بند کریں
خواتین مضامینمضامیناندرا گاندھی(1917ء تا1984ء)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اندرا گاندھی(1917ء تا1984ء)
بھارت کی پہلی خاتون وزیر اعظم اندراگاندھی کے عزم وارادے کی پختگی کوبہت سراہا اور طاقت کے غلط استعمال پر اُسے بہت برا بھلابھی کہا جاتاہے۔
بھارت کی پہلی خاتون وزیر اعظم اندراگاندھی کے عزم وارادے کی پختگی کوبہت سراہا اور طاقت کے غلط استعمال پر اُسے بہت برا بھلابھی کہا جاتاہے۔ اُن نے بھارت کے ایک بین الاقوامی طاقت کے طور پر کردار کوکافی وسعت دی اور تیسری دنیاکے ممالک میں ایک اہم آواز بن گئی۔ وہ بھارت میں جمہوریت کی زبردست حامی تھی۔ انجام کاراُس کی اپنی حکومت نے ہی جمہوری حقوق غصب کرنے شروع کردیے دنیاکے دوسرے سب سے زیادہ گنجان آباد ملک پرحکومت کرنے میں اُسے بہت سی مشکلات پیش آئیں مثلاََ مذہبی عنادپرستی اور سیاسی دھڑے بازی۔ اگرچہ وہ اپنے متعین کردہ مقاصد کوپوری طرح تونہ کرسکی لیکن اب بھی عالمی سربراہوں کے درمیان ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔
اندرا گاندھی آزاد ہندوستان کے مقتدرگھرانے میں پیداہوئی۔ اُس کاباپ جواہرالال نہرو اور دادا موتی لال نہرو ہندوستان کی جدوجہدآزادی میں بڑے نمایاں کرداررکھتے تھے ۔ اندراکی بہت چھوٹے ہوتے کی یادوں میں سے ایک ”بدیشی کپڑے اور درآمدی اشیا کوگھرکے صحن میں رکھ کر آگ لگا“ تھی۔ اُس کا سارا گھرانہ اس کارروائی میں شریک ہوا۔ یہ سب کچھ یورپی منصوعات کے بائیکاٹ کی مہم کاحصہ تھا۔ اندرا نے اپنی من پسند۔ یورپ سے آئی ہوئی گڑیا شعلوں کی نذرکی۔ شاید یہ تجربہ ایک ایسی بچی کے لیے بہت موزوں تھا جس کی ہیروجوآن آف آرک تھی۔ بارہ سال کی عمر میں اُس نے ایک ہزار بچوں کوجمع کرکے ” بندربریگیڈ“ تشکیل دی۔ اندرا کے باپ اور ماں دونوں نے کافی عرصہ جیلوں میں گزارا جس کی وجہ سے اُس کابچپن تنہائی پسندانہ اور غیر محفوظ ہو گیا۔ وہ پونامیں سکول داخل ہوئی اور بعدازاں ہندوستانی شاعر اور فلسفی رابندرناتھ ٹیگور کے پاس پڑھا۔ اپنی ماں کے تپ دق میں مبتلا ہوجانے کے بعد اندرا نے تعلیم کاسلسلہ منقطع کیااور والدین کے ہمراہ سوئٹزر لینڈچلی گئی (جہاں ماں کاعلاج ہونا تھا)۔
1938ء میں اندرا اجدید تاریخ پڑھنے کی غرض سے آکسفورڈیونیورسٹی کے Somervilleکالج میں داخل ہوئی۔ بدترین جرمن بم باری کے دوران وہ لندن میں ایمبولینس چلاتی اور زخمیوں کی مدد کرتی رہی مزے کی بات ہے کہ اُس دورمیں اندرا کاباپ ہندوستان کی برطانوی جیل میں قید تھا۔ انگلینڈ میں ہی رہنے کے دوران اندراکی منگنی ایک خاندانی دوست اور لندن سکول آف اکنامکس کے طالب علم فیروز گاندھی سے ہوگئی۔ جب وہ دونوں شادی کرنے کے لیے 1942ء میں وطن واپس آئے توہر طرف تحریک آزادی کے سلسلے میں ہونے والی خونیں لڑائیاں دیکھیں۔ انڈین نیشنل کانگریس نے ” ہندوستان چھوڑدو“ تحریک شروع کی تھی جس کے تحت انگریزوں سے فوری طور پرہندوستان سے چلے جانے کا مطالبہ کیاگیااوراُن کے انکار کی صورت میں غیر متشددسول نافرمانی کی دھمکی دی گئی۔ انگریز حکم رانوں نے مذاکرات کے بجائے مظاہرین پرتشدد کیااور نیشنل کانگریس کے زیادہ تررہنماؤں کوجیل میں ڈال دیا۔ اُن میں اندرا بھی شامل تھی۔ وہ 9ماہ تک جیل میں رہی۔
1947ء میں ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کے بعد اندرا کاباپ جواہرلال نہرو بھارت کاپہلا وزیراعظم اور وزیربرائے امورخارجہ بنا۔ اندرا اُس کے نہایت بھروسہ مند مشیروں میں شامل ہوئی اور دنیا بھر میں سفارتی مشنز پرساتھ گئی۔ 1955ء میں اُس نے کانگریس ورکنگ کمیٹی میں ایک اہم عہدہ حاصل کرلیا۔ چار برس بعد وہ انڈین نیشنل کانگریس کی صدر منتخب ہوئی۔ قبل ازیں اُس کاباپ اور دادا بھی اس عہدے پر فائزرہ چکے تھے۔ 1964ء میں جب نہرو کی وفات ہوگئی تواندرا کواپنی عمر اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے اُس کی جگہ سنبھالنے کے لائق نہ سمجھا گیا۔اُس کاعورت ہونا بھی ایک رکاوٹ تھا۔ اندرا نے وزیراعظم لال بہادر شاستری کی بینہ میں ایک وزیر کاعہدہ قبول کرلیا۔ 1966ء میں شاستری کی اچانک وفات پر کانگریس پارٹی کے رہنماؤں نے وزیراعظم کے لیے اندرا کانام پیش کیا کیونکہ اُن کاخیلا تھاکہ اُسے بڑی آسانی سے اپنی مرضی کے مطابق چلاسکیں گے۔
تاہم اندرا ایک زبردست اور قوت فیصلہ کی حامل وزیراعظم ثابت ہوئی جوامریکہ اور سوویت یونین (جو دونوں ہی بھارت کواپنے زیراثرلانا چاہتے تھے) کے درمیان توازن قائم رکھ سکتی تھی۔ پاکستان کے ساتھ 1971ء کی جنگ میں اندرا نے کامیابی حاصل کی۔ اُس کے جانشین اور بیٹے سنجے کی کرپشن اور قوت پرمبنی حکمت عملی نے عوامی رائے کواندرا حکومت کے خلاف کردیا۔ 1975ء میں اندرا کے خلاف الیکشن فراڈ کامقدمہ چلاا ور استعفے کامطالبہ بھی کیاجانے لگا۔ جواب میں اُس نے ایمرجنسی کی صورت میں حال نافذکردی، مخالفین کوجیلوں میں ڈالا اور پریس کوسنسر کیا۔ 1977ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اُسے ایمرجنسی کی صورت حال میں نرمی لاناپڑی۔ تاہم، بعد کے عام انتخابات میں اُسے شکست ہوئی نئی اتحادی حکومت کے پاس اندرا کی مخالفت کے سوا اور کوئی لائحہ عمل نہیں تھا۔ 1980ء میں وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوگئی۔
1980ء میں ایک فضائی حادثے میں سنجے کی موت نے اُس کے چھوٹے پائلٹ بھائی راجیو گاندھی کو سیاست میں اپنی ماں کاجانشین بنے پر مجبور کردیا۔ 1984ء میں اندرا نے امرتسرکے گولڈن ٹیمپل پر قابض سکھ انتہا پسندوں کے خلاف ” آپریشن بلیوسٹار“ کیاجس کے نتیجہ میں سکھ اقلیت کے جذبات مجروح ہوئے اور انہوں نے بغاوت کردی۔ 1984ء میں اندرا کے سکھ باڈی گارڈس نے اُسے گولیاں مار کرہلاک کرڈالا۔
اندرا گاندھی نے اپنے ملک کوغربت اور مذہبی انتہا پسندی سے نجات دلانے کی سرتوڑ کوشش کی مگر ناکام رہی۔ اُس کاشورش سے بھرپور اور تضادات سے لبریزکیرئیر معاشی انصاف اور ثقافتی توازن کے لیے جدوجہد میں مصروف ایک نسبتاََ کم عمرملک میں جمہوری قیادت کے چیلنجوں کاعکاس ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے