Joan Ganz Cooney 1929 To

جوآن گانز کونی 1929 ء تا․․․․․

Joan Ganz Cooney 1929 To
10نومبر 1969ء کو امریکی پبلک ٹیلی ویژن پر بچوں کی تعلیمی پروگرامنگ میں ایک بالکل نئے انداز کے شو ”Sesame Streetُُ“ کا تعارف کروایاگیا۔ نوتشکیل شدہ چلڈرنز ٹیلی وژن ورک شاپ (CTW) کا تیار کردہ یہ پروگرام ادارے کی شریک بانی جو آن گانز کونی کی تخلیق تھا جو 1960ء کی دہائی میں ” بچوں کے ٹیلی وژن کی ویرزنی“ میں ایک ایسا پروگرام فراہم کرنا چاہتی تھی جو اُنہیں سکول جانے کی تیاری کروائے، اور بالخصوص غریب گھروں کے بچوں کو گنتی، زبان اور سمجھ بوجھ سکھانے کے ساتھ ساتھ آس پاش کی دنیا سے بھی آگاہ کرے۔

Sesame Street میں مزاح ، موسیقی اور ٹیلی وژن کی بصری سہولت کے ذریعہ تفریح اور تعلیم کویک جاکردیاگیا۔ شوکی اختراع پسندانہ تیکنیک، شائستہ گردو پیش اور ہر نسل پر مشتمل کاسٹ نے شروع سے ہی ناظری کی اکثریت کو اپنی جانب مائل کرلیا۔

(جاری ہے)

کوئی کے ةذن سے جنم لینے والا یہ زبردست پروگرام تقریباََ تیس برس بعد بھی ٹیلی وژن پر مقبول ترین اور مئوثر ترین تعلیمی پروگراموں میں شمار ہوتا ہے جسے بچے اور بڑے دونوں ہی شوق سے دیکھتے ہیں۔


جوآن گانزکونی کا تخلیق کردہ ادارہ ” چلڈرنز ٹیلی وژن ورک شاپ“ اُس کے اس راسخ یقین کی پیداوار تھا کہ عوامی میڈیاکو سماجی تبدیلی لانے کا ذریعہ بنایاجاسکتا ہے اور بنانا بھی چاہیے۔ 1951ء میں یونیورسٹی آف ایریزونا سے گریجوایشن کے بعد ( جہاں اُس نے تعلیمی مضامین میں اعلیٰ کارکردگی دکھائی) کونی نے ” ایریزوناری پبلک“ کے لیے ریورٹر کی حیثیت میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔

1954ء میں وہ نیویارک منتقل ہوگئی اور ٹیلی وژن پبلسٹی رائٹر کے طور پر کام کیا․․․․․ پہلے NBCاور پھر SBCکی ڈرامائی سیریز The United States Steel Hour کے لیے۔ 1962ء میں نیویارک تعلیمی سٹیشن WNDTکے لیے امور عامہ پر ڈاکومنٹریز بناناشروع کیں،اور 1966ء مین تین گھنٹے طویل ڈاکو منٹری Ppverty, Anti-Poverty, and the Poor کے لیے Emmy ایوارڈ جتیا۔
1966ء میں ہی کارنیگی کارپوریشن کے وائس پریذیڈنٹ لائیڈ موریسیٹ کی تجویز کونی سے بچوں کو سکول سے پہلے کی تعلیم دینے کے لیے پبلک ٹیلی وژن کے ممکنہ استعمالات پر تحقیق کی۔

اُس کی رپورٹ سے واضح ہوگیا کہ چھوٹے بچوں کے لیے ٹیلی وژن یعنی‘ دیواروں کے بغیر کلاس روم“ کی بہت زیادہ تعلیمی اہمیت ہے۔حساب لگایا گیا کہ بچے ہفتے میں اوسطََ چھ گھنٹے ٹیلی وژن دیکھتے تھے۔ نیشنل ایجوکیشن ایسوسی ایشن نے منظوری دی تھی کہ تمام بچوں کو چار سل کی عمر میں پبلک سکول میں داخلہ لینے کا موقعہ فراہم کرنا چاہیے۔کونی نے اس منظوری کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ اس قسم کا کوئی پروگرام کافی سستااور مفید ثابت ہوگا۔

1968ء میں اُس کی رپورٹ کی بنیاد پر متعدد فاؤنڈیشنز اور وفاتی حکومت کی فنڈنگ سے ” چلڈرنزٹیلی وژن ورک شاپ“ کاقیام عمل میں آیا۔حکومت پہلے ہی غریب اور مراعات سے محروم بچوں کے لیے شروع کیے گئے Project Head Start کی لاگت کم کرنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ رہی تھی۔
بچوں کے ماہرین کی سفارشات اور نرسریوں اور ڈے کیئرسنٹرزمیں بچوں کے رجحانات پر تفصیلی تحقیق کی بنیاد پر ایک نصاب کو حتمی شکل دینے کے بعد کونی اوراُس کے عملے نے Sesame Street کے آزمائشی پروگرام تیار کیے جنہیں فلاڈلفیا اور نیویارک سٹی کے ڈبے کیئر سنٹرز میں VHFچینل پر نشر کیا گیا۔

Sesame Street کی باقاعدہ نشریات کا آغاز 1969ء میں ہوا اور اس پر بڑے پرجوش تبصرے ہوئے ۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں ” ایجوکیشنل ٹیسٹنگ سروس“ اور اسی طرح کے دیگر گروپس کی تیار کردہ رپورٹوں سے پتہ چلا کہ Sesame Street بچوں کو سکول جانے سے پہلے کی تعلیم دینے میں نہایت مفید ثابت ہورہاتھا۔ بچے اس پروگرام کی مدد سے الفاظ اور اشیا کی پہنچان بڑی آسانی سے سیکھ لیتے تھے۔


Sesame Street کی کامیابی کے نتیجے میں CTWنے کچھ دیگر نہایت مئوقر تعلیمی پروگرام تیار کیے جن کا مقصد بچوں میں خصوصی صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا․․․․․ مثلاََ
مطالعہ کے لیے” The Electric Company“
سائنس کے لیے ”3-2-1 Contact“
ریاضی کے لیے ”Square One“
اور جغرافیہ کے لیے ” Wher in the World Camen Sandiego?“
نقادوں نے دلیل دی کہ CTWکے تفریحی طریقہ تعلیم کے باعث بچے یہ توقع کرنے لگتے ہیں کہ سکول بھی اُ نہیں اسی قسم کا تفریحی ماحول فراہم کرے گا۔

دیگر نے رائے دی کہ اگر ٹیلی وژن تعلیم د ے سکتا ہے تو پھر سکولوں کویہ کام چھوڑدینا چاہیے۔ جو آن گانزکونی کی نظر میں ذریعہ اور پیغام بہت پیچیدہ انداز میں باہم منسلک ہیں۔ جیسا کہ اُس نے ایک انٹرویو کے دوران کہا: اگر میں استاد ہوتی تو غور کرتی کہ بچے ٹیلی وژن پر کیا دیکھتے ہیں، اور پھرسکول میں بھی وہی چیز سکھانے کی کوشش کرتی۔ وہ ٹیلی وژن کو نہیں بلکہ اس میں دی جارہی تعلیم پر توجہ دیتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2016-04-20

Your Thoughts and Comments

Special Articles article for women, read "Joan Ganz Cooney 1929 To" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.