بند کریں
خواتین مضامینمضامینکمر درد

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کمر درد
عورتوں میں کمر درد نسبتاً مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یہ 15 سال سے 45 سال کی کمر کے درمیان عام ہوتا ہے۔ کمر کا زیادہ درد عورتوں کو ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں موٹی عورتیں جو چلنے پھرنے سے بیزار ہوتی ہیں ان کی کمر کے عضلات کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ کمر درد کی شکایت کرتی ہیں
عائشہ ذوالفقار:
کمر کادرد عام طور پر20 سال سے زائد عمر یا جن لوگوں کا وزن بہت زیادہ ہوتا ہے اگر یہ درد معمولی ہو تو تھوڑے عاصے بعد خود ٹھیک ہوجاتا ہے مگر شدید ہو تو دیگر مسائل کا باعث بنتا ہے۔
عورتوں میں کمر درد نسبتاً مردوں سے زیادہ ہوتا ہے یہ 15 سال سے 45 سال کی کمر کے درمیان عام ہوتا ہے۔ کمر کا زیادہ درد عورتوں کو ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں موٹی عورتیں جو چلنے پھرنے سے بیزار ہوتی ہیں ان کی کمر کے عضلات کمزور ہو جاتے ہیں اور وہ کمر درد کی شکایت کرتی ہیں۔ عورتوں میں کمر درد کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں۔ عورتوں میں کمر درد کی وجہ لمبر سٹرینز ( lumbar strain) ہوتی ہے اس وجہ سے انٹرورٹیبلر ڈسک (Intervertebral Disc) میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور سپائن سے نکلنے والی نالیوں پر پریشر بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے اٹھتے بیٹھتے کمر میں درد ہوتا ہے۔
ڈسک کی درد عام طور بلوغت کے ایام میں حیض کی بے قائدگی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے اس کا علاج نہ کیا جائے تو عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے۔ اکثر عورتوں میں کسی پریشانی اور جسمانی بیماری سے ڈپریشن کی بھی ایک خطرناک صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ مریضہ ہر وقت افسردہ رہتی، بھوک نہیں لگتی اور بے نوالی کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے کمر درد اور سر درد جیسے امراض جنم لیتے ہیں۔
باوٴل سنیڈروم (bowel syndrome) یہ کنڈیشن بھی ان عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے جو اکثر قبض اور بدہضمی کا شکار رہتی ہیں۔
پراسٹیٹ گلینڈ کی انفیکشن سے کمر کے نچلے حصے میں درد شروع ہو جاتا ہے گردوں کی پھتری بھی کمر کے درد کا باعث بنتی ہے۔ دفتری اوقات میں کرسی پر غلط انداز سے بیٹھتی ہیں اس سے کمر کے نچلے حصے میں درد ہوتا ہے اور مریضہ آسانی سے جھک نہیں سکتی۔ دوران حمل اکثر عورتیں کمزروی کا شکار ہو جاتی ہے تاہم فولاد، کیلشیماوروٹامن کی کمی سے بھی کمر درد جیسے مسائل پیش آتے ہیں۔ باوٴل سنڈروم کی بیماری اکثر جوان عورتوں کو ہوتی ہے جس سے قبض اور پیٹ درد جیسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں ان امراض کی شدت کمر درد کا باعث بنتی ہے۔
کمر درد کے ساتھ ساتھ ٹانگوں میں بھی درد شروع ہو جا تا ہے۔اور یہ درد آہستہ آہستہ کولہے کی طرف بھی محسوس ہوتا ہے، مریض کو سخت بے چینی ہوتی ہے مریض آسانی سے جھک نہیں سکتا۔ شدید درد کی صورت میں بخار بھی ہو جاتا ہے۔ کمردرد میں سر درد اور بے خوابی جیسے امراض بھی لاحق ہوجاتے ہیں۔ کرسی پر غلط انداز میں بیٹھنے ، الٹا سونے اور زیادہ دیر جھک کر کام کرنے سے بھی کمر درد کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ بچپن میں کسی چوٹ کی وجہ سے ڈسک متاثر ہو جاتی ہے اور بعد میں شدید کمردرد محسوس ہوتا ہے۔کیونکہ اگر ڈسک اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو نرو پر پریشر بڑھ جا تا ہے ، ٹانگ اورکمر کے عضلات کمزور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے کمر کو آگے پیچھے جھکانے سے شدید درد ہوتا ہے۔ کمر درد کی وجوہات میں ٹراما، پوسٹرل بیک پین، ڈپریشن، پیلوس میں سوزش اور دیگر ٹیومرز وغیرہ شامل ہیں۔
آسٹیو پروسس:۔
آسٹیو پروسس کو عام زبان میں ہڈیوں کے کھوکھلے ہونے کا مرض کہا جاتا ہے۔ خواتین اور مرد دونوں اس بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں لیکن یہ مرض مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ عام ہے اس بیماری کی جسم میں کوئی خاص علامات ظاہر نہ ہونے کی وجہ سے اسے خاموش بیماری کا نام دیا جاتا ہے جو جسم میں کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہڈیاں بہت زیادہ کمزور اور بھر بھری ہو جاتی ہیں، جن پر ہلکا سا دباوٴ پڑنے، کوئی وزنی چیز اٹھانے اور حتیٰ کہ کھانسنے سے بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ بیماری ویسے تو پورے جسم کی ہڈیوں پہ اثر انداز ہوتی ہے لیکن اس کا نمایاں اثر ریڑھ کی ہڈی کولہے کے جوڑ اورکلائی کی ہڈیوں پہ زیادہ پڑتا ہے۔

(11) ووٹ وصول ہوئے