Khawateen Bhi Labnig Karti Hain - Special Articles For Women

خواتین بھی لابنگ کرتی ہیں - خواتین کیلئے مضامین

منگل 21 اگست 2018

Khawateen Bhi Labnig Karti Hain

لابنگ، انگریزی زان کی معروف اصطلاح ہے جس سے مراد قانون سازی یا فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے کی کوشش یا خواہش ہے۔ سیاسی اور انتظامی اُمور میں کسی ایک فرد یا کسی گروہ کی جانب سے گروپنگ کر کے اپنے مخصوص مفادات یا مقاصد کے حصول کی ایک منظم کوشش کو ”لابنگ“یا ”کلیک“ کہا جاتا ہے ۔ خبروں اور تجزیوں میں ”لابنگ“ کا لفظ اکظر پڑھنے اور سننے کو ملتا ہے۔

دراصل عالمی سطح پر قانونی طریقے سے اپنے جائز کام نکلوانے کے لیئے با اثر شخصیات اور اداروں کی خدمات حال کرنا ایک ”اوپن سیکرٹ“یعنی کھلا راز ہے ،ان شخصیات یا اداروں کو ”لابسٹ“ کہا جاتا ہے۔ عالمی سیاست میں یہودی لابی، امریکی لابی ، سعودی لابی کی اصطلاح اکثر سننے میں آتی ہے جبکہ امریکہ میں آئے روز مقامی شہریوں کے ہاتھوں قتل عام کے واقعات کے تذکرے میں گن لابی کا چر چا بھی خوب ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

قانونی طور پر جائز ہونے کے باوجود موجودہ حالات میں لابنگ کی اصطلاح اکثر و بیشتر منفی معنوں میں استعمال کی جاتی بلکہ اسے کسی حد تک منفی پراپیگنڈے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سابق امریکی صدور اپنی بااثر شخصیت کے کیش کروانے کے لیے بطور لابسٹ کام کرتے ہیں۔ اسی طرح کئی نامور امریکی سینیٹرز بھی اس دھندھے میں ملوث ہیں۔ کہتے ہیں کہ لابی کی سیاست یعنی لابنگ کا آغاز برطانیہ سے ہوا جس کے بعد یہ روایت امریکہ پہنچ کر مزید مضبوط ہو گئی۔

عالمی سیاست میں لابی کی ضرورت چھوٹے ملکوں کو بھی ہوتی ہے اور بڑے ملکوں کو بھی۔ اسی طرح جاپان اپنی بر آمدی مصنوعات کا 37 فیصد، جنوبی کوریا40 فیصد اور تائیون 50 فیصد امریکہ بھیجتا ہے۔ اگر امریکہ کی قانون ساز اسمبلی یہ قانون پاس کر دے کہ غیر ملکی مصنوعات امریکہ میں داخل نہیں ہوں گی تو ان ملکوں کی اقتصادیات انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس لیئے ان ممالک کے نمائیندے امریکہ کے حکومتی حلقوں میں گھوم پر کر پتا کرتے ہیں کہ امریکی حکمران اپنی درآمدی پالیسی میں کوئی تبدیلی تو نہیں لارہے۔ بہر حال لابن کرنے کے لضروری ہوتا ہے کہ پہلے ایک باقاعدہ انٹر سٹ گروپ موجود ہویعنی جو لوگ بینی فیشری ہوں ، جنہیں اس کا فائدہ ہو سب سے پہلے وہ اپنا اکٹھ بنائیں اور پھر کسی ایسے فرد یا ادارے کا انتخاب کریں جو کچھ دے دلا کر ان کے مقاصد کے حصول میں مددگار ثابت ہو۔


اگر عالمی تناظر سے ہٹ کر صرف سرکاری اور نیم سرکاری یا نجی اداروں کے تنظیمی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کی جائے تو یہاں بھی ورکرز کے ہاں گروپ بندی نظر آتی ہے اور اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیئے یہ لابنگ بھی کرتے ہیں اور اپنے سے زیادہ با اثر افراد کی خدمات بھی کسی نہ کسی طور ضرور حاصل کرتے ہیں ۔ اگرچہ ہمارے ہاں چھوٹے اداروں مین پروفیشنل لابنگ کا کوئی رواج نہیں تاہم کسی سنیئر یا بااثر فرد کی پوزیشن سے فائدے کے بدلے میں تحفے تحائف اور دیگر کسی کی مراعات کا تبادلہ ضرور ہوتا ہے ۔

امریکہ کی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ورک پلیس پر تنخواہ میں اضافے کی غرض سے لابنگ کرنے والی خواتین میں دیگر کے مابلے میں من چاہی تنخواہ پانے کے امکانات پچاس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہر نفسیات انیلہ شیخ کے خیال میں سرکاری اور نجی دفاتر میں ”لابنگ“ کئی قصوص مقاصد کے تحت ہوتی ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مردوں کی دیکھا دیکھی آج کل ملازمت پیشہ خواتیں بھی دھڑلے سے لابنگ کرتی ہیں ۔

مخلوط ماحول والے دفاتر میں کہیں تو مردوں سے تنگ خواتین اپنے حقوق کی حفاظت کے لیئے لابنگ کا سہارا لیتی ہیں یعنی کبھی مردوں میں کسی بھی با اثر فرد کو اپنا ہم خیال بنا کر مقاصد حاصل کئیجاتے ہیں اور کبھی سبھی مردوں کو ظالم قرارد ے کر خواتین کے تحفظ اور استحصال کو بنیاد بنا کر ایک مضبوط دھڑا بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔کبھی کبھار صورتحال اُ وقت خاصی گھمبیر ہو جاتی ہے جب ایک ہی ادارے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ”پروفیشنل جیلسی “ یا دیگر مخصوص وجوہات کی بنا پر لابنگ شروع کر دیں۔

اس قسم کی لابنگ یا گروپنگ کو خاصی تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ متعلقہ شعبے کے دیگر افراد یہی سوچتے ہیں کہ شاید اس طرح اُن کے شعبے کے راز یا اندار کی باتیں ”لیک “ہو سکتی ہیں ۔ اس قسم کی لابنگ ہر حال مخصوص مقاصد کے تحت ہوتی ہے۔ خواتین کو اس بات کا کھوج لگانے کا بڑا شوق ہوتا ہے کہ ان کے دیگر کو لیگز کو کیا کیا مراعات مل رہی ہیں۔

مختلف شعبوں کی کولیگز سے تعلق بڑھانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس طرح ادارے کے مجموعی سیٹ اَپ اور آفس پالیٹکس کی مکمل جانکاری ملتی رہتی ہے اور کسی ایک شعبے میں پروموشن یا تنخواہوں میں اضافے کا علم ہوجائے تو باقی ماندہ شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کے لئے بھی اپنا ’حق ‘ مانگنا آسان ہو جاتا ہے ۔
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سماجی علوم سے وابستہ ڈاکٹر افشین محمود کہتی ہیں کہ پاکستان کے سماجی اور معاشی ڈھانچے کے تناظر میں بات کی جائے تو لابنگ کی وباء صرف مختلف پیشوں سے وابستہ مردوں مین ہی نہیں بلکہ ملازمت پیشہ خواتین میں بھی پوری طرح پھیل چکی ہے ۔

اگرچہ اس کی ابتداء جوائنٹ فیملی یا رشتہ داروں کی باہمی چپقلش اور حسد سے ہوتی ہے لیکن ورک پلیس یعنی کام کی جگہوں پر اپنی ملازمت کے تحفظ ، تنخواہ میں اضافے، من چاہی مراعات کے حصول اور دیگر مقاصد کے لیئے خواتین کے ہم خیال گروپ بننا اب عام سی بات ہے اور یہاں زیادہ تر ”کچھ دو۔۔۔کچھ لو“ کی بنیاد پر ہی لابنگ ہاتی ہے۔ اگر تعلیمی اداروں کی بات ہی کی جائے تو پرنسپل کو قابوں میں رکھنے کے لئے بعض اوقات کسی سنیئر موسٹ ٹیچر ز کی سربراہی میں کئی ٹیچرز ایکا کر لیتی ہیں، دلے میں سینئر موسٹ ٹیچر کو مستقبل میں بطور پرنسپل سپورٹ ملنے کی یقین دھانی کروائی جاتی ہے۔

چھٹیوں کا معاملہ ہو یا من پسند جگہ پر تعیناتی، اے سی آر لکھوانی ہو یا کوئی کسی اور مقصد کا حصول سنیئر موسٹ ٹیچر کی شہہ پر پورا گروپ کسی کو کھانسنے نہیں دیتا۔ اس طرح کا گروپ اکثر ایک ساتھ اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ کھانے پینے اور باہر کہیں آنے جانے سمیت سبھی معاملات میں گروپ کا ایک ہی موٴقف ہوتا ہے، یہی صورتحال باقی اداروں میں بھی ہوتی ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-08-21

Your Thoughts and Comments

Special Special Articles For Women article for women, read "Khawateen Bhi Labnig Karti Hain" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.