Hamla Ki Sehat - Special Articles For Women

حاملہ کی صحت - خواتین کیلئے مضامین

جمعہ مارچ

Hamla Ki Sehat
ڈاکٹر فیاض احمد
ایک عورت کے لئے ماں بننا جہاں فخر و امتیاز کا باعث ہے،وہیں حمل ٹھیرنے سے زچگی تک کی مدت نہایت احتیاط اور توجہ کی متقاضی ہے۔ چونکہ شکم مادر میں ایک نئی زندگی نمو کے مختلف مراحل طے کر رہی ہوتی ہے تو حاملہ کو بھی کئی طبی تبدیلیوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔اگر اس دوران وہ اپنی صحت سے غفلت برتے،کھانے پینے اور آرام وغیرہ کا خیال نہ رکھے تو بہ ظاہر معمولی علامات بھی کسی پیچیدگی کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،تاہم جو خواتین ہر لحاظ سے اپنا خیال رکھتی ہیں،انھیں وضع حمل کے وقت اور دوران زچگی بہت کم پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دوران حمل سب سے عام تکلیف قبض کی ہے،جو زچہ و بچہ دونوں کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔قبض کی بنیادی وجہ ہارمونوں کی تبدیلی ہے،جس سے محفوظ رہنے کے لئے ریشے دار غذائیں کھائی جائیں،جیسے اناج، سبزیاں،پھل،پھلیاں اور دالیں وغیرہ۔

(جاری ہے)

زیادہ سے زیادہ پانی پییں اور ہلکی پھلکی ورزش کو معمول کا حصہ بنا لیں۔حمل کے دوران جسم کے نچلے حصے میں درد رہتا ہے،جو اچانک اور شدت سے اُٹھتا ہے۔

یہ درد عام طور پر رات کے وقت پاؤں کے عضلات میں جھٹکے کے سبب ہوتا ہے اور کبھی تو بہت تکلیف کا باعث بنتا ہے۔اس سے بچاؤ کے لئے مختلف ورزشیں(جن سے خون کی گردش بہتر ہو)مفید ثابت ہوتی ہیں،مثلاً روزانہ پاؤں کو آٹھ سے دس بار پہلے کلاک کی طرح اور پھر کلاک کے مخالف رخ گھمائیں۔بعد ازاں پاؤں کے پنجے کو تیس سے چالیس بار بند کریں اور کھولیں۔یہ ورزش دن میں ایک سے دو مرتبہ ضرور کی جائے۔

اگر جسم کے نچلے حصے میں کسی وجہ سے یا اچانک درد ہو تو پیروں کی انگلیوں کو جھٹکے سے اوپر نیچے کریں اور پاؤں کے عضلات کا مساج کر لیں۔اس طرح درد کا احساس جلد کم ہو جائے گا۔
روزمرہ زندگی میں غذا کا خاص خیال رکھیں،کیونکہ بعض اوقات جسم میں اوکسیجن کی کمی کی وجہ سے بھی مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر دماغ تک صاف خون کی ترسیل نہ ہو تو دماغ میں اوکسیجن کی کمی واقع ہو جاتی ہے،جس کے نتیجے میں دماغی عوارض، مثلاً فتور دماغ وغیرہ کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور ساتھ ہی چکر آنے کی بھی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔

ایسا اکثر تیزی سے اُٹھنے یا پیٹھ کے بل زیادہ دیر تک لیٹے رہنے کے سبب ہوتا ہے،لہٰذا جلد بازی میں اٹھنے اور بیٹھنے سے گریز کیا جائے۔نیز اگر کھڑے ہونے کے دوران چڑچڑا پن محسوس ہو تو فوراً بیٹھ جائیں اور اگر سوتے ہوئے اچانک آنکھ کھلنے پر مزاج چڑچڑا سا ہو تو کروٹ کا رخ تبدیل کرکے لیٹ جائیں۔ایک اور عام مسئلہ، خصوصاً رات میں کثرت سے پیشاب آنا ہے اور یہ شکایت زچگی تک برقرار رہتی ہے۔

بہ ظاہر اس کی کوئی خاص وجہ نہیں،تاہم اگر شام میں مشروبات زیادہ پینے سے احتیاط برت لیں تو شدت میں کمی آجاتی ہے۔اگر یہ مسئلہ تکلیف کے ساتھ برقرار رہے تو زیادہ بہتر ہے کہ معالج سے رجوع کیا جائے،کیونکہ بعض اوقات یہ علامت کسی تعدیے (انفیکشن) کی بھی ہو سکتی ہے۔کئی خواتین میں زچگی کے بعد بال گرنے کی شکایت بڑھ جاتی ہے،جو پریشان کُن نہیں،اس لئے کہ دوران حمل ہارمونوں کی تبدیلی کے سبب زیادہ بال اُگنے لگتے ہیں اور یہی زیادہ بال بچے کی پیدائش کے بعد گرنے لگتے ہیں۔

اسی طرح جلد کی رنگت میں تبدیلی اور پیٹ پر ایک لکیر کا واضح ہونا عام طبی مسائل ہیں،جو زچگی کے بعد ازخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
بعض اوقات حاملہ کو ضرورت سے زیادہ گرمی محسوس ہوتی ہے۔دراصل ہارمونوں کی تبدیلی کی وجہ سے جلد کی جانب خون کا دباؤ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں گرمی محسوس ہوتی ہے اور پسینہ بھی زیادہ آتا ہے۔دن میں کئی بار چہرہ،ہاتھ اور پاؤں تازہ پانی سے دھوئیں۔

اس طرح گرمی کا احساس کم ہو گا اور خود کو تازہ دم بھی محسوس کریں گی۔نیز ڈھیلے ڈھالے ملبوسات پہنیں۔اس طرح ماں بننے والی خواتین کو عموماً زیادہ غصہ آتا ہے،لہٰذا جب کوئی بات گراں گزرے اور مزاج میں غصہ در آئے تو پانی زیادہ سے زیادہ پییں۔نیز اپنی غذا میں سبز پتوں والی سبزیوں کو زیادہ شامل کریں۔اس کے علاوہ حاملہ خواتین کے پاؤں بھی متورم ہو جاتے ہیں،جو عموماً بچے کی پیدائش کے بعد اپنی اصلی حالت میں واپس آجاتے ہیں،تاہم اس پریشانی سے محفوظ رہنے کے لئے دیر تک کھڑے ہونے ،کرسی یا صوفے وغیرہ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے اور زیادہ وزنی چیزیں اٹھانے سے اجتناب برتیں۔

نیز اونچی ایڑی کا جوتا بھی ہر گز نہ پہنیں،اس کے بجائے آرام دہ اور فلیٹ چپلیں زیادہ موزوں ہیں۔علاوہ ازیں سر اور کمر کا درد،جسم کے کسی حصے سے خون آنا،بُلند فشار خون، بدہضمی،سینے کی جلن،صبح کے وقت بخار ہونا،نکسیر پھوٹنا،بواسیر،نیند نہ آنا،تھکن اور جوڑوں پر سوجن سمیت دیگر علامات ظاہر ہونے پر ٹال مٹول کے بجائے فوری معالج سے رابطہ کریں،اس لئے کہ بروقت تشخیص اور بہتر علاج کسی بھی پیچیدگی سے محفوظ رکھنے میں کارگر ثابت ہوتا ہے،جب کہ معالج کے مشورے سے ہلکی پھلکی ورزش تو لازماً کریں۔

حاملہ خواتین اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں کہ نیند کی کمی بچے کی دماغی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔بازار کی تیار شدہ غذاؤں کے بجائے پھل کھائے جائیں تو بہتر ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو دوران حمل پھل زیادہ کھاتی ہیں،ان کے بچوں کی کسر ذہانت(آئی کیو)کی سطح دیگر بچوں کی نسبت بلند ہوتی ہے،تاہم ایسے پھل جو ذیابیطس اور وزن میں اضافے کا سبب بنیں،وہ کم مقدار میں کھائیں۔

دوران حمل چائے یا کافی زیادہ پی جائے تو شکم مادر میں پلنے والے بچے کی صحت کے لئے تو نقصان دہ ہے ہی،لیکن بعض کیسوں میں حاملہ کو بھی کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔حاملہ خواتین اپنی جلد،بالوں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔جلد سونے اور صبح سویرے بیدار ہونے کی عادت ڈالیں اور پُرسکون ماحول میں رہیں۔

سب سے بڑھ کر نماز کی پابندی ضروری ہے،جب کہ ایک وقت مقرر کرکے اسلامی کتب خاص طور پر سیرت نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ ضرور کریں۔
چونکہ ماں بننے والی عورت کے ساتھ ایک زندگی اور ہوتی ہے تو باپ بننے والے شوہر پر بھی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی ماں کا بھرپور خیال رکھے اور خاص طور پر زچگی کے لئے معیاری اسپتال منتخب کرے،جہاں تمام تر ضروری طبی سہولتیں میسر ہوں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک حمل کے دوران خواتین کو ہر لحاظ سے پُرسکون ماحول فراہم کرتے ہیں،تاکہ ان کے مستقبل کے معمار ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند پیدا ہوں اور ماں بھی ہر اعتبار سے صحت مند رہے۔یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں زچگی کے لئے غیر ضروری آپریشنوں کی شرح بھی بہت کم ہے۔اس ضمن میں ہماری حکومت پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہر سطح تک حاملہ خواتین کو نہ صرف سہولتیں فراہم کی جائیں،بلکہ ان کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے چیک اینڈ بیلنس کا ایک مربوط نظام بھی تشکیل دیا جائے۔
تاریخ اشاعت: 2021-03-12

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Hamla Ki Sehat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.