بند کریں
خواتین مضامینمضامینحقیقی ترقی کیلئے صنفی امتیاز کا خاتمہ ضروری

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حقیقی ترقی کیلئے صنفی امتیاز کا خاتمہ ضروری
رضیہ بھٹی ایک ایسی با ہمت خاتون کا نام ہے جس نے تمام رکاوٹوں اور بندشوں کو توڑتے ہوئے عزم و حوصلے کی نئی مثال رقم کی ۔ کوکا کولا بیوریجز پاکستان میں گوجرانوالہ کی رضیہ بھٹی حفاظتی اقدامات کی خاطر ایک موو ڈرائیور کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ مردوں کی اس معاشرے میں ایسی نوکری کرنا
قائد اعظم محمد علی جناح  کا فرمان ہے کہ”کوئی بھی قوم اس وقت تک حقیقی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی جب تک خواتین شانہ بشانہ آپ کا ساتھ نہ دیں ۔ “عالمی بینک، اقوام متحدہ،Deloitte Ernst & youngاور عالمی مانیٹر اداروں نے معاشی ترقی کے حوالے سے اپنی تحقیقی رپورٹس میں یہ اعتراف کیا ہے کہ خواتین کے بھرپور تعاون اور شرکت کے بغیر کوئی بھی ملک حقیقی ترقی کا کواب نہیں دیکھ سکتا بلکہ اس خواب کی تعبیر کیلئے قومی اداروں اور معاشروں سے صنفی امتیاز کا خاتمہ اور خواتین کو ان کے جائز اور قانونی حقوق کی فوری اور بلا تفریق فراہمی از حد ضروری ہے کیونکہ اقتصادی ترقی کے فروغ میں خواتین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔خواتین بطور بزنس لیڈرز ،بطور ملازمین ، بطور صارف اور بطور خریدار یا سرمایہ دار ہر صورت میں اقتصادیات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جن معاشروں میں خواتین کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل نہیں اور جہاں خواتین سے مساوی سلوک نہیں برتاجاتا وہاں اقتصادیات اور ترقی کا عمل شدید انحطاط کا شکار ہے ۔عالمی اداروں کی رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ کچھ عرصہ قبل خواتین کو زبردست رکاوٹوں کا سامنا تھا، انجینئرنگ ، ڈرائیونگ،سیکیورٹی اور دیگر شعبہ جات میں روزگار کے تمام مواقعوں پر مرد طبقے کا غلبہ اور قبضہ تھا لیکن خواتین نے محنت کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہمت نہیں ہاری ، انہوں نے ہمت اور حوصلے سے حالات کا مقابلہ کیا ، خود کو تعلیم کے ہتھیار سے لیس کیااور معاشرے کا فعال حصہ بنیں ۔ افرادی قوت میں شامل ہونے کیلئے بھی خواتین نے سر توڑ کوششیں کیں ۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج خواتین نہ صرف اچھی انجینئرز ہیں بلکہ ڈرائیونگ ، سیکیورٹی اور مختلف شعبہ جات میں بھرپور اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں ۔
پاکستان میں بھی حالات میں بتدریج تبدیلی آئی ہے اب صرف خواتین کو تعلیم دلاناہی اہم نہیں سمجھا جاتابلکہ انہیں ورک فورس یعنی افرادی قوت بھی تسلیم کیا جاتا ہے ، یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جس کا اعتراف کیا جانا چاہئے لیکن Campbell- Kibler کے مطابق ابھی بھی پاکستانی معاشرے میں اکثریت یہ سوچ رکھتی ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں کم طاقتور ہیں ، تعلیم کے حد تک تو ٹھیک ہے لیکن جسمانی اور معاشرتی طور پر عورت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوئی کہ اپنے پورے کنبے کی کفالت کر سکے تا ہم عورت کی صلاحیت اور قابلیت کو نکھار نے سے پاکستان کی اقتصادی ابتری کو بہتری میں بدلا جا سکتا ہے ۔ عورت کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے روایتی طور پر صرف مرد کو طاقت کا محور سمجھنے کی سوچ میں تبدیلی لانا ہو گی۔
رضیہ بھٹی ایک ایسی با ہمت خاتون کا نام ہے جس نے تمام رکاوٹوں اور بندشوں کو توڑتے ہوئے عزم و حوصلے کی نئی مثال رقم کی ۔ کوکا کولا بیوریجز پاکستان میں گوجرانوالہ کی رضیہ بھٹی حفاظتی اقدامات کی خاطر ایک موو ڈرائیور کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ مردوں کی اس معاشرے میں ایسی نوکری کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے لیکن رضیہ بھٹی اپنی محنت اور عزم سے تمام روائتی بندشوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یہ فریضہ انجام دے رہی ہیں ۔ ایک خاتون ڈرائیور ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر خواتین کو اکثر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان کی ڈرائیونگ صلاحیتیں مردوں سے کمتر ہیں لیکن رضیہ بھٹی جیسی باہمت خواتین نے بطور موو ڈرائیور سوچ کے تمام پیمانے تبدیل کر کے رکھ دئیے ۔حادثاتی ، ناگہانی صورت میں ادارے اور اور عملے کی حفاظت موو ڈرائیور کی اولین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے اور رضیہ بھٹی یہ ذمہ داری بغیر کسی ڈر اور جھجک کے بھرپور انداز میں ادا کر رہی ہیں ۔ انہوں نے انتہائی محدود مدت میں CCBPL کے کارکنوں میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے جو کم لوگوں کو ملتا ہے اور اس کی وجہ صرف اور صرف رضیہ بھٹی کی محنت اور کارکردگی ہے۔
رضیہ بھٹی کہتی ہیں کہ ” بطور ایک خاتون کے گوجرانوالہ سے لاہور نوکری کیلئے اور وہ بھی کسی مرد اور فیملی کی مدد کے انتہائی مشکل اور دقت طلب ہے لیکن میں نے اس چیلنج کو قبول کیا کیونکہ میں کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہتی تھی اور محنت سے اپنے گھر کو چلانا چاہتی تھی ۔ مجھے معلوم تھا کہ معاشرہ مجھے سڑک پر ٹرک چلاتا نہیں دیکھ پائے گا ، بہت سے مردوں نے بھی میری مخالفت کی اور یہ کہا کہ یہ عورت کا کام نہیں لیکن میں نے نا ممکن کو کر دکھایا ۔ ایسا کرنے سے مجھے اپنے اندر اعتماد ، لڑنے کی صلاحیت اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ ملا اور اسی جذبے کی مدد سے میں نے معاشرے کی تمام بندشوں اور رکاوٹوں کو توڑ ڈالا ۔ آج میں اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کیلئے کوشاں ہوں اور تمام تنقید کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی محنت کی کمائی سے اس کے روشن مستقبل کی راہیں ہموار کر رہی ہوں ۔
CCBPLمیں خواتین کیلئے ایک اور روشن مثال بھی موجود ہے ۔ تبسم شبیر رحیم یار خان میں وئیر ہاؤس آپریٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں ۔ تبسم بھی ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں عورت کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی ، پڑھنا لکھنا تو دور کی بات ہے لیکن تبسم نے دقیانوسی خیالات کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا ۔ وہ CCBPLمیں کام کر کے نہ صرف اپنے گھر کی معاشی کفالت کا فریضہ انجا م دے رہی ہیں بلکہ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ایسا کرنے میں ان کا ادارہ ان کو بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے ۔
تبسم شبیر کہتی ہیں ” میں نے کئی اداروں میں ملازمتیں کیں لیکن وہاں مجھے کئی مشکلات درپیش آئیں خاص طور پر ڈیوٹی اوقات اتنے سخت اور نا مناسب تھے کہ مجھے اپنے گھر اور پڑھائی کیلئے بالکل بھی وقت نہیں ملتا تھالیکن CCBPL نے میری تمام مشکلات دور کر دیں ۔ میں یہاں ڈٹ کر کام کرتی ہوں اور اپنے گھر کو بھی پورا وقت دے پاتی ہوں اور مجھے تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھی پوری آزادی حاصل ہے ۔ مجھے یہاں سیکھنے کیلئے بھی بہت کچھ ملا جس سے میرے تجربے میں اضافہ ہوا ۔میں نے CCBPLمیں کام کر کے یہ محسوس کیا کہ محنت سے کچھ بھی نا ممکن نہیں رہتا ، آپ ڈٹ کر کام کریں تو اس کا اجر ضرور ملتا ہے ۔ “
کوکا کولا بیوریجز پاکستان لیمیٹڈ کو وطن عزیز کی وہ واحد کمپنی ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو خواتین کو روزگار ، تربیت اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کر رہی ہے۔ CCBPLکے دفاتر اور اور پلانٹس میں کام کرنے والی خواتین کو وہ مثالی ماحول فراہم کیا جاتا ہے جو شاید کسی اور ادارے میں حاصل ہو۔ کوکا کولا بیریجز پاکستان لیمیٹڈ میں خواتین بطور ٹرک ڈرائیورز ، لفٹرز ، سیکیورٹی آفیسرز ، مشین آپریٹرز ، مائیکرو بائیولوجسٹس اور سیلز مینجرز کے فرائض انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہیں CCBPLکی کی لیڈر شپ ٹیم میں اس وقت 33 فیصد خواتین مصروف عمل ہیں جبکہ صرف دو سال کے مختصر عرصہ میں CCBPL پر کام کرنے والے عورتوں کی تعداد دگنی ہو چکی ہے جبکہ 14.5 فیصد خواتین کمپنی کے انتظامی عہدوں پرفائز ہیں ۔کمپنی صرف خواتین کو روزگار ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ ترقی کی منازل طے کر سکنے میں ہر ممکن مدد بھی کرتی ہے۔ پاکستان میں عام طور پر خواتین کا کردارگھر کی چار دیواری،صفائی ستھرائی، کھانا پکانا، بچوں کی دیکھ بھال کرنے تک محدود ہے جبکہ ان کے رول ماڈل کی حیثیت کو مکمل نظر اندازکر دیا جاتا ہے ۔صرف CCBPL کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ معاشرے میں بڑھتے ، پنپتے خواتین کے مثبت کرداراور معاشی ترقی میں ان خواتین کی بڑھتی صلاحیتوں اور اہمیت کو تسلیم کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی یہ عظیم فریضہ انجام دیتا رہے گا ۔

(2) ووٹ وصول ہوئے