Hamla Khawateen Ki Ghazai Zarorat

حاملہ خواتین کی غذائی ضروریات

جمعہ اکتوبر

Hamla Khawateen Ki Ghazai Zarorat

حمل کے دوران غذا(ڈائٹ)سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور بعد میں بھی ۔ماں کی غذائیت کی صورتحال حمل کے نتیجے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔جنین اپنی افزائش اور نشوونما کی ضرورت اس غذائیت سے حاصل کرتا ہے جوماں کی غذا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس غذا(ڈائٹ)میں غذائیت ضرورت کے لحاظ سے ناکافی ہوتی ہے تو جنین اپنے لئے غذائیت ماں کے ٹشوز کی قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔

اگر ماں کو خوراک کمزوریا کم مقدار میں ملے تو حمل کے ضائع ہونے :کم وزن کے بچے کی قبل ازوقت پیدائش یا پھر بچے میں جسمانی اور یا ذہنی معذوری کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ماں کی غذا سے یہ بھی طے پاتا ہے کہ بچے میں غذائیت کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت کس حد تک ہے کیونکہ یہ بات بچے کی جسمانی نشوونما ‘بیماری سے تحفظ کی قدرتی صلاحیت‘ذہن کی افزائش پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

(جاری ہے)


اس لیے حمل کے دوران متوازن غذا کی مناسب مقدار ضرور لینی چاہئے۔حتیٰ کہ حمل ٹھہرنے سے قبل بھی عورت کو خوب سیر ہو کر غذا کھانی چاہئے۔اسے ڈائٹنگ ‘الکحل‘سگریٹ اور تمباکو کا استعمال چھوڑ دینا چاہئے۔ذیل میں وہ غذائیت بخش اشیاء بیان کی جارہی ہیں جو حمل کے دوران درکار ہوتی ہیں۔
کیلوریز
پورے حمل کے دوران عورتوں کو اضافی 60,000کیلوریز درکار ہوتی ہیں جن میں سے لگ بھگ 36,000کیلوریز چکنائی کے طور پر ماں میں جمع ہو جاتی ہیں اور زچگی کے بعد بچے کو دودھ پلانے کے دوران استعمال میں آجاتی ہیں۔

اوسطاً ایک حاملہ عورت کو یومیہ اضافی 300کیلوریز درکار ہوتی ہیں۔یہ ضرورت یا تو سیریلز دالوں کی سرونگ میں اضافے سے (یعنی معمول کے کھانے میں ایک کٹوری زیادہ دال سیریل استعمال کرے)یا پھر دن کے اوقات میں ایک مرتبہ اضافی کھانا کھانے سے پوری کی جاسکتی ہے۔
پروٹین:․حمل کے دوران جنین کے ٹشوز کی تعمیر اورماں کے ٹشوز کی افزائش کیلئے پروٹین درکار ہوتی ہے اوریہ اضافی 15gmپروٹین اور حمل اور دودھ پلانے کے دوران اضافی3گرام درکارہوتی ہے ۔

اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے خواتین کو چاہئے کہ وہ پروٹین کا ایک اضافی گلاس‘ایک اضافی کٹوری دال(اگر ویجی ٹیرین ہیں)یا ایک انڈہ یا ایک اونس(30گرام)گوشت روزانہ کھائیں۔
چکنائی
جس طرح کیلوریز کی ضرورت بڑھ جاتی ہے اسی طرح لازمی فیٹی ایسڈز‘لائینولک ایسڈ کی طلب میں بھی اضافہ ہو جاتاہے۔لہٰذا حمل کے دوران چکنائی کھانے کی مقدار میں 20سے30گرام یومیہ اور دودھ پلانے کے دوران 45گرام یومیہ اضافہ ہو نا چاہئے۔

اس اضافے کیلئے ضروری نہیں کہ آپ ڈھیروں دیسی گھی،فرائی شدہ اشیاء (فرائیڈ فوڈز)مغز یات وغیرہ کھائیں۔اضافی طلب ویجی ٹیبل آئلز یا مچھلی کھانے سے پوری کی جاسکتی ہے کیونکہ ان میں غیر سیر شدہ (ان سیچور یٹڈ)اور لازمی فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں۔
وٹامنز
حمل کے دوران بی گروپ کے وٹامنز میں سے بیشتر کی اضافی مقدار خاص طور پر فولک ایسڈ‘وٹامن اے ‘ڈی‘سی بھی اضافی مقدار میں درکار ہوتے ہیں ایک حاملہ عورت کیلئے عام طور پر متوازن غذاکی مناسب مقدار وٹامن ڈی ‘ای اور سی کی اضافی ضرورت مہیا کر دیتی ہے‘لیکن اینمیا اور جنین کی خلاف معمول صورت سے بچاؤ کے لیے حمل کے دوران فولک ایسڈ وٹامن ٹیبلیٹس (گولیاں) بھی لینی چاہئیں۔


وٹامن سی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے خواتین کو چاہئے کہ روزانہ ایک ترش پھل(اور نج‘موسمی)ضرور کھائیں۔وٹامن Aکی زیادہ جنین کی بد ہیئتی کا سبب بن سکتی ہے‘لہٰذا حمل کی پہلی سہ ماہی کے دوران اسے کیپسول کی صورت میں نہیں لینا چاہئے۔حاملہ خواتین کو چاہئے کہ وہ ڈھیروں سبزیاں کھائیں خاص طور پر ہر ے پتوں والی سبزیاں جیسے کہ پالک اور میتھی تاکہ دیگر وٹامنز کی ضرورت پوری ہو سکے ۔


لازمی معدنیات
معدنیات کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کیونکہ ماں اور جنین دونوں میں نئے ٹشوز تعمیر ہورہے ہوتے ہیں۔حاملہ عورت کی آئرن(فولاد)کی طلب بہت زیادہ ہوتی ہے ۔کھانوں سے یہ ضرورت پوری ہونا مشکل ہوتی ہے خاص طور پر ویجی ٹیرین(سبزی خور)خواتین کی ضرورت۔سو وہ آئرن کی گولیاں(180ملی گرام فیرس سلفیٹ)استعمال کر سکتی ہیں۔

اگر ان کی آئرن کی ضرورت پوری نہ کی جائے تو وہ اینمیا کا شکار ہو سکتی ہیں جس کا حمل پر انتہائی گہرا اثر ہوتاہے۔
حمل کے دوران کیلشیم کی ضرورت1گرام یومیہ بڑھ جاتی ہے جو کہ دودھ کے دو گلاسوں (400-500ملی لیٹر)یا دودھ کی اشیاء(دہی‘پنیر وغیرہ)سے پوری کی جاسکتی ہے۔آیوڈین کی ضرورت تھائیرائید ہارمون کی پروڈکشن کے لیے ہوتی ہے۔ہمارے ملک کے بعض حصوں میں آیوڈین کی کمی ایک اہم مسئلہ ہے۔

تمام خواتین کو چاہئے کہ وہ آیوڈین ملا ہوا(آیوڈائزڈ)نمک استعمال کریں۔
اگر متوازن غذا کی کافی مقدار استعمال کی جائے تو پھر دیگر معدنیات جیسے کہ زنک فاسفیٹ‘میگنیشیم‘سیلینیم اور کاپر کو بالٹ کی ضرورت بھی بآسانی پوری ہو جاتی ہے ۔بعض خواتین کو زنک سپلیمنٹ در کار ہو سکتاہے۔
ناگزیر پانی
حاملہ خواتین کو روزانہ کم از کم 6گلاس پانی ضرور پینا چاہئے اور گرم اور مرطوب موسم میں اور بھی زیادہ۔

یہ ایک غلط مفروضہ ہے کہ پانی پینے سے وزن میں اضافہ ہو سکتاہے۔کامیاب زچگی اور صحیح دودھ اترنے کے لئے ایک غذا(ڈائیٹ)درکار ہوتی ہے کہ جو ماں کی غذائی ضرورت کو پورا کرکے اور ایک صحتمند بچے کی پیدائش کیساتھ ماں کی صحت کی حفاظت کی بھی ضامن ہو ۔غذائیت میں کمی ماں اور بے بی دونوں میں مسائل کا سبب بن سکتی ہے ۔مختصر یہ کہ حاملہ عورت کی بالائی اترے ہوئے دودھ کا ایک اضافی گلاس ‘گوشت‘ انڈہ‘ دال کی ایک اضافی سرونگ‘ایک اضافی ترش پھل اور ہرے پتوں والی سبزیوں اور پھلوں کی اضافی سرونگ ضرورلینی چاہئے جس سے کہ حمل کے دوران اس کی ضروریات پوری ہو جائیں گی ۔


جن اشیاء سے گریز کرنا چاہئے
حمل کے دوران الکحل کا استعمال مندرجہ ذیل رسک بڑھا دیتاہے۔
حمل کا ضائع ہونا‘ابارشن
رحم میں جنین کی موت
ذہنی اور جسمانی مسائل
بچے میں نشوونما کے نقائص
جنین میں الکحل کا سنڈرم
جو خواتین ماں بننے کی پلاننگ کررہی ہوں انہیں جنین کی بہتری کے لئے حمل کے دوران اور چھاتی سے دودھ پلانے کے دوران بھی الکحل سے اجتناب کرنا چاہئے۔


حمل کے دوران کیفین کی اضافی مقدار بھی نہیں لینی چاہئے۔متوقع ماں اگر بہت زیادہ تمبا کونوشی کرتی ہے وہ عام طور پر چھوٹے سے بچے کوجنم دیتی ہے یا پھر رحم میں بچے کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔اگر عورت حاملہ ہے تو اس کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی چاہئے کہ وہ گھر کے اندر تمبا کو نوشی نہ کریں۔کسی قسم کی بھی ادویات کے استعمال سے ماسوائے ان کے جو نہایت ضروری ہوں‘اجتناب کرنا چاہئے۔

اس لئے کہ حمل کے دوران کوئی بھی دوا مکمل طور پر محفوط نہیں ہوتی۔
حمل کے دوران ایکسرے کا ایکسپوژر جنین میں بلڈ کینسر(لیوکیمیا‘جسمانی عضو کی بناوٹ میں خرابی اور ذہنی معذوری کا سبب بن سکتاہے۔اس لئے ایکسرے اور تابکاری کے دیگر ایکسپوژرز سے گریز کرناچاہئے۔اگرکوئی ایکسرے کر انابے حد ضروری ہو جائے تو پھر ایکسرے کراتے وقت ابڈومنل (پیٹ کی )شیلڈ استعمال کریں۔حاملہ خواتین نجاست ‘ناپاکی‘ ملاوٹ والی غذاؤں کے معاملے میں خوصی احتیاط برتیں کیونکہ نقصان دہ کیمیکلز پیٹ میں پہنچنے اور ملاوٹ شدہ غذاؤں کے کھانے سے انفیکشن کی صورت میں کئی قسم کے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-18

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Hamla Khawateen Ki Ghazai Zarorat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.