بند کریں
خواتین مضامینمضامینخواتین انصاف سے محروم

مزید مضامین

پچھلے مضامین -
خواتین انصاف سے محروم
سرگودھا اور ڈیرہ غازیخان میں درندگی کا شکار۔۔۔ بااثر افراد کی طرف سے غریب، کمیوں اور بے سہارا خواتین سے زیادتی کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں مگر قانون ان درندوں کا آج تک کچھ نہیں بگاڑ سکا
صابر بخاری:
ہمارے ہاں قانون تو موجود ہے مگر یہ صرف کمزور اور ناتواں لوگوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ جبکہ بااثر طبقہ اس کا خوب استعمال کرتا ہے۔ بااثر افراد کی طرف سے غریب، کمیوں اور بے سہارا خواتین سے زیادتی کے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں مگر قانون ان درندوں کا آج تک کچھ نہیں بگاڑ سکا اور بااثر لوگ بغیر کسی روک ٹوک کے آج بھی حوا کی بیٹیوں کی عزتوں سے کھیل رہے ہیں۔ مگر قانون نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ قارئین میں آپ کو دو واقعات کے بارے میں بتاتا ہوں کہ کیسے درندہ صفت بااثر افراد نے دو غریب خواتین کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور قانون ان پیسہ والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکا ان میں سے ایک ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے شاکر ٹاوٴن کی رہائشی 19 سالہ یتیم لڑکی (ص) کو درندہ صفت افراد نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا اور پولیس نے سات ماہ بعد اس وقت جائے وقوعہ کا معائنہ کیا جب اس نے تھانہ دراہمہ کے سامنے آگ لگا کر خود سوزی کی کوشش کی۔وقوعہ کے مطابق تقریباً سات ماہ قبل مدثر، نذراور ایک نامعلوم شخص نے ٹائر مارکیٹ مسلم ٹاوٴن سے (ص)کو اغواء کیا اور موضع صبرہ ناچہ کے نزدیک ایک ویرانے مکان میں قید رکھا جہاں پر ملزمان کے علاوہ کریم بخش کھوسہ، محمد عمر بھی زبردستی اس سے بد اخلاقی کرتے رہے اور فحش ویڈیوز سمیت تصاویر بھی بنالیں چند روز بعد کریم بخش اور عمر نے اسے رات کی تاریکی میں ٹائر مارکیٹ چھوڑ دیا اور کہا کہ اگر کوئی کارروائی کی کوشش کی تو اس کی ویڈیو انٹرنیٹ پر چھوڑ دینگے۔ وقوعہ کی اطلاع واندراج مقدمہ کی درخواست گزاری توسابق ایس ایچ او حافظ نور نے کارروائی کی بجائے لیت ولعل سے کام لئے رکھا اور میڈیکل بھی نہ کرایا (ص)قانونی کارروائی کیلئے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوئی تو انہوں نے ایس ایچ او دراہمہ کو واضح الفاظ میں کارروائی کے احکامات دےئے۔وہ تھانہ دراہمہ میں تعینات غلام اکبر سب انسپکٹر کے پاس جب اپنی والدہ کے ہمراہ گئی تو اس نے کارروائی تو ایک طرف سب کو تھانے کے کمرے میں بند کر دیا جن کو بیلف نکے ذریعے تھانہ دراہمہ سے برآمد کرایا گیا۔ لڑکی کے بیان پر دراہمہ پولیس نے ایف آئی آر کے لئے دی گئی درخواست میں پانچ نامزد ملزمان کیخلاف زیر دفعہ 376 ت پ کے تحت مقدمہ درج کیا جبکہ لڑکی کے بیان کوغلط ملط کرکے ایف آئی آر کا متن بنایا گیا۔ اسی طرح حصول انصاف کیلئے آنیوالے افراد کو محبوس رکھنے پر سیشن جج کے حکم پر مقدمہ نمبر191/14 زیردفعہ342 ت پ غلام اکبر سب انسپکٹر کیخلاف درج ہوا جو تاحال تھانہ دراہمہ میں موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمان نذر اور مدثر سب انسپکٹر غلام اکبر کے قریبی عزیز ہیں پولیس نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ تو ملزمان کو گرفتار کیا اور نہ ہی ڈی این اے ٹیسٹ پر کوئی توجہ دی۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایف آئی آر کا اندرادج 7ماہ قبل ہوا لیکن پو لیس لڑکی کی خو د سو زی کے بعد جائے وقو عہ پر پہنچی جس سے پو لیس تفتیش کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پولیس نے اپنی تفتیش میں ایف آئی آر کے تین نامزد ملزمان بے گناہ کر دےئے جس پر بد اخلاقی کا شکار ہونیوالی 19 سالہ صائمہ اقبال نے خود پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جسے انتہائی تشویشناک حالت میں ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ لایا گیا ڈاکٹروں نے متاثرہ لڑکی کی حالت کو دیکھتے ہوئے اسے نشتر ہسپتال بھجوایا لیکن علاج معالجہ کیلئے رقم نہ ہونے کی وجہ سے یتیم لڑکی کو علاج معالجہ میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
دوسری واردات میں ضلع سرگودھا کی تحصیل ساہیوال کے علاقے عباس پور بھٹہ کالونی کوٹ محمد یار کی غریب 4بچوں کی ماں (ز) کو مقامی بااثر افراد نے گھر میں گھس کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ وقوعہ کے مطابق 20اگست کی رات (ز) اپنے چار بچوں کے ہمراہ گھر کے صحن میں سو رہی تھی (ز) کا دیور ممتاز ولد فتح محمد بھی گھر پر موجود تھا جبکہ اس کا خاوند خضر حیات شادی پر گیا ہوا تھا۔ ملزم ممتاز ولد نور الٰہی دودھ کا کاروبار کرتا ہے۔ ممتاز علی 20 اگست کی رات دیوار پھلانگ کر خضر حیات کے گھر گھس گیا۔ (ز) نیند میں تھی۔ ملزم نے نشہ آور چیز کھلا کر (ز) کو بے ہوش کر دیا۔ اور اندر کمرے میں لے جا کر بداخلاقی کی۔ اس دوران (ز) کا دیور اور بچے جاگ گئے جن کے شور مچانے پر محلے دار اکھٹے ہو گئے۔ جب (ز) کو ہوش آیا تو اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔ محلے دار وں نے ملزم ممتاز کو موقع سے پکڑ لیا۔ گھر کے باہر پہرہ دینے والے ملزم کے ساتھیوں نے ممتاز کے بھائیوں کو جا کر بتایا جو اسلحہ سے لیس ہو کر زیادتی کا نشانہ بننے والی (ز) کے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے متاثرہ افرزد کو فائرنگ کی تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکیاں دیں۔ اسی دوران محلہ داروں نے 15 پر کال کر دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر 3 افراد کو گرفتار کر لیا اور ان کے پاس موجود 2 رائفلیں بھی قبضہ میں لے لیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا جس کا نمبر 325/14 ہے۔ ایس ایچ و تھانہ صدر ساہیوال نے ایک نامزد ملزم امانت علی کو چھوڑ دیا۔ میڈیکل رپورٹ میں بھی (ز) سے بداخلاقی کی تصدیق ہو گئی ہے۔ پولیس نے نامزد دس افراد میں سے ابھی تک موقع سے گرفتار 3افراد کو ہی اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور کارروائی کو آگے نہیں بڑھا رہی۔ مدعی ممتاز کے مطابق ملزم بااثر ہیں جبکہ ہم غریب لوگ ہیں۔ وہ ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ہم نے اپنے بچوں کو بھی سکول سے نکلوا لیا ہے۔ مدعی نے وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ترجمان پنجاب پولیس نبیلہ غضنفر کے مطابق دونوں کیسز میں متعلقہ ڈی پی اوز کاروائی کر رہے ہیں اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ آئی جی پنجاب بھی باقاعدہ رپورٹس منگوا رہے ہیں۔آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کرائم سین بداخلاقی وغیرہ کی صورت میں ڈی پی اوز کوخود موقع پر پہنچے کی ہدایت کی ہے۔ٹیسٹ بھی فوراً ہونگے۔آئی جی نے ڈی پی او، ایس ایچ او اورمحرر کو ہدایت کی ہے وہ ہر صورت میں پبلک کال اٹینڈ کریں۔

(4) ووٹ وصول ہوئے