بند کریں
خواتین مضامینمضامینجین گڈال(1934ء تا)

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جین گڈال(1934ء تا)
فطرت میں جانوروں پر تحقیق کے شعبے میں انقلاب بپا کردینے والی ماہر حیوانات۔ نسلیات جین گڈال نے اپنا طویل کیرئیر جانوروں کا طرز عمل سمجھنے کے لیے وقف کردیا۔
فطرت میں جانوروں پر تحقیق کے شعبے میں انقلاب بپا کردینے والی ماہر حیوانات۔ نسلیات جین گڈال نے اپنا طویل کیرئیر جانوروں کا طرز عمل سمجھنے کے لیے وقف کردیا۔ وہ جھیل تانگانیکا کے علاقہ میں چمپنزیوں پر اپنی چھ سالہ تحقیق کے لیے خاص طور پر شہرت رکھتی ہے۔ وہاں چمپنزیوں کے ایک گروپ کے ساتھ شناسائی پیدا کرنے کے بعد اُس نے جانوروں کے سماجی طرز عمل اور آپس میں بات چیت کے پیچیدہ نظام کے متعلق معلومات ریکارڈکیں۔ انسانوں سے نہایت قریبی تعلیق رکھنے والے جانوروں، یعنی چمپنزیوں پر گڈال کی وقت طلب تحقیق نے دونوں انواع کے درمیان سماجی، حیاتیاتی اور ثقافتی روابط کی انمول جھلکیاں بھی مہیا کیں۔
جین گڈال لندن میں پیداہوئی۔ وہ مورتیمرگڈال کی نامی بزنس مَین اور ریسنگ کار کے ڈرائیور اور ایک ادیبہ وانے (Vanne) جوزف گڈال کی بیٹی تھی۔ جین پچپن سے ہی جانوروں کے سحر میں گرفتار تھی اور مرغی کے ڈربے میں بیٹھ کرانڈوں میں سے چوزے باہر نکلنے کاانتظارکرتی رہتی۔ اُسے کسی سے تحفے میں ملنے والا ایک کھلونا چمپنزی بہت عزیز تھا، اور ڈاکٹر ڈولٹل کی لکھی ہوئی جانور کہانیاں بھی بڑے شوق سے پڑھتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جین اور اُس کی ماں انگلش ساحل پر بورن ماؤتھ میں رہائش اختیارکی۔ وہ اپنے والدین میں طلاق ہونے کے بعد بھی وہیں رہی۔ گڈال نے سکول کی تعلیم مکمل کی، سیکریٹری کے کورسز کیے اور یکے بعد دیگرے کئی ملازمتیں اختیار کیں۔
اُس کی آنکھوں میں افریقہ جانے کے خواب ہمیشہ موجود رہے ۔ 1957ء میں اُسے اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کا موقعہ مل گیا جب ایک دوست اُسے کینیا میں ایک فارم پر اپنے والدین سے ملاقات کے لیے بلایا۔ گڈال نے افریقہ میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا اور ماہر بشریات ڈاکٹرلوئس لیکی سے رابطہ کیا جواُس وقت ” نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری“ نیروبی میں کیوریٹر تھا۔ لیکی نے اُسے اسسٹنٹ سیکریٹری بنالیا اوراپنے ساتھ تحقیقی مہم پرجانے کی اجازت دی۔اگرچہ کام گڈال کوبہت پسند آیا لیکن اُس کی دلچسپیوں کااصل مرکز جانوروں کا مطالعہ ہی رہا۔لیکی نے گڈال کو مشورہ دیا کہ وہ تیزانیہ کے ایک جنگل میں رہنے والے چمپنزیوں کے گروہ پر تحقیق کرے۔ پروفیسر ہنری ڈبلیونسن جنگل میں چمپنزیوں کے طرز عمل پر اڑھائی ماہ تک ایک ابتدائی تحقیق کرچکا تھا۔ ان حیوانات رئیسہ کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے اتنا عرصہ بہت کم تھا۔ گڈال کو منصوبہ پسندآیا، لیکن اُس نے محسوس کیا کہ باقاعدہ تربیت کافقدان اس قسم کی سنجیدہ سائنسی تحقیق کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ لیکی نے اُسے قائل کرلیا کہ کسی سابقہ تھیوریزکابوجھ ذہن میں لیے بغیر یہ منصوبہ شروع کرنا اُس کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ اُسے جس چیز کی ضرورت تھی وہ اُس کے پاس موجود تھی: یعنی جانوروں کے بارے میں جاننے کی خواہش اور ہمدردانہ سمجھ بوجھ۔
1960ء میں جین گُڈال اپنی ماں کے ہمراہ گومبے سٹریم چمپنزی ریزرو میں چمپنزیوں کے ساتھ دو بدوئی کی مہم پر روزنہ ہوئی جو چھ سال تک جاری رہی۔ اُس نے تانگانیکا جھیل کے قریب ایک خیمے می رہائش اختیار کی اور ملیریا، سانپوں، کیڑے مکوڑوں اور چوری کے عادی بیبونز کے خطرات کا مقابلہ کیا۔ گُڈال نے کئی ماہ آس پاس کے گنجان اور غیر ہموار علاقے میں گھومتے ہوئے گزارے اور چمپنزیوں کی محض چند جھلکیاں ہی دیکھ سکی جو اُسے اپنی طرف آتے دیکھ کر بھاگ جاتے تھے۔وہ اپنے عزم اورحوصلے کے ساتھ ڈٹی رہی اور آخر کار چمپنزیوں کے ایک گروپ نے اُسے قبول کرلیا۔ اُس نے گروپ کے ہر چمپنزیوں کے بارے میں متعدد نئی اور مسحورکن دریافتیں کیں۔ اُس نے جانا کہ وہ سادہ سے اوزار بناتے اور استعمال کرتے ہیں، وہ خوراک کے لیے چھوٹے موٹے جانوروں کا شکار کرتے، برتری جتانے کی خاطر باقاعدہ فوج بنا کر لڑائیاں لڑتے اور شکار یا علاقے کا دفاع کرتے وقت بطور گروپ آپس میں تعاون بھی کرتے ہیں۔ گُڈال کے اپنے “ چمپنزیوں کے بارے میں ریکارڈز نے جنگلی چمپنزیوں کے حوالے سے پائے جانے والے قیاسات کو ختم کردیا، اور ساتھ ہی ساتھ سابقہ بیانات کو بھی درست کیا۔
گڈال اپنی فیلڈسٹڈی کے دوران کئی مرتبہ انگلینڈ آئی اور وہاں کیمبرج یونیورسٹی میں ethologyکے موضوع پر اپنی ڈاکٹریٹ پر کام شروع کیا۔ 1964ء میں اُس نے ڈچ فوٹو گرافر اور فطرت پسندہیو گوواں لاوک سے شادی کرلی۔ اُ دونوں نے مل کر گڈال کے چمپنزی گروپ کی تاریخ کاروزنامچہ لکھنا جاری رکھا۔ 1967ء میں اُن کے ہاں پیداہونے والے بیٹے ہیوگونے کیمپ میں پرورش پائی جو بعد میں ”گومبے سٹریم ریسرچ سنٹر“ بن گیا۔ 1970ء میں گڈال اور واں لاوک نے جنگلی کتوں، گیدڑوں اور لگڑبگڑوں کے بارے میں Innocent Killersکے عنوان سے ایک مشترکہ تحقیق شائع کی۔ ایک سال بعد گڈال چمپنزیوں پر اپنی تحقیق کا خلاصہ In the Shadow of Manکے نام سے شائع کیا جس میں اُس کے شوہر کی لی ہوئی تصاویر بھی شامل تھیں ۔ کتاب بے پناہ مقبول ہوئی، اور اس کی کامیابی نے گڈال کوعالمی سطح پر مشہور بنادیا۔ اُس نے اپنی شہرت سے فائدہ اُٹھا کرمحبوس اور جنگلی جانوروں کے ساتھ بہتر سلوک کی مہم چلائی۔ مگر گڈال نے ایک سیاست دان اور تنزانیہ نیشنل پارکس کے ڈائریکٹر ڈیرک Brycesonسے شادی کرلی۔ 1977ء یں اُس نے شکاریوں کی کارروائیوں اور جنگلی علاقوں کی تباہی سے جانوروں کو پہنچنے والے نقصان کے متعلق آگاہی دینے کی غرض سے ” جین گڈال انسٹی ٹیوٹ“ کی بنیاد رکھی۔ چمپنزیوں پر اُس کی دیگر تصنیفات میں مندرجہ ذیل شامل ہیں۔
The Chimpanzees of Gombe: Patterns of Behavior 1986
The Chimpanzees: The Living Link Between Man and Beast 1992اس میدان میں جین گڈال کے کام سے پہلے سائنس دانوں کویقین تھا کہ صرف انسان ہی پیچیدہ مہارتوں اور سماجی تنظیم کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اُس نے چمپنزیوں کے ہاں بھی ان صلاحیتوں کے موجود ہونے کا ثبوت پیش کردیا۔ گڈال کے کام نے جانوروں کے طرز عمل پر تحقیق کا طریقہ کاربدل کررکھا دیا اور انسانی خصوصیات کوبے مثال سمجھنے کے تصور میں بھی بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ گڈال کینظر میں چمپنزیوں کو بھی جنگل میں انسانوں کے ساتھ زندگی میں شریک ہونے کا حق حاصل ہے۔ یہ نظریہ جانوروں کے لیے اُس کے تاحیات محبت کا عکاس ہے۔ جیسا کہ اُس نے ایک بار انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا: میں لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ جانوروں کی بھی اپنی ضروریات ، جذبات اور احساسات ہیں․․․․ اُن کی بھی اہمیت ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے