Jahez Khori Band Kro

”جہیز خوری بند کرو“

Jahez Khori Band Kro

وقار اشرف
جہیز ہمارے معاشرے کاایک اہم سماجی مسئلہ ہے جس نے شادی جیسی چیز کو مشکل بنادیا ہے ،اچھے خاصے گھرانوں کی تعلیم یافتہ اور سلیقہ شعار لڑکیاں محض جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر وں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں اور ان کے بالوں میں چاندی اُترآتی ہے ۔اس سماجی مسئلے نے معاشرے کو بُری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔اس کے خلاف آواز تو بلند ہوتی آئی ہے لیکن اس فضول رسم کا معاشرے سے خاتمہ نہیں ہوسکا۔


اب صف اوّل کے شوبز ستاروں نے اس کے خلاف کمر کس لی ہے اور انہوں نے ”جہیز خوری بند کرو“
کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک باقاعدہ مُہم شروع کی ہے جس کا مقصد جہیز کے خلاف نوجوان نسل میں شعوراُجاگر کرنا ہے ۔”جہیز خوری بند کرو“دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈبن گیا ہے اور مختلف فنکاروں نے اس حوالے سے پوسٹیں بھی شےئر کی ہیں ۔

(جاری ہے)


”جہیز خوری بند کرو“کا سلو گن بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تحفظ نسواں کے پاکستان چیپٹر نے متعارف کروایا ہے جس میں شوبز ستارے اس سلوگن کو اپنے ہاتھوں پر ٹھپّے کی صورت میں لگا کر سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مُہم چلا رہے ہیں جن میں اداکار اسد صدیقی ،اداکار عدنان صدیقی،جگن کا ظم ،عائشہ عمر،اقراء،نورالحسن،ثنا جاوید ،احمد علی بٹ ،علی رحمان خان ،اُشنا شاہ ،یاسر حسین اور دیگر نمایاں ہیں ۔


اداکار عدنان صدیقی نے اس حوالے سے پوسٹ میں لکھا ہے کہ جہیز ایک ایسی آگ ہے جو بے شمار خواتین اور فیملیز کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔خواتین زندگی کے ہر شعبے میں آگے آرہی ہیں اور نام بھی کمار ہی ہیں تو پھر انہیں جہیز کے نام پر کیوں کچلا جارہا ہے ؟جہیز کی اس فضول رسم کو ختم کرنے کیلئے ہمیں آج کی نسل کو تعلیم یافتہ بنانا ہو گا۔آئیں ہم مل کر جہیز کے خلاف جہاد کریں اور خود سے بھی جہیز نہ لینے کا عہد کریں ۔


ماڈل اور اداکارہ عائشہ عمر نے پوسٹ کی ہے کہ آئیں اس ویڈنگ سیزن میں اس کے خلاف سخت موٴقف اپنائیں ،حقیقی مرد کبھی جہیز نہیں لیتے ۔اداکار علی رحمان خان نے پوسٹ کی ہے کہ جب ہم رشوت لینے والے کورشوت خور کہتے ہیں تو جہیز لینے والے کو ”جہیز خور“کیوں نہیں کہتے ؟یہ رسم ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے جسے اب ہمیں ختم کرنا ہوگا۔


ماڈل اور اداکار جگن کا ظم نے پوسٹ کی کہ اس سال کے ویڈنگ سیزن میں ہمیں صرف ایک چیز یاد رکھنی ہے کہ ”جہیز خوری بند کرو“۔ڈرامہ سیریل ”رومیو ویڈزہیر “کی ہیر ثناء جاوید نے اس حوالے سے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے کہا ہے کہ جو مرد بھی جہیز کا مطالبہ کرتے اور جہیز لیتے ہیں ہمیں انہیں جہیز خور کہنا چاہئے ،ان کے خلاف ہمیں اُٹھنا ہو گا۔


اداکارہ اُشنا شاہ نے پوسٹ کی کہ جو حقیقی مرد ہوتے ہیں وہ کبھی جہیز کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ وہ اپنی محنت سے سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں ،اب وقت آگیا ہے کہ اس بُرائی کا خاتمہ کریں ۔اداکار یاسر حسین نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ آئیں ہم وہ نسل بنیں جو جہیز خوری بند کرنے کا کریڈٹ لے گی۔
احمد علی بٹ ،ٹپو جویری،ٹرانس جینڈر ایکٹی وسٹ جنت علی سمیت اور بھی کئی ستاروں نے جہیز کے خلاف اس مُہم میں بھر پور شرکت کی ہے ۔

چےئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جہیز کے حوالے سے اپنے تاثرات سوشل میڈیا پر شےئر کئے ہیں ۔
پاکستان بد قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں قوانین تو موجود ہیں لیکن ان کا نفاذان کی اصل روح کے مطابق نہیں ہوتا۔جہیز بھی ایک ایسا سماجی مسئلہ ہے 1976ء کے ایک ایکٹ میں جہیز کی مد میں دےئے جانے والے سامان اور تحائف کی حدپانچ ہزار روپے مقرر کی گئی تھی ،بعدازاں 2016ء میں قومی اسمبلی نے اس قانون میں ترمیم کردی کہ پانچ ہزار روپے کی حد بہت کم ہے اس لئے شہری علاقوں میں یہ حد پچاس ہزار اور دیہی علاقوں میں بیس ہزار ہونی چاہئے لیکن اس قانون کا نفاذاب بھی کہیں نظر نہیں آتا یعنی قانون موجود ہونے کے باوجود نفاذ نہیں ہے اور لاکھوں روپے کا جہیز نہ صرف دیا جارہا ہے بلکہ بعض لڑکے والے تو باقاعدہ تقاضا کر کے لیتے ہیں ۔


ترمیم میں تو یہ بھی کہا گیا تھا کہ جہیز یا اس کی مد میں کسی قسم کا کوئی تقاضا کرنے والا بھی قابل گرفت ہوگا جس کی سزا کم از کم چھ ماہ قید اور دس ہزار روپے جرمانہ ہوگی لیکن یہ سب محض قانون کی کتابوں تک محدود ہے ۔جہیز معاشرے میں پنپنے والی ان فضول رسموں میں سے ایک ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوئی ہیں ،ہندو معاشرے میں اسے ”تِلک “کے نام سے جانا جاتا ہے ۔


اس رسم کو ختم کرنے کیلئے والدین کو بھی عہد کرنا ہوگا کہ وہ جہیز دیں گے اور نہ لیں گے ۔یہ شعوراُجا گر کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ جہیز مانگنا ہی جرم نہیں بلکہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر تحائف کے نام پر جہیز دینا یا اپنی جائیداد فروخت کرکے جہیز کے مطالبات پورے کرنا ایک اخلاقی جرم ہے جس کی وجہ سے سماج میں بے چینی بڑھ رہی ہے ۔نوجوان اس گھناؤنی رسم کو ختم کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔


شریعت میں جہیز دینے پر پابندی نہیں ہے لیکن حد سے تجاوز اور بے جا اسراف نے مسئلہ خراب کیا ہے ۔
آج ہم جہیز کے نام پر جو کچھ بیٹی کو دیتے ہیں وہ اسلام سے دوری کا شاخسانہ ہے ۔ہمیں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو کتنا جہیز دیا تھا ؟کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی کو جہیز نہیں دے سکتے تھے ؟انہوں نے ایک مخملی چادر ،چمڑے کا تکیہ جس کے اندر کھجور کی چھال بھری تھی ،دو چکیاں ،ایک مشکیزہ اور دو چھوٹے گھڑے دےئے تھے لیکن اس کے باوجود بھی جہیز کو سنّت کہنا درست نہیں ہے کیونکہ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو بیٹیوں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیا تو انہیں جہیز دینے کے حوالے سے کوئی روایت نہیں ہے ،البتہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہاردینا احادیث میں آتا ہے ،اگر جہیز دینا سنّت ہوتا تو آپ اپنی ساری بیٹیوں کو بلاتفریق جہیز سے نواز تے ۔


حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے وقت نہ تو حضرت علی رضی للہ عنہ کا اپنا کوئی ذاتی گھر تھا اور نہ کوئی سازو سامان ،جب نکاح کی خبر حضرت حارث بن نعمان رضی اللہ عنہ نے سُنی تو اپنی سعادت سمجھتے ہوئے بخوشی اپنا ایک گھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کور ہنے کے لیے پیش کردیا تھا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے ۔


لیکن آج جہیز کے حوالے سے معاشرے میں ایک دوڑ لگی ہوئی ہے اور ہر کوئی دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکر میں ہے ۔برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندواثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت کی شکل اختیار کرلی ۔ہندومعاشرے میں عورت کو نہ صرف باپ کی جائیداد سے محروم رکھا گیا بلکہ شادی کے بعد اگر اس کا خاوند فوت ہوجائے تو اسے بھی بعض اوقات اس کے ساتھ ستّی ہونا پڑتا یعنی آگ میں جلنا پڑتا ہے لیکن اسلام نے عورت کو سارے حقوق دےئے ہیں ۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-10

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Jahez Khori Band Kro" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.