بند کریں
خواتین مضامینمضامینحجاب پردہ بھی فیشن بھی

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
حجاب پردہ بھی فیشن بھی
ماڈرن حجاب بھی فیشن کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ پردے کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔

صدف نثار:
اکیسویں صدی میں ہر چیز کے بدلتے فیشن نے حجاب اوڑھنے کے انداز میں بھی تبدیلی پیدا کی ہے اب سکول ، کالج، اور یونیورسٹی کی طالبات کے علاوہ ملازمت پیشہ خواتین بھی نت نئے انداز سے ججاب اوڑھتی ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب حجاب کو پردے اور ضرورت سے زیادہ فیشن کے طور پر اپنایا جا رہا ہے اب حجاب محض پردہ خود کو محفوظ کرنے کیلئے ہی نہیں بلکہ حجاب کو ماڈرن حجاب کا نام دیدیا گیا ہے کیونکہ کوئی اس کی ضرورت کے تحت اپناتا ہے تو کوئی اس کو فیشن کے طور پر استعمال میں لاتا ہے ۔بطور فیشن حجاب کو عام کرنے میں میڈیا کا کردار بہت اہم ہے ۔ ڈراموں میں حجاب کو عام کرنے کیلئے لوگوں کو مثبت پیغام دیا گیا ہے۔ اور میڈیا کے ذریعے ملنے والا پیغام لوگوں کے ذہن پر جلد اثر انداز ہوتا ہے لیکن آئند بات یہ ہے کہ حجاب خواہ پردے کی غرض سے لیا جائے یا پھرفیشن کی غرض سے اس کے دونوں ہی پہلو مثبت اور خوش آئند ہیں کیونکہ دونوں ہی صورتوں میں حجاب پردے کے مقصد کو پورا کرتا ہے۔
ماڈرن حجاب بھی فیشن کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ پردے کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ ماضی میں با پردہ خواتین کو باہر جانے یا نوکری کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ گھر میں بند رہنے پر مجبور ہوتی تھیں۔بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود بھی لڑکیاں معاشرے کا ناکارہ جزوبن جاتی تھیں لیکن اب جدید دور نے انہیں اس اُلجھن سے بھی نجات دلا دی ہے اور حجاب کو بھی فیشن کے طور پر اپنا لیا گیا ہے۔ اب ٹیلی ویژن اور نیوز چینلز پر ماڈرن حجاب کے ساتھ کام کرنے میں کوئی عار محسوس کی جاتی بلکہ اب تو حجاب لینے والی لڑکیاں خود اعتمادی سے خدمات سرا نجام دے رہی ہیں۔
اکیسویں صدی میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جہاں خواتین اب مردوں سے پیچھے ہیں۔ اور تو اور اب حجاب اوڑھے خواتین بطور پائلٹ بھی فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ اب پردہ عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہا۔ اب حجاب فیشن کے تقاضوں کو بھی بھر پور انداز سے پورا کرتا ہے ۔ حجاب کا ایک اور پہلو کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا یعنی حجاب پوری دنیا میں مسلمان خواتین کی منفرد پہنچان بھی ہے اگر چہ مغربی اقوام پردے کو تنگ نظری سے دیکھتی ہیں لیکن مسلمان خواتین نے ان کے ساتھ رہتے ہوئے بھی پردے کی اس روایت کو قائم ودائم رکھا ہوا ہے۔ ہمارے معاشرے میں حجاب کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے اس حجاب کو مثبت انداز میں متعارف کروایا جائے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے