بند کریں
خواتین مضامینمضامینخواتین کا عالمی دن

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خواتین کا عالمی دن
کیا یہ سال خواتین کی حالت بدل دے گا ؟ خواتین ہماری آبادی کا نصف ہے زائد حصہ ہیں اس کے باوجود خواتین کے حقوق ادا نہیں کئے جاتے۔ ملکی سطح پر خواتین کی تعمیر و ترقی کے لیے جتنے بھی اعلانات کئے جاتے ہیں ان کے نصف پر بھی عمل نہیں کیا جاتا
کائنات اعجاز :
8 مارچ 2016 کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ مختلف تنظیموں اور اداروں کی جانب سے اس دن کی مناسبت سے مختلف تقریبات، اجلاس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جو معاشرے خواتین سے حقوق کے حواے سے آگاہی کی ایک کوشش ہے جن کی مدد سے عالمی برادری کی ترقی میں خواتین کے کردار کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنا اور تسلیم کرنا ہے۔
خواتین ہماری آبادی کا نصف ہے زائد حصہ ہیں اس کے باوجود خواتین کے حقوق ادا نہیں کئے جاتے۔ ملکی سطح پر خواتین کی تعمیر و ترقی کے لیے جتنے بھی اعلانات کئے جاتے ہیں ان کے نصف پر بھی عمل نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ یہ بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی خواتین کی سماجی اہمیت دوسرے درجے کے فرد جیسی ہے۔ یہ حقیقت ایک عالمگیر سچائی کی صورت میں سامنے آچکی ہے کہ وہی معاشرے بہتر طور پر ترقی کر سکتے ہیں جن میں خواتین کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے ان کو برابری کے حقوق دیئے گے ہیں۔ اسلامی معاشرے نے عورت کو وہ حقوق دئیے جن کا دور جاہلیت میں تصور بھی محال تھا۔ ظہور اسلام سے پہلے اہل عرب اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے خصوصاََ لڑکیوں کی پیدائش کو اپنے لیے باعث ننگ وعار سمجھ کر زندہ درگور کرنا عزت وبہادری کی علامت سمجھتے تھے۔ نبی رحمت ﷺ کی تشریف آوری کی بدولت ان بے قصور جانوں کو بھی زندہ رہنے کا حق ملا۔
پاکستان ایک اسلامی ملک ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ اسلامی ملک کے باوجود یہاں خواتین کو وہ حقوق حاصل نہیں جس کا دین اسلام میں کہا گیا ہے اسی لیے ہمارے معاشرے کو مردوں کا معاشرہ کہا جاتا ہے اور مختلف رسوم ورواج کے نام سے خواتین کا استحصال جاری رہتا ہے۔ سندھ میں کاروکاری کے نام پر عورتوں کو قتل کیا جاتا ہے جبکہ پنجاب اورسرحد میں ونی اور سورہ جیسی رسموں کے تحت کم سن بچیوں کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے ۔ کہیں چولہا پھٹ جاتا ہے تو کہیں تیزاب پھینک کر چہرہ بگاڑ دیا جاتا ہے۔ عورتوں کی سمگلنگ بھی ایک منظم پیشہ کا روپ دھار چکی ہے اب تو خیر سے حکمران بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ عورتوں نے کئی بار یہ ثابت کیا ہے کہ زندگی کی گاڑی کورواں رکھنے میں وہ کسی طور پر مرد سے کم نہیں ہے۔ اس نے ہرمیدان میں جو ہر دکھائے ہیں۔ سیاسست کامیدان ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی کا ،کھیل کامیدان ہو یا میڈیکل کی پیچیدہ ریسرچ ہو عورت نے ہر میدان میں اپنی اہمیت کا لوہا منوایا ہے۔ بلقیس ایدھی کا نام خدمت خلق کے شعبے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو سیاست کے میدان میں محترمہ فاطمہ جناح ، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم نصرت بھٹو، محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور بیگم کلثوم نواز نے اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ ایک عرصہ تک نظر انداز کیے جانے کے بعد اب خواتین کو ترقی کے دھارے میں لانے کیلئے کچھ سنجیدہ کوششیں ضرور ہوئی ہے۔ خواتین کے اس دن کے موقع پر ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اس کو ایک دن کو مناکر بھول جائیں گے بلکہ ہر عورت کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے ہمہ وقت مصروف عمل رہیں گے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کی ترقی کے حوالے سے ہم اپنے کردار کو محض دعووٴں اور وعدوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کئے جائیں۔ ایسا کرتے ہوئے یہ بات ثابت پیش نظر رہنی چاہیے کہ خواتین کی حالت بہتر ہوگی تو وہ سماجی وہ معاشرتی ترقی میں بہتر اور فعال کردار ادا کر سکیں گی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے