ حمل کے دوران ایسے کوئی مسائل پیش آئے تھے تو عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ جینیاتی مشورہ حاصل کرے اور اسے اس بات سے واقف ہونا چاہئے کہ اسے کیا خطرات درپیش ہو سکتے ہیں۔
خسرہ (German Measles) بچے میں خرابیاں پیدا کر سکتی ہے۔عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ استقرار حمل سے پہلے امتناعی اقدامات کر لے۔


استقرار حمل سے پہلے تشنج (Tetanus) کی روک تھام کا انجکشن لگوا لینا ضروری ہے تاکہ ماں اور بچے پر ممکنہ خراب اثرات کو روکا جا سکے۔
ہیپاٹائٹس بی اور ایڈز ماں سے بچے کو منتقل ہو سکتے ہیں۔ان میں سے کسی بیماری میں مبتلا عورت کو اس حقیقت سے واقف ہونا ضروری ہے کہ اسے کیا خطرات درپیش ہیں۔عورت اگر ایڈز میں مبتلا ہے تو حمل اور زچگی کے دوران خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

ہیپاٹائٹس بی کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین کا ایک انجکشن دے کر روکا جا سکتا ہے۔
استقرار حمل سے قبل کی احتیاط کی کس کو ضرورت ہے؟
بعض عورتوں کے لئے استقرار حمل کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے طبی مشورہ زیادہ ضروری ہیں کیونکہ وہ اپنے لئے اور اپنے ہونے والے بچوں کے لئے زیادہ خطرات کی حامل ہوتی ہیں۔ان میں مندرجہ ذیل عورتیں شامل ہوتی ہیں:
وہ عورتیں جن کی عمر پینتیس سال سے زائد ہو اور یہ ان کا پہلا حمل ہو۔


وہ عورتیں جو موٹی ہیں۔
وہ عورتیں جو غذائی کمی کا شکار ہوں جیسے خون کی کمی۔
وہ عورتیں جو تمباکو نوشی یا شراب نوشی کرتی ہوں یا نشے کی عادی ہوں۔
وہ عورتیں جو کسی پرانے مرض میں مبتلا ہوں استقرار حمل کی منصوبہ بندی سے پہلے اس مرض کا علاج کروا لینا ضروری ہے۔اگر وہ ذیابیطس یا ہائپر ٹینشن کا شکار ہیں تو ان کا اچھی طرح سے معائنہ کیا جانا چاہئے۔


وہ عورتیں خسرہ‘ملیریا یا کسی اور وائرس کے انفیکشن کا شکار ہوں۔استقرار حمل کی منصوبہ بندی سے پہلے اس مرض کا علاج کروا لینا ضروری ہے۔
وہ عورتیں جن کے کوئی اب نارمل بچہ پیدا ہوا ہو۔اگر سابقہ حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ اب نارمل ہو یا والدین میں سے کسی ایک میں بھی جینیاتی خرابیاں موجود ہوں یا قریبی رشتے داروں میں جینیاتی نقائص موجود ہوں تو اس صورت میں محتاط معائنہ اور چیک اپ لازمی ہے۔


وہ عورتیں جو بار بار اسقاط کا شکار ہوئی ہوں اگر گزشتہ حمل بار بار اسقاط کی شکل میں ضائع ہو گئے ہوں یا ان کے نتیجے میں اب نارمل یا جسمانی یا ذہنی طور پر معذور یا مردہ بچے پیدا ہو گئے ہوں تو شدید احتیاط کی ضرورت ہے۔چنانچہ ایک کامیاب حمل کے لئے ٹھوس بنیادوں پر منصوبہ بندی کیجئے اور برابر میڈیکل چیک اپ کرواتی رہئے تاکہ کوئی مسائل پیدا نہ ہوں۔
تاریخ اشاعت: 2021-05-25

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Hamal Se Qabal Ki Ehtiyaat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.